قومی زبان

میرا اسباب سفر دھوپ ہوا کرتی تھی

میرا اسباب سفر دھوپ ہوا کرتی تھی میں جدھر جاؤں ادھر دھوپ ہوا کرتی تھی اس محلے میں بھٹکتا تھا مرے من کا سفیر جس میں اڑتی سی خبر دھوپ ہوا کرتی تھی چھاؤں کے بعد کی خواہش بھی ہوا کرتی تھی چھاؤں دھوپ کے بعد کا ڈر دھوپ ہوا کرتی تھی کیا ہوئے اب وہ محبت کی شروعات کے روز جب یہاں آٹھ پہر ...

مزید پڑھیے

اڑانیں لے اڑیں شہ پر ہمارے

اڑانیں لے اڑیں شہ پر ہمارے محاذ عشق ہے اور سر ہمارے برائے ضد ہمیں تعمیر کر کے بہت پچھتائے کوزہ گر ہمارے بدن چھو کر عدو کا لوٹ آئے ہمیں سے آ لگے پتھر ہمارے رہائی مل گئی تھی ہم کو لیکن اکھاڑے جا چکے تھے پر ہمارے پڑے ہیں ساحلوں پہ ریت ہو کر سمندر کھا گیا گوہر ہمارے تمہارے آنسوؤں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو نہ جانتا مری دانائی جانتا

مجھ کو نہ جانتا مری دانائی جانتا کوئی تو میری بات کی گہرائی جانتا خود کو سمیٹ لاتا بڑے احتیاط سے گر میں مرے خیال کی یکجائی جانتا اب تک جو میرے ساتھ ہوا سب برا ہوا ورنہ مجھے یقیں ہے میں اچھائی جانتا بے صبر ہو کے کوئی کہیں مر گیا تو ٹھیک ورنہ یہاں پہ کون شکیبائی جانتا تیرے وصال ...

مزید پڑھیے

جو کرتے تھے الٹا سیدھا کرتے تھے

جو کرتے تھے الٹا سیدھا کرتے تھے ہم پتھر پہ دریا پھینکا کرتے تھے اس جنگل کے پیڑوں سے میں واقف ہوں گر جاتے تھے جس پر سایہ کرتے تھے میں بستی میں تتلی پکڑا کرتا تھا باقی سارے لوگ تو جھگڑا کرتے تھے کچھ بچے سیلابوں میں بہہ جاتے ہیں ہم پلکوں سے دریا روکا کرتے تھے جاؤ کوئی تار وار ...

مزید پڑھیے

وہ اک جھلک وہ موج مجھ میں آ کے سب بہا گئی

وہ اک جھلک وہ موج مجھ میں آ کے سب بہا گئی درخت جانے کیا ہوئے ندی کہاں سما گئی جہاں میں یہ عجب نہیں دیا جلے ہوا چلے بس اس پے غور کیجئے دیا بجھا ہوا گئی مرے چلائے تیر جانے کیسے مجھ کو آ لگے مری اڑائی خاک مجھ کو خاک میں ملا گئی فریب عشق میں جو تھی بدن کو اک بدن کی بھوک یہ بھوک اتنی ...

مزید پڑھیے

بھائی بدل گیا کبھی بیٹا بدل گیا

بھائی بدل گیا کبھی بیٹا بدل گیا آیا جو وقت خون کا رشتہ بدل گیا ہر ظلم ناروا کا مخالف رہا تھا جو منصب ملا تو اس کا بھی لہجہ بدل گیا وہ سیدھے سادے لوگ وہ چوپال اب کہاں ایک ایک کرکے گاؤں کا نقشہ بدل گیا پتھر وہی گلی بھی وہی لوگ بھی وہی لیکن ستم شعار کا پیشہ بدل گیا دریا دلی پہ اپنی ...

مزید پڑھیے

بخشا گیا ہے دل کو وہ سامان آگہی

بخشا گیا ہے دل کو وہ سامان آگہی حیرت کدہ ہے دہر بہ عنوان آگہی آئی بہار جیب و گریباں پہ ہاتھ ہے ہو جائے تار تار نہ دامان آگہی اک وہم ہے کہ پاؤں میں ڈالے ہے بیڑیاں اک عزم ہے کہ کچھ نہیں زندان آگہی نے موسم بہار ہے نے باد کوئے یار مہکا گیا ہے کون شبستان آگہی دل منحرف خیال غلط پر ہوس ...

مزید پڑھیے

جو تیرے شہر سے میں در بدر نہیں ہوتا

جو تیرے شہر سے میں در بدر نہیں ہوتا تو میرا عشق کبھی معتبر نہیں ہوتا یہ عرش و فرش تری مٹھیوں میں ہوتے بند تو اپنے حال سے گر بے خبر نہیں ہوتا مزہ تو جب ہے مرے ساتھ ساتھ تو بھی چل رہ وفا میں اکیلے سفر نہیں ہوتا رہ حیات میں ایسا بھی موڑ آتا ہے شریک حال کوئی ہم سفر نہیں ہوتا تمام ...

مزید پڑھیے

وہ نقد جان اور وہ بازار کیا ہوئے

وہ نقد جان اور وہ بازار کیا ہوئے اے شہر میرؔ تیرے خریدار کیا ہوئے یاران کج کلاہی کی صحبت کہاں گئی بالائے بام ابروئے خم دار کیا ہوئے وہ نغمہ خوان باد بہاری کدھر گئے آشفتگان نرگس بیمار کیا ہوئے وہ ہنر انقلاب کا موسم کہاں گیا وہ آسماں پہ ابر گہربار کیا ہوئے وہ علم و آگہی کے ...

مزید پڑھیے

جب تک کہ دل میں درد نہ پیدا کرے کوئی

جب تک کہ دل میں درد نہ پیدا کرے کوئی کافر ہے وہ جو عشق کا دعویٰ کرے کوئی دل لوٹنا ہے کام ترا اے حسیں نہ دیکھ رویا کرے بلا سے کہ تڑپا کرے کوئی ہم منتظر ہیں کب سے تمنائے دید کے بند نقاب حسن مگر وا کرے کوئی مانا کہ وہ وفا کے پرستار ہیں مگر پاس یقیں جو ہو تو تمنا کرے کوئی وہ مقتدیٔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2104 سے 6203