قومی زبان

چاہے جینا بھاری ہے

چاہے جینا بھاری ہے مرنا اک غداری ہے آگ لگا دے دنیا کو دل میں گر چنگاری ہے تیری شہرت ہفتہ بھر میری لمبی پاری ہے کونا تنہائی اندھیر اپنی گہری یاری ہے تیرے نام کی اب گھر میں اک خالی الماری ہے مرگھٹ کے اے بوڑھے پیڑ کیا تو میری سواری ہے حال مرا پوچھا تو کہہ ایک قیامت جاری ہے

مزید پڑھیے

گر مجھے سادہ دل بنایا تھا

گر مجھے سادہ دل بنایا تھا تو بھلا کیوں جہاں میں لایا تھا واجب القتل مانیے اس کو جس نے لفظ وفا بنایا تھا ساتھ غم بھی تو چھوڑ دیتا ہے بے سبب دل جگر جلایا تھا شعر یہ بھوپ میں کیوں گانے لگے میں نے تو بھیروی بتایا تھا کل مرے گھر میں میرا قتل ہوا خوش بہت ہوں کوئی تو آیا تھا آخری دن ...

مزید پڑھیے

اے ناظر بے خبر

اے ناظر بے خبر اب تم نا ہی آؤ تو اچھا ہے اب یہاں پھر شروع سے شروع کون کرے لمحہ لمحہ شب غم کا یوں عدو کون کرے ہونٹ سوکھے ہیں انہیں پھر سے کماں کون کرے دید کو چشمہ و شمشیر زباں کون کرے شام کو پھر سے چراغاں کروں ہمت ہی نہیں قصے وہ پھر سے سناؤں تجھے قوت ہی نہیں جو دریا بہہ گیا وہ پھر نہ ...

مزید پڑھیے

پیلے دیے

ہو تصور عشق کا اور ہو سیاہی رات کی عمر نازک موم سی ہو یاد ہو اس بات کی شہر کی ٹھنڈی ہوا چہرے پہ میں لیتا ہوا خوش نصیبی کا وہ امکاں جیسے ہو پہلا جوا تھک گئے جو شور سے تو گھر کو جائے مے پئے ٹار کی لمبی سڑک ہو اس پہ ہوں پیلے دیے عمر جیسے کٹ رہی ہو اور گھٹتی بھی نہ ہو عشق کی کالی گھٹا ہو ...

مزید پڑھیے

جھیل کنارے

جھیل کنارے رہنے والی موتی جیسے چہرے والی تم کو میری خبر نہیں ہے ایک ہمارا شہر نہیں ہے گنجائش بھی نہیں ہے کوئی کبھی ملیں گے ہم دو راہی یعنی دور کے ڈھول ہنوز اک دوجے سے ہیں محفوظ عشق کہ خاطر بالکل ٹھیک کبھی نہ آئیں گے نزدیک اسے سہولت جان کے میں نے دل والی ہو مان کے میں نے اپنی طرف ...

مزید پڑھیے

جوانی

یہ باتیں ہیں جوانی کی کہانی ہے جوانی ہے جوانی میں کہ قوت بازوؤں میں ہے وہی ہے عمر جو اکثر سبب بنتی ہے جرأت کا و شہرت کا یہ باتیں ہیں جوانی کی کہانی ہے جوانی کی بنا کر تیغ جس کو شہسواروں نے اکھاڑے ظلم و ذلت کے سبھی لشکر زمیں پر سے سمندر سے یہ باتیں ہیں جوانی کی کہانی ہے مگر دور ...

مزید پڑھیے

مرثیہ

اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا کہ میری آنکھوں میں اب لہو ہے نہ خواب کوئی میں سب دئیے طاق آرزو کے بجھا چکا ہوں تو ہی بتا اب کہ مرگ مہتاب و خون انجم پہ نذر کیا دوں نہ میرا ماضی نہ میرا فردا بکھر گئی تھی جو زلف کب کی سنور چکی ہے اور آنے والی سحر بھی آ کر گزر چکی ہے اداس یادوں کی ...

مزید پڑھیے

اپنے شہروں کے لئے دعا

پاکستان کے سارے شہرو زندہ رہو پایندہ رہو روشنیوں رنگوں کی لہرو زندہ رہو پایندہ رہو باطل سے تم کبھی نہ ڈرنا ظلم کبھی منظور نہ کرنا عظمت و ہیبت کی دیوارو زندہ رہو پایندہ رہو عکس پڑیں جس جگہ تمہارے چمکیں زمینیں ان کی ضیا سے میرے وطن کے چاند ستارو زندہ رہو پایندہ رہو موسم آئیں گزرتے ...

مزید پڑھیے

یاد

کبھی کبھی کوئی یاد کوئی بہت پرانی یاد دل کے دروازے پر ایسے دستک دیتی ہے شام کو جیسے تارا نکلے صبح کو جیسے پھول جیسے دھیرے دھیرے زمیں پر روشنیوں کا نزول جیسے روح کی پیاس بجھانے اترے کوئی رسول جیسے روتے روتے اچانک ہنس دے کوئی ملول کبھی کبھی کوئی یاد کوئی بہت پرانی یاد دل کے دروازے ...

مزید پڑھیے

وصالیہ

سب بارشیں ہو کے تھم چکی تھیں روحوں میں دھنک اتر رہی تھی میں خواب میں بات کر رہا تھا وہ نیند میں پیار کر رہی تھی احوال ہی اور ہو رہے تھے لذت میں وصال رو رہے تھے بوسوں میں دھلے دھلائے دونوں نشے میں لپٹ کے سو رہے تھے چھوٹا سا حسین سا وہ کمرہ اک عالم خواب ہو رہا تھا خوشبو سے گلاب ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2072 سے 6203