قومی زبان

میں نے ہر گام پہ دھوکے کھائے

میں نے ہر گام پہ دھوکے کھائے مجھ کو چہرے نہیں پڑھنے آئے پھر تری یاد کا سورج چمکا پھر گریزاں ہوئے مجھ سے سائے میں نے خوشیوں پہ کئے ہیں محمول جستجو میں جو تری غم پائے جن کے قد مصرع موزوں ٹھہرے بس وہی جان غزل کہلائے ضبط اظہار کو ترسے نصرتؔ خون جذبات کا ہوتا جائے

مزید پڑھیے

اندھیری رات کو دن کے اثر میں رکھا ہے

اندھیری رات کو دن کے اثر میں رکھا ہے چراغ ہم نے تری رہ گزر میں رکھا ہے یہ حوصلہ جو ابھی بال و پر میں رکھا ہے تمہاری یاد کا جگنو سفر میں رکھا ہے مکاں میں سونے کے شیشے کے لوگ ہوں جیسے کسی کا نور کسی کی نظر میں رکھا ہے یہ چاہتی ہوں انہی دائروں میں جاں دے دوں کچھ اتنا سوز ہی رقص بھنور ...

مزید پڑھیے

بلند عزم ہو گیا پروں میں کاٹ آ گئی

بلند عزم ہو گیا پروں میں کاٹ آ گئی ہوا تو اور طائروں کی ہمتیں بڑھا گئی کھلے گا دل کا پھول بھی ذرا سا انتظار کر ابھی یہ جاں فزا خبر صبا مجھے سنا گئی حصار ذات سے پرے جہان ایک اور ہے مجھے یہ وسعت نظر نیا افق دکھا گئی بنائے تھے جو آرزو نے ساحلوں پہ بیٹھ کر تمام ریت کے وہ گھر بس ایک ...

مزید پڑھیے

عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں

عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں اس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں زندگی ہے مری ٹھہرا ہوا پانی جیسے ایک کنکر سے بھی ہو جاتی ہے ہلچل مجھ میں میں بظاہر تو ہوں اک ذرہ زمیں پر لیکن اپنے ہونے کا ہے احساس مکمل مجھ میں آج بھی ہے تری آنکھوں میں تپش صحرا کی کروٹیں لیتا ہے اب بھی کوئی ...

مزید پڑھیے

اک تعلق نہیں سنبھلا تو بھنور تک پہنچا

اک تعلق نہیں سنبھلا تو بھنور تک پہنچا دیکھتے دیکھتے پانی مرے سر تک پہنچا تجھ سے بچھڑے تو نہ راس آئی کوئی بھی منزل پھر جنوں میرا تری راہ گزر تک پہنچا اس قدر دھوپ میں شدت تھی کہ گھبرا کر دل سائے کی آس میں بے سایہ شجر تک پہنچا کھو گیا دن کے اجالوں سے ملا کر مجھ کو ایک ستارہ جو مرے ...

مزید پڑھیے

ہونی ہوں کسی حال میں ٹلنے کی نہیں ہوں

ہونی ہوں کسی حال میں ٹلنے کی نہیں ہوں میں وقت کے ہاتھوں سے نکلنے کی نہیں ہوں یہ بات سہی ٹوٹ کے بکھری تو بہت ہوں یہ بات غلط ہے کہ سنبھلنے کی نہیں ہوں لگتا ہے جڑیں پھیل گئی ہیں مری تجھ میں اکھڑی تو کہیں پھولنے پھلنے کی نہیں ہوں پہچان زمانے میں یہی ہے مری اب میں کردار کہانی میں ...

مزید پڑھیے

یہ نہ سمجھو کہ کسی درد کے اظہار میں تھی

یہ نہ سمجھو کہ کسی درد کے اظہار میں تھی آرزو وقت کے ٹوٹے ہوئے پندار میں تھی جانے کیا ڈھونڈھتا پھرتا تھا یہاں میرا وجود اک اداسی مرے گھر کے در و دیوار میں تھی میری تخئیل میں الفاظ کی زنجیریں تھیں زندگی ورنہ زمانے تری رفتار میں تھی کرتی پھرتی تھی اجالوں کی قبا میری تلاش اور میں ...

مزید پڑھیے

بکھر چکا ہے تعلق کساؤ مشکل ہے

بکھر چکا ہے تعلق کساؤ مشکل ہے چلو ہٹاؤ کہ اب رکھ رکھاؤ مشکل ہے لچک کی آخری منزل میں آ چکی ہے شاخ بس اور اس سے زیادہ جھکاؤ مشکل ہے بچا کے رکھا ہے اب تک چراغ کی لو کو مگر ہوا ہے ہوا پر دباؤ مشکل ہے حساب سود و زیاں ہو چکا اب اس کے بعد کوئی بھی جوڑ کوئی بھی گھٹاؤ مشکل ہے ابھی اداسیاں ...

مزید پڑھیے

یہ سوچیے کہ کیوں ہوا پہ زور چل نہیں رہا

یہ سوچیے کہ کیوں ہوا پہ زور چل نہیں رہا کسی بھی رخ سے آپ کا چراغ جل نہیں رہا غلط ہے یہ کہ وقت کی جبیں پہ بل نہیں رہا مگر یہ پہلی بار ہے کہ بل نکل نہیں رہا میں آزمائشوں میں اس مقام تک تو آ گئی کہ آگ میں کھڑی ہوں اور جسم جل نہیں رہا سفر میں ایک ہجوم تھا مگر یہ راز اب کھلا کہ کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

فضا میں پھیلی ہوئی تیرگی میں شامل ہوں

فضا میں پھیلی ہوئی تیرگی میں شامل ہوں سکوت شب میں تری خامشی میں شامل ہوں ہے بزدلی کی علامت یہ خامشی لیکن میں اپنے عہد کی اس بزدلی میں شامل ہوں عیاں زمانے میں تو بھی نہیں ہے اور میں بھی بہت سی باتوں کی پوشیدگی میں شامل ہوں سنا تو خوب گیا ہے مجھے مگر پھر بھی یہ لگ رہا ہے کسی ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2088 سے 6203