قومی زبان

نہ باز آئے تم اپنی ہاں کہتے کہتے

نہ باز آئے تم اپنی ہاں کہتے کہتے مگر تھک گئی یہ زباں کہتے کہتے زبردست ضد نے کیا دل کو زخمی جگر شق ہوا ہاں میں ہاں کہتے کہتے بچے خوب باطل کی آرائیوں سے ہر اک بات پر الاماں کہتے کہتے کسی کی نہ دیکھی کبھی مہربانی زباں تھک گئی مہرباں کہتے کہتے ابھرتی گئیں طعن و تشنہ سے قومیں نشاں ...

مزید پڑھیے

یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق (ردیف .. ی)

یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلق اور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کی نام ہے کیا اسی ہنگامے کا آغاز شباب ایک آندھی سی چلی آتی ہے ارمانوں کی جس قدر عشق سے ہوتی ہے فزوں وسعت فکر عقل رکھتی ہے بنائیں نئے زندانوں کی اپنی موت اپنی تباہی کی طرف کیا دیکھیں کہ نگاہیں طرف شمع ہیں پروانوں ...

مزید پڑھیے

عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگر (ردیف .. ے)

عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگر اے اندھیری رات تجھ کو بھی بدلنا چاہیئے باوجود غم مسلسل قہقہے اے نامراد کاروان زندگی کے ساتھ چلنا چاہیئے شان رندانہ کی ہے توہین ازخود رفتگی سہل ہے پینا مگر پی کر سنبھلنا چاہیئے زندگی وہ کیا جو ہے ناواقف آشوب عشق سینۂ آدم میں طوفانوں کو پلنا ...

مزید پڑھیے

چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہی

چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہی ابھی کچھ مہر و محبت کا نشاں ہے تو سہی نقش پا تیرا ہے گر تو نہیں اے حشر خرام اک نہ اک باعث آشوب جہاں ہے تو سہی آپ سے آپ تو پیدا نہیں یہ لالہ و گل کوئی آخر چمن آرائے جہاں ہے تو سہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہے عرض تمنا بے سود یہ بھی کہتے ہیں ترے منہ میں زباں ...

مزید پڑھیے

جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہے

جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہے خرد کا ساتھ چھوٹا جا رہا ہے بڑھی جاتی ہے شمع بزم کی لو کوئی پروانہ شاید آ رہا ہے فنا کا پیش رو اس کو سمجھیے جو لمحہ زندگی کا جا رہا ہے الٰہی شرم رکھنا راز دل کی کسی کا نام لب پر آ رہا ہے تری روشن جبیں کا ہے وہ عالم چراغ ماہ بھی شرما رہا ہے نگہ نے شکل تک ...

مزید پڑھیے

رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سے

رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سے پھر وہ کیا بات ہے منسوب ہوں مے خانے سے اہل مے خانہ سلیقے سے پئیں آب حیات ورنہ پھر موت ہے چھلکے گی جو پیمانے سے ایک عالم سے جدا مصلحتیں ہیں اس کی کون ہر بات پہ الجھے ترے دیوانے سے خرد آشوب ہے ہر نکتۂ عرفان حیات اور بڑھتا ہے جنوں عقل کے بڑھ جانے ...

مزید پڑھیے

اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگا

اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگا وہ اپنی نگاہوں کا اثر یاد تو ہوگا وہ دھوم زمانے میں مرے جوش جنوں کی وہ غلغلۂ شام و سحر یاد تو ہوگا بھولے تو نہ ہو گے وہ تجلی کی حکایت وہ تذکرۂ داغ جگر یاد تو ہوگا ہر گام پہ وہ حسن کی پر ہوش نگاہیں وہ عشق کا بد مست سفر یاد تو ہوگا ہر لمحہ وہ دنیائے ...

مزید پڑھیے

گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں

گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں عشق ہے زندگی کا روپ عشق سے زندگی جواں ہائے وہ چند ساعتیں گزریں جو تیرے قرب میں رشک سے دیکھتی رہی جن کو حیات جاوداں اف ری منازل بلند تیرے حریم ناز کی پائے طلب کو کتنے طے کرنے پڑے ہیں آسماں برق کی دسترس سے دور عصر نو کے اے طیور اور بلند آشیاں اور ...

مزید پڑھیے

واہ فسون آب و گل

واہ فسون آب و گل دہر ہے اک رنگیں محفل رزم کناں رہ طوفاں سے مل ہی جائے گا ساحل کس کی محفل کو دیکھیں ہم تم ہیں خوراک محفل جوش عمل کی خامی کا نام جہاں میں ہے مشکل سرخ نہ ہو کیوں اشک غم خون جگر بھی ہے شامل یوں نہ فسردہ خاطر رہ غنچہ و گل کی صورت کھل دیکھ طلسم فکر نہالؔ سحر بیاں شاعر ...

مزید پڑھیے

روح کو جگمگانے کی کوشش نہ کی زیست غفلت میں ساری بسر ہو گئی

روح کو جگمگانے کی کوشش نہ کی زیست غفلت میں ساری بسر ہو گئی رات دن ہو گئے سب کے سب رائیگاں میری ہستی کدھر سے کدھر ہو گئی مجھ کو آواز دیتے رہے روز و شب تیرے لطف و کرم میں یہ آ پائی کب تو نہیں جب ملا تو ہوا یہ غضب ہر تمنائے دل در بدر ہو گئی تجھ کو پانا تو یا رب تھا آساں بہت تجھ کو پانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2166 سے 6203