قومی زبان

پہلے چنگاری سے اک شعلہ بناتا ہے مجھے

پہلے چنگاری سے اک شعلہ بناتا ہے مجھے پھر وہی تیز ہواؤں سے ڈراتا ہے مجھے بین کرتے ہوئے اس رات کے سناٹے میں دشت سے گھر کی طرف کون بلاتا ہے مجھے گرد ہوتے ہوئے چہرے سے ملانے کے لیے آئنہ خانے میں کوئی لئے جاتا ہے مجھے شام ہوتی ہے تو میرا ہی فسانہ اکثر وہ جو ٹوٹا ہوا تارا ہے سناتا ہے ...

مزید پڑھیے

اس شہر تشنگی میں کہیں آب کے سوا

اس شہر تشنگی میں کہیں آب کے سوا کچھ بھی نظر نہ آیا مجھے خواب کے سوا پھر کس کے کام آئے گی میری شناوری دریا میں کچھ نہ ہوگا جو گرداب کے سوا اس روشنی میں جس سے منور ہے کائنات سب کچھ دکھائی دیتا ہے مہتاب کے سوا باغ جہاں کی سیر میں اب کیا بتاؤں میں کیا کیا مجھے ملا گل شاداب کے سوا یہ ...

مزید پڑھیے

سخت وحشی ہوں بلا وجہ بپھر جاتا ہوں

سخت وحشی ہوں بلا وجہ بپھر جاتا ہوں اس لیے اپنی طرف جاؤں تو ڈر جاتا ہوں ایک ہی طرز کی وحشت سے بھرے رہتے ہیں میں اگر دشت نہیں جاتا تو گھر جاتا ہوں چار چھ انچ کی دوری سے مرا سایا مجھے اک صدا دیتا ہے میں بار دگر جاتا ہوں بعض اوقات اداسی کو منانے کے لیے اپنے ہونے کی دلیلوں سے مکر جاتا ...

مزید پڑھیے

ٹھیک ہے ان دنوں خود پر ذرا غصہ ہوں میں

ٹھیک ہے ان دنوں خود پر ذرا غصہ ہوں میں پھر بھی اپنی سبھی حرکات کو تکتا ہوں میں آنکھ کی میز پہ رکھا ہے مرا خواب سفر اور بستر پہ شکن ڈال کے سویا ہوں میں مصلحت ڈھونڈتے پھرتے ہو سبھی کاموں میں تم کو بیمار نہیں لگتا تو اچھا ہوں میں وقت وحشت مجھے پہچان نہیں پاتا کوئی پھر بتاتا ہوں ...

مزید پڑھیے

جہان گریہ جو آدم کو خلد کا دکھ ہے

جہان گریہ جو آدم کو خلد کا دکھ ہے اسی لحاظ سے دھرتی ہوا خلا دکھ ہے کبھی فراق کی راتوں میں آئنہ دیکھوں تو خود سے کہتا ہوں دیکھو یہ آئنہ دکھ ہے شدید رونا تو اندر کا حبس گھٹنا ہے کھچاؤ ہنسنے سے پڑتا ہے قہقہہ دکھ ہے زمین گول ہے میری وفات نے کھولا کہ دوست امی سے کہتے تھے یہ بڑا دکھ ...

مزید پڑھیے

دل میں رہے وہ شخص رگوں میں رواں نہ ہو

دل میں رہے وہ شخص رگوں میں رواں نہ ہو میں چاہتا ہوں زخم جگر کا نشاں نہ ہو دستک سنی تو روح کی چیخیں نکل گئیں جیسے کوئی بدن میں جہاں تھا وہاں نہ ہو اک عمر ہو کہ جس میں میسر ہوں سگرٹیں اک دوستی ہو جس میں یہ سود و زیاں نہ ہو اک خوش کلام پوچھے تمہیں چاہیے سکوں اک خوش کلام پوچھے مگر مجھ ...

مزید پڑھیے

وقت کی زنبیل پلٹی اور اس تک جا گرا

وقت کی زنبیل پلٹی اور اس تک جا گرا جسم کا کشکول جس نے بد دعا سے بھر دیا آنگنوں تک آ گئی تھی روشنی تصویر کی دھوپ کا پھیلا ہوا تھا شام جیسا ذائقہ ماند پڑنے لگ گئی سارے چراغوں کی لپک کس نے بجھتے سائے کو میری جگہ ہونے دیا رائیگاں ہوتے ہوئے دن کو ملی رنگت کی رات صبح روشن دان نے منظر ...

مزید پڑھیے

شام کا انتظار کرتا ہوں

شام کا انتظار کرتا ہوں میں اندھیرے سے پیار کرتا ہوں میری منحوس بات مت ٹالو غافلو ہوشیار کرتا ہوں رو کے دم لے کے پھر سے رو دینا بس یہی بار بار کرتا ہوں رات بھر ہنس کے رات تک روؤں جو کروں بے شمار کرتا ہوں تیرے دل کو قرار ہے کب سے آ ادھر بے قرار کرتا ہوں بے وفائی کو رکھو ایک ...

مزید پڑھیے

مجھ کو اس رستے پر چلنا ہوتا ہے

مجھ کو اس رستے پر چلنا ہوتا ہے جس پہ اندھیرا خوب اندھیرا ہوتا ہے ساتھ رہیں گے کہہ کر حوصلہ دیتے ہیں آخر ان کو بھی گھر جانا ہوتا ہے جب آتا ہے ہوش ہمیں کیا کرنا ہے ہاتھ میں عمر کا آدھا حصہ ہوتا ہے بیگم شوہر اجڑے اجڑے لگتے ہیں آخر کس نے کس کو لوٹا ہوتا ہے دل پونا سے ممبئی تک بھی ...

مزید پڑھیے

نیند کو نیند آئے جاتی ہے

نیند کو نیند آئے جاتی ہے رات مجھ کو جگائے جاتی ہے ایک لڑکی جو مر گئی کب کی وہ ابھی تک بلائے جاتی ہے ہر طرح ریت ہے جو صحرا کی نام بارش بتائے جاتی ہے آئی تو تھی وہ گل کھلانے کو اور کیا گل کھلائے جاتی ہے کمرہ اندر سے بند کر کے وہ قید جگ کو کرائے جاتی ہے دن امیدوں کو چھین لیتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2071 سے 6203