کوئی ملال ہوں دکھ ہوں بتاؤ کیا ہوں میں
کوئی ملال ہوں دکھ ہوں بتاؤ کیا ہوں میں دنوں کے بعد کسی شخص کو دکھا ہوں میں یہ کون پالتا پھرتا ہے ہجر کا آسیب مجھے بتایا گیا تھا کہ مر چکا ہوں میں جگر کے ہاتھ لپکتے ہیں آنکھ کی جانب کچھ ایسی طرز سے گریہ کناں ہوا ہوں میں کبھی کبھی مری آنکھیں جواب دیتی ہیں کبھی کبھی تجھے اتنا ...