قومی زبان

ہر دم مرے احساس پہ چھایا ہے کوئی اور

ہر دم مرے احساس پہ چھایا ہے کوئی اور لکھواتا کوئی اور ہے لکھتا ہے کوئی اور آنکھوں سے چھلک پڑتے ہیں احساس کے موتی دھاگے میں مگر ان کو پروتا ہے کوئی اور کوشش سے فقط اپنی بھی لکھ پایا ہے کوئی ہے تو یہ قلم میرا چلاتا ہے کوئی اور بکھرے ہوئے جو میرے خیالات ہیں ان کو احساس سے تحریر ...

مزید پڑھیے

راستہ جو اجالوں کی طرف جاتا ہے

راستہ وہ جو اجالوں کی طرف جاتا ہے خوب صورت سے خیالوں کی طرف جاتا ہے اس طرف جا نہ سکی تھی وہ بھٹک جانے سے گھر کے سو طرح کی خواہش میں بہک جانے سے کیسے دلدل میں تھی وہ کیسے گھنے بن میں تھی کیسی مشکل میں تھی کس طرح کی الجھن میں تھی راہ پر خار تھی بچنا تھا کٹھن دامن کا چوٹ آئی وہ برا حال ...

مزید پڑھیے

میری ڈائری

دل کے جذبوں سے ملاقاتیں کیا کرتی ہے ڈائری مجھ سے بہت باتیں کیا کرتی ہے لمس جذبات کا احساس کی تاثیروں کا انتظار اس کو رہا کرتا ہے تحریروں کا ان سے میں دل کی کہوں بات کہا کرتے ہیں کچھ لکھوں ان پہ یہ صفحات کہا کرتے ہیں ڈائری کہتی ہے کچھ کام بنانے ہیں مرے تجھ کو جذبات سے اوراق سجانے ...

مزید پڑھیے

وقت اور دریا

وقت اور دریا ہیں دو چیزیں جدا پھر بھی ان میں مشترک ہے بات کیا ہے مزاج وقت و دریا ایک سا وقت گزرا اور دریا بہہ گیا وقت گزرا واپس آ سکتا نہیں کوئی کوشش سے بھی لا سکتا نہیں یوں ہی دریا کا جو پانی بہہ گیا آج تک واپس نہ کوئی لا سکا پانی تو بہہ کر سمندر میں گرا اور وقت آفاق میں گم ہو گیا گو ...

مزید پڑھیے

شرارت

شرارت کی میاں پپو نے ایسی کہ ڈیڈی نے پٹائی ان کی کر دی وہ ماں کے پاس پہونچے منہ بسورے کہا ان سے بڑی سنجیدگی سے ہمیں ڈیڈی نے کیوں مارا بتائیں ضروری ہے کہ بچے مار کھائیں کہا ممی نے سن کر بات ان کی شرارت کی سزا ہے سب کو ملتی یہ ممی آپ نے اچھی سنائی شرارت کی سزا ہے بس پٹائی تو ممی کیا ...

مزید پڑھیے

چلتی پھرتی اک دیوار

چلتی پھرتی اک دیوار دیکھی عجائب گھر میں نثارؔ ہلتی تھی وہ ادھر ادھر چلتی تھی وہ کھمبوں پر چار جڑے تھے اس میں کھمبے موٹے موٹے لمبے سے دیوار سے تھا گنبد جو لگا پائپ تھا اس سے جڑا ہوا ادھر ادھر وہ ہلتا تھا موٹا موٹا بھدا سا بھالا لے کر بیٹھے تھے میاں مہاوت اکڑے ہوئے گنبد میں تھے ...

مزید پڑھیے

ہماری کتاب

جو بھی کتابیں میں نے پڑھی ہیں ایک زباں ہو کر بولی ہیں ہم سب اچھے دوست تمہارے ہم سب سچے دوست تمہارے قصے کہانی تمہیں سناتے باتیں کرتے دل بہلاتے دنیا بھر کی سیر کراتے گھر بیٹھے ہم تمہیں گھماتے بڑے بڑوں سے تمہیں ملاتے ان کی باتیں تمہیں سناتے آسمان کی سیر کراتے چندا ماما سے ...

مزید پڑھیے

کوئی موقع فراہم ہو کسی دن اوج پر جاؤں

کوئی موقع فراہم ہو کسی دن اوج پر جاؤں ذریعہ ہو تو میں گردوں سے تارے توڑ بھی لاؤں ہے خطرہ ہر گھڑی لاحق یہاں خود سے بچھڑنے کا کشادہ راہ ہے پھر بھی گزر میں کر نہیں پاؤں جہاں ہے روشنی وحشت ادھر بھی رقص کرتی ہے حدود مہر ہی سے دور جاؤں تو کہاں جاؤں مرے ہم راہ جاگی ہی کہیں رہ جائیں نہ ...

مزید پڑھیے

چھڑی ہے جنگ مسلسل مری انا کے ساتھ

چھڑی ہے جنگ مسلسل مری انا کے ساتھ میں اپنی وضع پہ قائم رہوں بقا کے ساتھ مری جلو میں اندھیرا قیام کرتا ہے کہ میرا رابطہ اچھا نہیں دیا کے ساتھ کسی نے اپنی سماعت کا در نہیں کھولا برا سلوک ہوا ہے مری صدا کے ساتھ بچا کے کار غلط سے نہ رکھ سکا خود کو وفائیں کرتا رہا میں بھی بے وفا کے ...

مزید پڑھیے

یوں بھی کوئی اپنا خسارہ کرتا ہے

یوں بھی کوئی اپنا خسارہ کرتا ہے اپنی رضا سے بازی ہارا کرتا ہے دور چلا آؤں تو یہ محسوس کروں شاید کوئی مجھے پکارا کرتا ہے کبھی ڈرا کرتا تھا یہ بھی دنیا سے اب تو دل بے خوف گزارہ کرتا ہے جو پھولوں کی خوشبو کا شیدائی ہے وہ ہی سونا باغ ہمارا کرتا ہے چاند ستاروں کو کیا اس کا علم بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2167 سے 6203