قومی زبان

ایسے ملے نصیب سے سارے خدا کہ بس

ایسے ملے نصیب سے سارے خدا کہ بس میں بندگی کے زعم میں چلا اٹھا کہ بس اک کھیل نے ہمارا مقدر بدل دیا وہ تو ہمیں پکار کر ایسا چھپا کہ بس پہلے تو اک نشے کو کیا سر پہ خود سوار پھر یوں کسی خیال سے جی ہٹ گیا کہ بس جنت ملے گی اس نے کہا مومنین کو جلتے ہوئے مکان سے آئی صدا کہ بس نغمہ سمجھ کے ...

مزید پڑھیے

صحرا و شہر سب سے آزاد ہو رہا ہوں

صحرا و شہر سب سے آزاد ہو رہا ہوں اپنے کہے کنارے آباد ہو رہا ہوں یا حسن بڑھ گیا ہے حد سے زیادہ اس کا یا میں ہی اپنے فن میں استاد ہو رہا ہوں اس بار دل کے رستے حملہ کرے گی دنیا سرحد بنا رہا ہوں فولاد ہو رہا ہوں چالاک کم نہیں ہے محبوب ہے جو میرا میں بھی سنبھل سنبھل کر فرہاد ہو رہا ...

مزید پڑھیے

سب فنا ہوتے ہوئے شہر ہیں نگرانی میں

سب فنا ہوتے ہوئے شہر ہیں نگرانی میں چاند بن کر اتر آؤ مری طغیانی میں آئے تو ہوں گے بہت خاک اڑانے والے میں اضافہ ہوں ترے دشت کی ویرانی میں کیا ہے آئینے سے باہر کوئی آتا ہی نہیں لوگ سب قید ہوئے جاتے ہیں حیرانی میں جس میں عشق اور ہوس کا کوئی جھگڑا ہی نہیں ایک صحرا تو ہے ایسا مری ...

مزید پڑھیے

نئے چراغ کی لو پاؤں سے لپٹتی ہے

نئے چراغ کی لو پاؤں سے لپٹتی ہے مگر وہ رات کہاں راستے سے ہٹتی ہے میں خانقاہ بدن سے اداس لوٹ آیا یہاں بھی چاہنے والوں میں خاک بٹتی ہے ذرا سا سچ بھی کسی سے کہا نہیں جاتا ذرا سی بات پہ گردن ہماری کٹتی ہے یہ کس کے پاؤں رکھے ہیں ہوا کے سینے پر اگر میں سانس بھی لیتا ہوں عمر گھٹتی ...

مزید پڑھیے

کسی کے سائے کسی کی طرف لپکتے ہوئے

کسی کے سائے کسی کی طرف لپکتے ہوئے نہا کے روشنیوں میں لگے بہکتے ہوئے یہ رنگ رنگ کے پیکر یہ تیز موسیقی ہر اک بدن پہ کئی زخم ہیں تھرکتے ہوئے بہت سے لوگ تھے رقصاں مگر الاؤ کے گرد کسی کو دیکھا نہیں اس طرح دمکتے ہوئے یہ حق پرستوں کی بستی اجڑ نہ جائے کہیں مجھے ملے ہیں کئی آئینے سسکتے ...

مزید پڑھیے

ایک پل میں ٹوٹنے کو ہے سمندر کا سکوت

ایک پل میں ٹوٹنے کو ہے سمندر کا سکوت یہ اشارہ کر رہا ہے ریت کے گھر کا سکوت ہم بہت پچھتائے آوازوں سے رشتہ جوڑ کر شور اک لمحے کا تھا اور زندگی بھر کا سکوت ہو سکے تو کیجئے اب زلزلے کا اہتمام ورنہ دستک سے نہیں ٹوٹے گا اس گھر کا سکوت کوئی تو آواز ابھرے دل کے ویرانے سے اب چاٹتا جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

خدا معاف کرے زندگی بناتے ہیں

خدا معاف کرے زندگی بناتے ہیں مرے گناہ مجھے آدمی بناتے ہیں ہوس ہے سارے جہانوں پہ حکمرانی کی وہ صرف چاند نہیں رات بھی بناتے ہیں مرے لیے تو مقدس ہیں وہ صحیفے بھی جو روشنی کے لیے روشنی بناتے ہیں نہ اس ہجوم میں رکھو مجھے خدا کے لیے جو شعر کہتے نہیں شاعری بناتے ہیں تباہ کر تو دوں ...

مزید پڑھیے

میری آنکھوں میں دمکتا ہوا چہرہ اس کا

میری آنکھوں میں دمکتا ہوا چہرہ اس کا کب سے جزدان میں رکھا ہے صحیفہ اس کا وہ پرندہ جسے جنگل کی ہوا بھی نہ لگی لوگ ہر شاخ سے دکھلائیں گے رشتہ اس کا صاف بچ جاتے مرے ہاتھ قلم ہونے سے کاش میں نے بھی لکھا ہوتا قصیدہ اس کا کون ہے جو اسے کہتا ہے اندھیروں کا نقیب شام ہوتی ہے تو کھل اٹھتا ...

مزید پڑھیے

میں نے بھی اپنے دھیان میں اپنا سفر کیا

میں نے بھی اپنے دھیان میں اپنا سفر کیا اس نے بھی راستے کو ذرا مختصر کیا پوچھو کہ اس کے ذہن میں نقشہ بھی ہے کوئی جس نے بھرے جہان کو زیر و زبر کیا سب فاصلے مری ہی خطا تھے مجھے قبول لیکن تری صدا نے بھی کتنا سفر کیا اک روز بڑھ کے چوم لیے میں نے اس کے ہونٹ اپنے تمام زہر کو یوں بے اثر ...

مزید پڑھیے

دشت میں رات بناتے ہوئے ڈرتا ہوں میں

دشت میں رات بناتے ہوئے ڈرتا ہوں میں اپنی آواز بجھاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں تنگئ وقت کا ماتم نہیں رکنے والا والا عرصۂ ہجر بڑھاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں میں دشمنوں سے وہی کرتا ہے حفاظت میری جس کو آواز لگاتے ہوئے ڈرتا ہوں میں راکھ کے ڈھیر پہ یہ ناچتے گاتے ہوئے لوگ اب یہاں پھول کھلاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2099 سے 6203