قومی زبان

قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئے

قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئے آپ تو آئے نہیں پر پھول مہنگے ہو گئے ایک دن دونوں نے اپنی ہار مانی ایک ساتھ ایک دن جس سے جھگڑتے تھے اسی کے ہو گئے مجھ کو اس حسن نظر کی داد ملنی چاہئے پہلے سے اچھے تھے جو کچھ اور اچھے ہو گئے مدتوں سے ہم نے کوئی خواب بھی دیکھا نہیں مدتوں اک شخص کو جی ...

مزید پڑھیے

دن بہ دن گھٹتی ہوئی عمر پہ نازل ہو جائے

دن بہ دن گھٹتی ہوئی عمر پہ نازل ہو جائے اک بدن اور مری روح کو حاصل ہو جائے مورچے کھولتا رہتا ہوں سمندر کے خلاف جس کو مٹنا ہے وہ آئے مرا ساحل ہو جائے کھیل ہی کھیل میں چھو لوں میں کنارا اپنا ایسے سوؤں کہ جگانا مجھے مشکل ہو جائے لگ کے بیمار کے سینے سے نہ رونا ایسے زندگانی کی طرح ...

مزید پڑھیے

اس بار انتظام تو سردی کا ہو گیا

اس بار انتظام تو سردی کا ہو گیا کیا حال پیڑ کٹتے ہی بستی کا ہو گیا اس بار سنگسار ہوئے بے گناہ لوگ اک راستہ بدن کی بحالی کا ہو گیا جزیہ وصول کیجئے یا شہر اجاڑیے اب تو خدا بھی آپ کی مرضی کا ہو گیا مٹی کے اک دیے کی مجھے بد دعا لگی لو دے کے ایک بار میں مٹی کا ہو گیا جلتے مکان دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

رات لمبی تھی ستارہ مرا تعجیل میں تھا

رات لمبی تھی ستارہ مرا تعجیل میں تھا جس کو جلنا نہیں آیا وہی قندیل میں تھا اک جہاں اور پس کار جہاں تھا باقی اک بدن اور مرے عشق کی تکمیل میں تھا پھر سیاہی نے سمیٹا مرا سامان آ کر کل اثاثہ مرا اک شام کی زنبیل میں تھا ایک لرزہ تھا ستاروں کے بدن پر طاری میں تو ڈوبا ہوا اک حسن کی ...

مزید پڑھیے

انسانیت کے زعم نے برباد کر دیا

انسانیت کے زعم نے برباد کر دیا پنجرے میں آ کے شیر کو آزاد کر دیا اپنے ہی سونے پن کا مداوا نہ کر سکے کہنے کو ہم نے شہر کو آباد کر دیا جی بھر کے قتل عام کیا پہلے ہر طرف پھر اس نے مملکت کو خدا داد کر دیا دل سے کوئی علاقہ نہ تھا دور دور تک تیشہ تھما کے ہاتھ میں فرہاد کر دیا ہر متقی کو ...

مزید پڑھیے

سارے چقماق بدن آیا تھا تیاری سے

سارے چقماق بدن آیا تھا تیاری سے روشنی خوب ہوئی رات کی چنگاری سے ان درختوں کی اداسی پہ ترس آتا ہے لکڑیاں رنگ نہ دوں آگ کی پچکاری سے کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتا مسیحائی کا ہم بھی آزاد ہوئے جاتے ہیں بیماری سے منہ لگایا ہی نہیں اسلحہ سازوں کو کبھی میں نے دنیا کو ہرایا بھی تو دل داری ...

مزید پڑھیے

برسوں پرانے زخم کو بے کار کر دیا

برسوں پرانے زخم کو بے کار کر دیا ہم نے ترا جواب بھی تیار کر دیا طوق بدن اتار کے پھینکا زمیں سے دور دنیا کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا خود ہی دکھائے خواب بھی توسیع شہر کے جنگل کو خود ہی چیخ کے ہشیار کر دیا جمہوریت کے بیچ پھنسی اقلیت تھا دل موقعہ جسے جدھر سے ملا وار کر دیا آئے تھے ...

مزید پڑھیے

ہیں لاپتہ زمانے سے سارے کے سارے خواب

ہیں لاپتہ زمانے سے سارے کے سارے خواب کس کے بدن سے لپٹے ہوئے ہیں ہمارے خواب میں شام کی بلائیں لوں یا بوسہ صبح کا بکھرے پڑے ہیں رات کے دونوں کنارے خواب تم چھت پہ آتے جاتے رہوگے اسی طرح تو دیکھنے لگیں گے سبھی کے ستارے خواب مانا سجا سنوار کے بھیجے گئے ہو تم آئینے بھی تو دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

اتنی تعظیم ہوئی شہر میں عریانی کی

اتنی تعظیم ہوئی شہر میں عریانی کی رات آنکھوں نے بھی جی بھر کے بدن خوانی کی ناپ سکتا ہے کوئی سرد ہوا تیرے سوا یہ جو خندق ہے مرے چار سو ویرانی کی دل کو معزول کیا عشق سے تو نے لیکن خاک پہ رہ کے بھی سلطان نے سلطانی کی سب اڑاتے ہیں مری سرد دماغی کا مذاق یعنی دنیا کو ضرورت ہے نگہبانی ...

مزید پڑھیے

تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں

تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں ہمارے لوگ جنوں میں کمال کرتے ہیں مگر یہ راز فقط تتلیاں سمجھتی ہیں چمکتے رنگ بھی جینا محال کرتے ہیں کبھی کبھی تو درندوں پہ پیار آتا ہے تمام شہر کی یوں دیکھ بھال کرتے ہیں یہ کیا کہ دل بھی دکھانے کوئی نہیں آتا چلو پرانے مراسم بحال کرتے ہیں بلاؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2098 سے 6203