قومی زبان

صرف خاکہ ابھر رہا ہے ابھی

صرف خاکہ ابھر رہا ہے ابھی کوئی چہرہ کہاں بنا ہے ابھی ریزہ ریزہ بکھرتی آنکھوں میں گھر کا سپنا بسا ہوا ہے ابھی کیسے کہہ دوں بدل گیا موسم زخم دل میں سجا ہوا ہے ابھی کن رتوں کا حساب دوں اس کو سبز موسم کہاں ملا ہے ابھی رات آدھی گزر چکی ہے مگر اک دریچہ کھلا ہوا ہے ابھی شمعیں سب بجھ ...

مزید پڑھیے

گزر گیا جو زمانہ عجیب لگتا ہے

گزر گیا جو زمانہ عجیب لگتا ہے گئی رتوں کا فسانہ عجیب لگتا ہے تم اپنے ساتھ ہی لے جاؤ اپنی یادوں کو کہ چشم نم کا چھپانا عجیب لگتا ہے گلا کیا نہ کبھی تم سے بے وفائی کا لبوں پہ آہ کا آنا عجیب لگتا ہے نہ ہاں نہ ہوں نہ کوئی سلسلہ نگاہوں کا یہ خامشی کا فسانہ عجیب لگتا ہے کبھی زمانے کی ...

مزید پڑھیے

پہلی سی چاہتوں کے وہ منظر نہیں رہے

پہلی سی چاہتوں کے وہ منظر نہیں رہے عاشق تو بے شمار ہیں دلبر نہیں رہے اس عہد نو میں اور تو سب کچھ ملا مگر شرم و حیا کے قیمتی زیور نہیں رہے یہ پھول یہ چراغ یہ تاروں کا قافلہ سب کچھ ہے تیرے خواب کے پیکر نہیں رہ دل کے نگر میں قید ہیں چاہت کی بلبلیں وہ موسم بہار کے منظر نہیں رہے لائی ...

مزید پڑھیے

ذات کی سیر پہ نکلوں مری ہمت ہی نہیں

ذات کی سیر پہ نکلوں مری ہمت ہی نہیں اس بیاباں سے گزرنے کی جسارت ہی نہیں زندگی میں نے قناعت کا ہنر سیکھ لیا اب ترے ناز اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں کوئی شکوہ نہ شکایت نہ ستم ہے نہ جفا ایک مدت سے تری ہم پہ عنایت ہی نہیں جب بھی ملتے ہیں چمک اٹھتی ہیں آنکھیں ان کی اور دعویٰ ہے انہیں ہم سے ...

مزید پڑھیے

التجا

ہم وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ہم وہ ہیں جو تم نہیں سمجھتے ہم لاش کے منہ پہ اپنی نظم کی مٹی ڈالتے ہیں اور چین سے سو جاتے ہیں صبح اٹھ کر کام کی تلاش میں نکلتے ہیں ہمیں ایسے مت دیکھو جیسے سوکھی گھاس بادل کو دیکھتی ہے ہمیں ایسے دیکھو جیسے مرنے والا گورکن کو دیکھتا ہے

مزید پڑھیے

حادثہ

نظم مر گئی اس دن جب میں نے بیس روپے بچانے کے لیے موٹر گاڑی کو رکشے پہ فوقیت دی اب میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو کمبخت رکشے والے کی بے بس آنکھیں کاغذ میں سے جھانکتی ہیں میں ڈایری پھینک دیتی ہوں

مزید پڑھیے

نگیٹوٹی

مرنے اور مارنے والے ایک ہی قبیلے سے تھے خوش ہو کر تالیاں بجانے والے سفید براق کپڑے پہنے ہوئے تھے ماتم کرنے والے زندگی سے بھاگے ہوئے دو بزدل لوگ تھے جو ایک لفظ کو صحیح جگہ پر رکھنے کے لیے گھنٹوں پریشان رہتے تھے بہ ہر حال طے ہوا کہ عالم انسانیت کو بزدلوں سے پاک کیا جائے ورنہ ...

مزید پڑھیے

پھولوں کی سیج پر

جب تم وہ پڑھنا چاہتے ہو جو مجھے لکھنا نہیں آتا اور ناامید ہو کر اپنے چہرے کے نقوش بدل دیتے ہو ہماری آنکھوں کے بیچ سات زمینیں اور سات آسمان آ جاتے ہیں اور میری آنکھیں تاریخ کے کھوئے ہوئے اوراق ڈھونڈنے لگ جاتی ہیں تم پوچھتے ہو ایسے کیوں دیکھتی ہو میں واپس آ جاتی ہوں اور تمہیں سچ مچ ...

مزید پڑھیے

راس ہے مجھ کو شب، تنہا آوارہ چاند

راس ہے مجھ کو شب، تنہا آوارہ چاند سرطانی ہوں میں، میرا سیارہ چاند ان کو شعر کروں، اندر کی بات کہوں موسم رات گھٹا، سورج اک تارا چاند میں نے جیتی یہ بازی، ہے رات گواہ تھک کر پلٹا چودھویں شب، پھر ہارا چاند لہروں لہروں پرچھائیں پامال ہوئی دیکھ رہا ہے حسرت سے بے چارہ چاند میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2189 سے 6203