قومی زبان

فلسفۂ حیات

زندگی کیا ہے پیار ہے محبت ہے حسن ہے حقیقت ہے عشق ہے عبادت ہے علم ہے دانائی ہے قلندری ہے سکندری ہے نعمت ہے اور رفعت ہے آئنہ ہے سراب ہے کل ہی کی تو بات ہے زندگی زندگی سے مل رہی تھی گلے آج موت سے ہمکنار ہے زندگی کیا ہے ایک فلسفۂ‌ حیات ہے

مزید پڑھیے

فرق

میں بھی پیدا ہوئی وہ بھی پیدا ہوا میں آئی تو خوشیاں بہت تھیں مگر وہ آیا تو شادیانے بجے میں فکر ماں باپ تھا وہ فخر‌ ماں باپ تھا میں غم خوار تھی وہ جلالی بہت تھا میں فرماں بردار تھی وہ باغی بہت تھا میں زمیں تھا وہ آسماں تھا میرا بچپن چھینا گیا اس کو بچہ سمجھا گیا میں خطا‌ وار تھی ...

مزید پڑھیے

رفتار

زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی ایک دن ہواؤں نے زور پکڑا طوفان آ گیا باغ کے سارے پیڑوں کو ہلا گیا ہوائیں شائیں شائیں کرتی رہیں چھوٹے بڑے پودے چنگھاڑتے رہے پیڑ جھوم جھوم کر نڈھال ہو گئے اور آخر کار تھک کر بے حال ہو گئے اچانک زور کی چرچراہٹ ہوئی باغ کا سن رسیدہ درخت زمیں بوس ہو ...

مزید پڑھیے

جشن آزادی

جھگیوں پر ٹاٹ کے پردے پڑے تھے فٹ پاتھ پر قطار پہ قطار ڈھانچے پڑے تھے کالے پیلے آسیب زدہ چہرے کھڑے تھے پھٹے پرانے جسم پر لتے پڑے تھے دھول سے ان کے چہرے اٹے پڑے تھے ہاتھ خالی پیٹ خالی روٹیوں کے لالے پڑے تھے میرے ملک کے یہ بچے متوالے بڑے تھے بھارت ماں کی جے کے نعرے لگے تھے کہ یہ ...

مزید پڑھیے

تھک گیا جب جسم و جاں کے بوجھ کو ڈھوتے ہوئے

تھک گیا جب جسم و جاں کے بوجھ کو ڈھوتے ہوئے چل دیا وہ موت کے آغوش میں سوتے ہوئے مجھ کو پڑھنا تھا کہ پورے خواب اپنے کر سکوں بیچ آیا مفلسی کا واقعہ روتے ہوئے آنکھ بھر آتی ہے جب دیکھوں وہ بچہ ریل میں وہ کھلونے بیچتا ہے بچپنا کھوتے ہوئے میں بڑی ہوں یہ انا بھی گر پڑی تھی تب مری جب مرا ...

مزید پڑھیے

اس صدی میں تو صداقت پر ستم ایسا ہوا ہے

اس صدی میں تو صداقت پر ستم ایسا ہوا ہے پاؤں چھوڑو پر پسارے چھل کپٹ پھیلا ہوا ہے ہاں دھوئیں پہ قتل کا الزام آئے گا یقیناً کیونکہ یہ ہر مرتبہ کچھ خاک کر پیدا ہوا ہے اک طرف رکھی محبت اک طرف ہے فکر یعنی اک ترازو میں وزن کا ایک ہی پلڑا ہوا ہے دیکھتے ہیں بت سبھی یہ مسئلہ حیران ہو کر کس ...

مزید پڑھیے

مرا دل سنگ دل نے دل کا ارماں بن کے لوٹا ہے

مرا دل سنگ دل نے دل کا ارماں بن کے لوٹا ہے غضب ہے خانۂ الفت کو مہماں بن کے لوٹا ہے کیا اندھیر ظالم نے بجھا کر شمع الفت کو امیدوں کی سحر کو شام ہجراں بن کے لوٹا ہے جھلک دکھلا کے جس نے نیند آنکھوں کی اڑائی تھی اسی نے نقد دل خواب پریشاں بن کے لوٹا ہے زبان عشق میں جس کو کہیں گے دشمن ...

مزید پڑھیے

دل کے موسم کو کسی طور سہانا کر دے

دل کے موسم کو کسی طور سہانا کر دے زندگی کرنے کا کوئی تو بہانا کر دے ہم کو یہ شہر ہوس کاٹ رہا ہے کب سے ہم فقیروں کا کہیں اور ٹھکانا کر دے مانگنے چل تو دئے اس سے دل اپنا واپس وہ مگر پھر نہ کوئی تازہ بہانا کر دے عہد نو راس کب آیا ہمیں بھی یا رب اس نئے وقت کو پہلے سا پرانا کر دے جو ...

مزید پڑھیے

معجزہ یہ بھی دکھایا میں نے

معجزہ یہ بھی دکھایا میں نے اپنے قاتل کو رلایا میں نے خود ہی زخموں سے سجایا دل کو اور پھر جشن منایا میں نے زیست بے نور ہوئی جاتی تھی پھر لہو دل کا جلایا میں نے چاند اور پھول ہی کیا ہر شے میں بس ترا عکس ہی پایا میں نے تیری یادوں کو سجا کر دل میں اک صنم خانہ بنایا میں نے شہر احساس ...

مزید پڑھیے

مدت ہوئی ہے وہ مرا مہماں نہیں ہوا

مدت ہوئی ہے وہ مرا مہماں نہیں ہوا گھر میں اسی سبب سے چراغاں نہیں ہوا شامیں اداس راتیں بھی بے نور ہیں بہت وہ مدتوں سے بزم نگاراں نہیں ہوا آئے گا وہ ضرور مری انجمن میں پھر دل میرا اس لیے بھی ہراساں نہیں ہوا میری انا نے راہ میں دیوار کھینچ دی اس بار بھی سفر مرا آساں نہیں ہوا اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2188 سے 6203