قومی زبان

زرد پتوں کی یہ رت کیا کیا نہ سمجھائے مجھے

زرد پتوں کی یہ رت کیا کیا نہ سمجھائے مجھے ہر تھکا ہارا شجر آئینہ دکھلائے مجھے دیر تک مہکا کیا ویرانۂ کنج خیال اس سے مل کے موتیے کے پھول یاد آئے مجھے اپنی گہرائی کا مجھ کو خود بھی اندازہ نہیں خود میں جب ڈوبوں سمندر سا نظر آئے مجھے گردش تقدیر کے کچھ ہیں مسلسل دائرے ہر جنم میرا ...

مزید پڑھیے

جو تھے اڑان پہ طائر وہی شکار ہوئے

جو تھے اڑان پہ طائر وہی شکار ہوئے یہ سانحے بھی عجب تھے جو بار بار ہوئے ہماری آنکھوں کے حلقے ریاضتوں کے گواہ ہمی خرابیٔ قسمت کے ذمے دار ہوئے صبا نے جھاڑا بھی دامن تو کیسے پھولوں پر جو ضبط حال میں بکھرے نہ مشک بار ہوئے تمام عمر اسی حادثے کا ساتھ رہا ادھر مکان بنایا کہ سنگسار ...

مزید پڑھیے

مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی رات

مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی رات آ مرے چاند کے ٹکڑے مرے گھر آج کی رات راہ بھول آیا ہے اک چاند ادھر آج کی رات کیسی گھر بیٹھی ہے دولت مرے گھر آج کی رات یار آیا نہیں کیوں کر ہو بسر آج کی رات تا قیامت نہیں ہونے کی سحر آج کی رات آپ سے آپ وہ آئے مرے گھر آج کی رات دین و دنیا کی نہیں ...

مزید پڑھیے

میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتا

میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتا ہر پری زاد کو دیوانہ بنایا ہوتا تو جو روشن مرا کاشانہ بنایا ہوتا منہ ہر اک شمع سے پروانہ بنایا ہوتا ہار تو اس کے گلے کے نہ بنے اشک مرے دل کو بالے ہی کا دردانہ بنایا ہوتا دیکھی مسجد کی بنا میں نے یہ دل میں سوچا کاش اس جا کوئی مے خانہ بنایا ...

مزید پڑھیے

تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتے

تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتے جو تیرے در پہ ہیں وہ در بدر نہیں جاتے وہ آئیں گے کبھی کوٹھے پہ امتحاں کر لو فلک سے بھاگے تو شمس و قمر نہیں جاتے مسیح و بو علی سینا کی کیا ہوئی تشخیص کسی علاج سے داغ جگر نہیں جاتے گلے لگاتے ہیں ان کو بہانے رخصت کے چلے شراب کہ اب ہم سفر نہیں ...

مزید پڑھیے

سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہار

سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہار تو ہے قبلہ تو ہے کعبہ تو ہے ایمان بہار میرے رونے سے ہوئی فصل گلستان بہار ہو گیا میزاب دیدہ میر سامان بہار سرو کو جوگی سمجھ کر فال کھلوانے لگی کیا خزاں میں رہتے ہیں بلبل کو ارمان بہار شاخ گل جنبش کہاں کرتے ہیں متوالوں کی طرح بلبلوں کے بوسے لے ...

مزید پڑھیے

قبول کیجیے انکار کا مقام نہیں

قبول کیجیے انکار کا مقام نہیں یہ جام مے ہے پری وصل کا پیام نہیں عجیب ہے یہ سراپا کمر کا نام نہیں کچھ ان کی بے دہنی میں مجھے کلام نہیں ہے کون شیخ و برہمن جو دل سے رام نہیں تمہارا دیر سے کب تا حرم خرام نہیں لیا جو مول زلیخا نے ماہ کنعاں کو کہا جمال نے صاحب ہوں میں غلام نہیں بہک نہ ...

مزید پڑھیے

میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہوا

میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہوا چشم مخمور سے مخمور ہوا خوب ہوا شعلۂ آہ مرا نور ہوا خوب ہوا ان کا گیسو شب دیجور ہوا خوب ہوا نکہت زلف سے مسرور ہوا خوب ہوا سانپ کے زہر سے مخمور ہوا خوب ہوا سر جو قدموں پہ رکھا ہاتھ سے سرکا نہ دیا عجز پر میرے وہ مغرور ہوا خوب ہوا آئے پریوں کے پرے وصف ...

مزید پڑھیے

لذت ہجر نے تڑپایا بہت رسوا کیا

لذت ہجر نے تڑپایا بہت رسوا کیا توڑ کر پھینکا مرے ضبط کو گم گشتہ کیا آنکھ سے ٹوٹ کے برسا مرے خوابوں کا لہو دل کی دہلیز پہ تنہائی نے جب سجدہ کیا میں وہاں رہ گیا دیکھا مجھے لوگوں نے یہاں ہائے تقسیم مجھے عشق نے یہ کیسا کیا آگہی بخش کے ترتیب دیا پہلے مجھے عشق نے روح کو اس جسم سے پھر ...

مزید پڑھیے

جو لکھنا چاہا نہ لکھ پایا میں خدا افسوس

جو لکھنا چاہا نہ لکھ پایا میں خدا افسوس سو رہ گیا مری تحریر میں خلا افسوس ہر ایک خواب کو اشکوں سے دھار کر میں نے جو دیکھا دل تو دکھا جا بجا پڑا افسوس بساط جاں میں رہا رقص خواہشوں کا مگر چھلک کے آنکھوں سے اشکوں نے کہہ دیا افسوس عجب نہیں ہے تو کیا ہے کوئی بتائے مجھے یہاں پہ جو بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2292 سے 6203