قومی زبان

لخت دل بکھرا جدھر بھی نقش جاناں بن گیا

لخت دل بکھرا جدھر بھی نقش جاناں بن گیا غم اضافے کے لیے جیسے کہ ساماں بن گیا خط جگر گھائل کرے اور پھول ڈھائے ہے ستم زخم یعنی اک کریدے اک نمکداں بن گیا صرف اک ہی دل ملا تھا اک ستم یہ ہی ہوا اور پھر یہ بھی ستم وہ ہی پریشاں بن گیا دل کریں دل میں بناؤں نور سے خورشید کے کیا مصیبت ہے ...

مزید پڑھیے

وقت خود کا خود بخود ہی اب ہمیں لانا پڑے گا

وقت خود کا خود بخود ہی اب ہمیں لانا پڑے گا ولولے میں آ کے ہم کو خون مہکانا پڑے گا تیرگی تقدیر کی گر ختم کرنی ہے ہمیں تو پھر ہمیں اپنا ستارا آپ چمکانا پڑے گا زندگی کا لطف اٹھانے کی اگر خواہش ہے دل میں تو جوانی میں ہمیں کچھ بچپنا لانا پڑے گا گر نجومی کوئی پڑھ سکتا ہے ہاتھوں کی ...

مزید پڑھیے

وصل میں بھی ہجر کو محسوس کر کے آ گئے ہم

وصل میں بھی ہجر کو محسوس کر کے آ گئے ہم دل لگانے کو گئے تھے آنکھ بھر کے آ گئے ہم ٹوٹنا پھر آنکھ بھرنا کر رہے ہیں ہم مسلسل موت سے پہلے ہی کتنی بار مر کے آ گئے ہم بزم میں پوچھا کسی نے بے وفا کا نام کیا ہے اور اس کے نام سے دیوار بھر کے آ گئے ہم بات ہے معیار کی تو میکدے جاتے نہیں ہیں پر ...

مزید پڑھیے

یوں لوگ چونک چونک کر انگلی اٹھائے ہیں

یوں لوگ چونک چونک کر انگلی اٹھائے ہیں جیسے ہم آج پہلے پہل مسکرائے ہیں اکثر کھلی فضاؤں میں بھی سنسنائے ہیں ہم پر ہمارے گھر نے وہ پتھر چلائے ہیں اے موج گل ادھر کا ابھی رخ نہ کیجیو کچھ لوگ تازہ تازہ بیاباں میں آئے ہیں محرومیوں کے زہر سے ہم کب کے مر چکے یہ تو اب اپنے جسم کا لاشہ ...

مزید پڑھیے

بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں ہم پھر بھی وہ ظالم ہیں کہ جینے پر اڑے ہیں غم سے جو بلند اور مسرت سے بڑے ہیں ایسے بھی کئی داغ مرے دل پہ پڑے ہیں تاریخ کے صفحوں پہ جو انسان بڑے ہیں ان میں بہت ایسے ہیں جو لاشوں پہ کھڑے ہیں کیا کیا نہ ہمیں گھر کی اداسی سے گلہ تھا اب شہر سے نکلے ہیں تو ...

مزید پڑھیے

دل خلوص گزیدہ کو کوئی کیا جانے

دل خلوص گزیدہ کو کوئی کیا جانے میں چاہتا ہوں کہ دنیا مجھے نہ پہچانے سنو نہ میری شکستہ دلی کے افسانے کہ میرے سامنے توڑے گئے ہیں پیمانے جو کہہ رہا تھا تو کچھ بھی سنا نہ دنیا نے جو چپ ہوا ہوں تو بننے لگے ہیں افسانے وہ غم سمیٹ لیے میں نے زندگی کے لیے تری نگاہ کرم بھی جنہیں نہ ...

مزید پڑھیے

کچھ دور ساتھ گردش شام و سحر گئی

کچھ دور ساتھ گردش شام و سحر گئی پھر اس کے بعد زندگی جانے کدھر گئی اپنوں کی بے وفائی بڑا کام کر گئی اس آگ میں حیات تپی اور نکھر گئی بیداریٔ بہار نظر ہی کی دیر تھی پھر جو بھی چیز سامنے آئی سنور گئی اب کوستا ہوں پختگیٔ تجربات کو جو مجھ کو ہر عزیز سے بیگانہ کر گئی اللہ رے جنون تجسس ...

مزید پڑھیے

پھوٹ چکی ہیں صبح کی کرنیں سورج چڑھتا جائے گا

پھوٹ چکی ہیں صبح کی کرنیں سورج چڑھتا جائے گا رات تو خود مرتی ہے ستارو تم کو کون بچائے گا جو ذرہ جنتا میں رہے گا وہ تارا بن جائے گا جو سورج ان کو بھولے گا وہ آخر بجھ جائے گا تنہا تنہا رو لینے سے کچھ نہ بنے گا کچھ نہ بنا مل جل کر آواز اٹھاؤ پربت بھی ہل جائے گا مانا آج کڑا پہرا ہے ہم ...

مزید پڑھیے

جنون دل کا ابھی ترجمان باقی ہے

جنون دل کا ابھی ترجمان باقی ہے لبوں پہ مہر لگی ہے زبان باقی ہے گئی رتوں کا ابھی تک نشان باقی ہے گلی میں ایک شکستہ مکان باقی ہے نہ پوچھیے ابھی عنواں مرے فسانے کا یہ ابتدا ہے ابھی داستان باقی ہے ڈبو دیا تھا کبھی جس کو تند طوفاں نے اسی سفینے کا اک بادبان باقی ہے ہزار بار زمانے نے ...

مزید پڑھیے

خواہش

اندھیری رات دور تک کہر ہی کہر ہوائیں مست بدمست کہ راہ میں ایک چراغ ٹمٹماتا سا دھڑکتا سا لہراتا سا کاش کہ اس کی لو بڑھ جائے اور بچا لے وہ کسی راہگیر کو بھٹکنے سے

مزید پڑھیے
صفحہ 2187 سے 6203