قومی زبان

ساحلوں پر بہت گندگی ہے

سمندر کی لہروں میں لٹکے لبادے سا لاغر بدن یہ ہینگر پہ خودکشی کا سرہانا لگا کر نصیر اور زیرک کی نظمیں کسی رائیگانی کے زیر اثر پڑھ رہا ہے لپٹتی جھپٹتی شرارت سے بھرپور لہروں کا پاؤں بھگونا کسی بدشگونی کی جانب اشارہ نہیں مجھ میں ایسا سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں روشنی کو چھوتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

شب شکست

بارہویں مرتبہ موت کا خواب تکمیل تک آتے آتے کہیں رہ گیا ہے مجھے کوئی زخموں کے ٹانکے لگانا سکھا دے تو میں اپنا چمڑا اسے دان کر دوں گا پھر چاہے وہ اس کے جوتے بنائے یا اپنی بلاؤں کا صدقہ اتارے اگر دیوتاؤں میں جھگڑا ہوا اور تم اس زمیں پر کسی ان سنے قہقہے کے شکم سے بر آمد ہوئے تو میں ...

مزید پڑھیے

اس کی یادوں کو کبھی دل سے نکالا نہ گیا

اس کی یادوں کو کبھی دل سے نکالا نہ گیا سبز ڈالی تھی جہاں پیڑ وہ کاٹا نہ گیا ہجر میں ہم نے ترے خوب غزل لکھ ڈالی بے وفائی کا یہ احسان بھلایا نہ گیا تیرے ہونے کا مجھے اب بھی بھرم ہوتا ہے جسم سے دور کبھی جیسے کی سایا نہ گیا رات تنہائی میں دو لوگ جگے رہتے ہے ہجر والے یا جنہیں ہجر میں ...

مزید پڑھیے

سیاہ کمرے میں جب صبح کا اجالا ہوا

سیاہ کمرے میں جب صبح کا اجالا ہوا زمین بوس ہوا میں فلک سے ٹپکا ہوا تم آفتاب کو کرنوں کی بھیک دیتی ہوئی میں ایک شب کے اندھیرے میں سانس لیتا ہوا زمیں پہ پھیلی ہوئی دھوپ اس شرارے کی اور ایک سایہ مرے ساتھ ساتھ بجھتا ہوا کسی نے نیند پہن لی کسی کی اتری ہوئی کسی نے خواب اٹھایا کسی کا ...

مزید پڑھیے

درون خواب کوئی شکل مسکراتی ہے

درون خواب کوئی شکل مسکراتی ہے میں چپ رہوں تو مرے ساتھ گنگناتی ہے قضا سے الجھے ہوئے سوگوار ہاتھوں میں ہمارے نام کی مہندی لگائی جاتی ہے یہ رخصتی کا سمے بھی عجب ہے آخر شب کہ چوڑیوں کی کھنک اور بڑھتی جاتی ہے جمال اور کسی کا ہے میرے چہرے پر بدن میں اور کوئی روح تلملاتی ہے یہ رات ...

مزید پڑھیے

ڈرا رہی تھی مجھے اور ڈر لیا میں نے

ڈرا رہی تھی مجھے اور ڈر لیا میں نے پھر ایک روز محبت کا سر لیا میں نے کسی سے مانگی مسلسل رسد اذیت کی پھر اپنے سائے کو دیوار کر لیا میں نے پہن رہے تھے کسی غم کا پیرہن کچھ لوگ اگرچہ مہنگا پڑا مجھ کو پر لیا میں نے بغیر اداسی مناسب نہیں تھا گھر جانا یہ انتظام اسے چھو کے کر لیا میں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں چند خواب نما تیر گڑ گئے

آنکھوں میں چند خواب نما تیر گڑ گئے بہتے لہو کے ڈر سے پپوٹے سکڑ گئے میں آگ کے قریب سے گزرا نہ تھا کبھی ٹھنڈک کی نرم دھوپ سے دھاگے ادھڑ گئے کچھ بیڑیوں نے خستہ کیا جسم و جان کو منظر تک آتے آتے مرے پاؤں جھڑ گئے کیسی دلیلیں کیسی مناجات کچھ نہیں تجھ سے بچھڑنا تھا جنہیں خود سے بچھڑ ...

مزید پڑھیے

درد تیرا تھا ترے یار سے لگ کر رویا

درد تیرا تھا ترے یار سے لگ کر رویا یعنی بیمار تھا بیمار سے لگ کر رویا سخت کہرام زدہ شخص تھا میرا ہمدرد یوں لگا جیسے میں بازار سے لگ کر رویا چار سو پھیل گیا زرد اداسی کا حصار کوئی در سے کوئی دیوار سے لگ کر رویا کس نے بھڑکائی مرے جسم میں تسلیم کی آگ کون مجھ میں ترے انکار سے لگ کر ...

مزید پڑھیے

رات جھٹکے سے مری نیند کھلی ٹوٹ گئی

رات جھٹکے سے مری نیند کھلی ٹوٹ گئی کانچ کی چیز تھی ٹیبل سے گری ٹوٹ گئی شعبدہ‌ باز نے غائب کیا منظر سے مجھے بے گھری چھوٹ گئی اور چھڑی ٹوٹ گئی خامشی نام کی اک شے ہے مرے سینے میں تو مجھے ہاتھ لگا دیکھ ابھی ٹوٹ گئی قہقہہ دائمی تھا میرا مرے پاس رہا ماتمی چپ جو مری نام کی تھی ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

برہنہ پا ہے بھٹکتی روحوں کو دودھ دیتی ہے پالتی ہے

برہنہ پا ہے بھٹکتی روحوں کو دودھ دیتی ہے پالتی ہے پھر ان کے جسموں پہ قہقہے پھینکتی ہے چہرے اداستی ہے درون دل ایسا لگ رہا ہے کوئی بلا ہے بڑی بلا ہے جو سانس لیتی ہے آہ بھرتی ہے بات کرنے پہ مارتی ہے عجیب منطق کی پارسا ہے یہ ہجر کی شب یہ ہجر کی شب لپٹ کے سوتی ہے کس کے پہلو سے کس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2069 سے 6203