قومی زبان

ہر اک اچھے برے سے واسطہ ہے

ہر اک اچھے برے سے واسطہ ہے مجھے یہ شہر سارا جانتا ہے وہ بادل ہوں جو برسے گا یقیناً مرے رونے میں سب کا فائدہ ہے یہ سچ ہے تو رگ جاں سے ہے نزدیک مگر جینا تو میرا مسئلہ ہے شب فرقت کوئی آئے نہ آئے سحر ہونے کا خدشہ دوسرا ہے مجھے اب احتیاطاً خط نہ لکھنا مرے بیٹے کو پڑھنا آ گیا ...

مزید پڑھیے

یاس ہی سے کبھی گزر پیارے

یاس ہی سے کبھی گزر پیارے منتظر ہیں دل و نظر پیارے پھول کھلتے گئے محبت کے تو نے دیکھا جدھر جدھر پیارے گوہر دل کی قدر کیا کرتے یہ حسیں لوگ کم نظر پیارے دو قدم ساتھ کیا چلے ہم تم بات پہنچی نگر نگر پیارے میں تو خود ہی فریب خوردہ ہوں تو مری جستجو نہ کر پیارے بن گئے لوگ صاحب ...

مزید پڑھیے

دل جھیل میں پھینکا ہے تری یاد نے پتھر

دل جھیل میں پھینکا ہے تری یاد نے پتھر سر سے نہ گزر جائے کوئی موج ابھر کر یہ پھول سے رخ سرو سے قد چاند سے پیکر ہلچل سی مچا دیتے ہیں جذبات کے اندر کچھ اور ستم اور ستم اے غم دوراں کھلتے ہیں بڑی دیر میں انسان کے جوہر تو پاس بھی اتنا کہ تجھے دیکھ نہ پاؤں تو دور بھی اتنا کہ مری سوچ سے ...

مزید پڑھیے

وہ ساتھ آیا تو میری اڑان بیٹھ گئی

وہ ساتھ آیا تو میری اڑان بیٹھ گئی نہ جانے کیا ہوا مجھ میں تھکان بیٹھ گئی پھر اس کے بعد پرندے زمیں پہ گرنے لگے کسی کی آہ سر آسمان بیٹھ گئی قریب تھا کہ تعلق بحال ہو جاتا عجب خموشی مگر درمیان بیٹھ گئی حویلی چھوڑ کے سب لوگ چل دئے لیکن ہر ایک حجرے میں اک داستان بیٹھ گئی بلندیوں پہ ...

مزید پڑھیے

ہر اک قدم پہ جو پرسان حال چاہیے تھا

ہر اک قدم پہ جو پرسان حال چاہیے تھا تو پھر اسے بھی ہمارا خیال چاہیے تھا وہ رشتے ناطوں کو رسماً نبھانے آیا تھا ہمیں دلوں کا تعلق بحال چاہیے تھا بلندیوں پہ توازن نہ رہ سکا قائم یہاں عروج کو تھوڑا زوال چاہیے تھا غزل تو آپ سے لے لیتی پڑھ بھی دیتی مگر مجھے ادب میں بھی رزق حلال چاہیے ...

مزید پڑھیے

سب کچھ ہے عیاں پھر بھی ہے پردہ مرے آگے

سب کچھ ہے عیاں پھر بھی ہے پردہ مرے آگے دنیا ہے تری ایک کرشمہ مرے آگے میں پیاس کی شدت کا فلک چوم رہی ہوں گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے میں خود کو لکیروں میں کہیں ڈھونڈ ہی لیتی مٹھی وہ کبھی کھول تو دیتا مرے آگے جس سمت بھی دیکھوں ہیں سرابوں کی صلیبیں پھیلا ہے عجب ریت کا صحرا ...

مزید پڑھیے

تو وہ نکتہ ہے جسے دھیان میں رکھا گیا ہے

تو وہ نکتہ ہے جسے دھیان میں رکھا گیا ہے غیر ممکن سہی امکان میں رکھا گیا ہے حیرتیں اپنی ابھی ختم نہ ہونے دینا راز پوشیدہ اک اعلان میں رکھا گیا ہے سب شناسا ہیں ترے پھر بھی تو تیرا چہرہ گم شدہ لوگوں کی پہچان میں رکھا گیا ہے طے شدہ ہے یہاں انجام ازل سے سب کا فیصلہ وقت کے جزدان میں ...

مزید پڑھیے

اپنی بے چہرگی بھی دیکھا کر

اپنی بے چہرگی بھی دیکھا کر روز اک آئنہ نہ توڑا کر تو جدھر جائے دن نکل آئے روشنی کا مزاج پیدا کر یہ صدی بھی کہیں نہ کھو جائے اپنی مرضی کا کوئی لمحہ کر دھوپ میں استعارہ بادل کا تو اگر ہے تو یار سایہ کر چارہ سازی تو کر رہے ہیں غم تو مرے آنسوؤں کا سودا کر جانے کب چھوڑ کر چلی ...

مزید پڑھیے

پہلے فن دست و گریباں ہیں کراں تا بہ کراں

پہلے فن دست و گریباں ہیں کراں تا بہ کراں سرنگوں بیٹھی ہوئی ہے خاک پر اردو زباں کشتیٔ اردو زباں کے ناخداؤ کیا ہوا علم و فن شعر و سخن کے رہنماؤ کیا ہوا کیا ہوئی وہ عظمتیں کچھ تو بتاؤ کیا ہوا پیچھے ہٹتی جا رہی کیوں صف چاراگراں سرنگوں بیٹھی ہوئی ہے خاک پر اردو زباں دیکھیے جس کو بھی ...

مزید پڑھیے

فسانۂ درد عشق عنواں بدل بدل کر سنا رہا ہوں

فسانۂ درد عشق عنواں بدل بدل کر سنا رہا ہوں جگر جگر میں اتر رہا ہوں نظر نظر میں سما رہا ہوں حریم ناز و نیاز میں کیا، مزے محبت کے پا رہا ہوں فسانۂ عیش سن رہا ہوں فسانۂ غم سنا رہا ہوں تمہاری مشق جفا کے صدقے بلند ہیں دل کے حوصلے بھی جہاں جہاں چوٹ پڑ رہی ہے وہاں وہاں مسکرا رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2087 سے 6203