قومی زبان

مشینیں کام اپنا کر رہی ہیں

مشینیں کام اپنا کر رہی ہیں ہمیں بھی اپنے جیسا کر رہی ہیں ہزاروں میل سے آتی ہوائیں یہاں کہرام برپا کر رہی ہیں نئی بیساکھیاں عکس و صدا کی ہمارے قد کو اونچا کر رہی ہیں سبھی کو اونگھ سی آنے لگی ہے فضائیں جادو ٹونا کر رہی ہیں ہمارا دل تو ہنگاموں بھرا تھا یہاں تنہائیاں کیا کر رہی ...

مزید پڑھیے

ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں ہم اچھے ہیں تو پھر اچھے سبھی ہیں یقیں کیسے کریں وعدے پہ تیرے یہی وعدہ ہے جو کرتے سبھی ہیں دکھائی کیوں نہیں دیتا کسی کو خدا کی کھوج میں نکلے سبھی ہیں مرے اندر فقط قطرہ نہیں ہے سمندر جھیل اور جھرنے سبھی ہیں زمیں پر آئے گا وہ آسماں سے نظارہ دیکھنے ...

مزید پڑھیے

ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں

ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں تجھ کو دیکھیں کہ ترا شہر ستم گر دیکھیں دور سے وہ نظر آئے گا بس اک سائے سا اس کو دیکھیں تو ذرا پاس بلا کر دیکھیں چاند سورج نہ ستارے ہیں ہمارے بس میں ایک مٹی کا دیا ہے سو جلا کر دیکھیں ہم بدل سکتے ہیں خود کو یہ بڑی بات نہیں شرط اتنی ہے کہ باہر نہیں ...

مزید پڑھیے

دلوں کے زخم بھرتے کیوں نہیں ہیں

دلوں کے زخم بھرتے کیوں نہیں ہیں ہم اس پر غور کرتے کیوں نہیں ہیں دغا دے کر نکل جاتی ہے آگے خوشی سے لوگ ڈرتے کیوں نہیں ہیں تجارت کیوں ادھوری ہے ہماری ہمارے ناپ بھرتے کیوں نہیں ہیں کسی نے بھی نہ پوچھا دشمنوں سے محبت آپ کرتے کیوں نہیں ہیں ہماری زندگی ہے موت جیسی یہی سچ ہے تو مرتے ...

مزید پڑھیے

ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے

ابھرتی ڈوبتی سانسوں کا سلسلہ کیوں ہے کبھی یہ سوچ کہ جو کچھ ہوا ہوا کیوں ہے بنے ہیں ایک ہی مٹی سے ہم سبھی لیکن ہماری سوچ میں اس درجہ فاصلہ کیوں ہے لگا رکھا ہے یہ کس نے کڑی کو اندر سے اجاڑ گھر کا دریچہ ڈرا ڈرا کیوں ہے ابھی تو پھول بھی آئے نہیں ہیں شاخوں پر ابھی سے بوجھ درختوں پہ پڑ ...

مزید پڑھیے

قفل کھلیں گے اور مگرمچھوں کا منہ کھل جائے گا

قفل کھلیں گے اور مگرمچھوں کا منہ کھل جائے گا کیا معلوم اس دل کے غار سے کیا کیا سامنے آئے گا دل کی جوانی ڈھل جائے گی ریت اپنے تھل جائے گی اور ہمارا عکس فضا میں سرخ دھواں بن جائے گا دیواروں کے بیچ پڑی ہے بند دریچے کی تصویر سوچ رہا ہوں اس کمرے میں چور کہاں سے آئے گا تم نے میری گن ...

مزید پڑھیے

جسم گھیر لیتی ہے پھر بھی زرد تنہائی

جسم گھیر لیتی ہے پھر بھی زرد تنہائی تتلیوں میں دن گزرا جگنوؤں میں رات آئی چاندنی کی بانہوں میں گمرہی کا بچھو ہے اور اس کے دامن میں میرے دل کی بینائی دل کے سارے دروازے بند تھے اداسی پر کل پھر ایک رقاصہ کھڑکیوں سے گھس آئی اے متاع جسم و جاں چشم تر کی نوحہ خواں تو مری خوشی اپنے ...

مزید پڑھیے

کبھی ہوتا ہے پریشاں کبھی شرماتا ہے

کبھی ہوتا ہے پریشاں کبھی شرماتا ہے آئینہ میرے خد و خال سے گھبراتا ہے رینگتے رینگتے اک آہ مجھے کھینچتی ہے اور اک خوف مرے جسم میں در آتا ہے خود بھی میں خاک زدہ خستہ بدن ہوں پہ مجھے اپنے کشکول کی حالت پہ ترس آتا ہے یک بیک ایک چراغ اپنی طرف کھینچتا ہوں اژدہا دیکھتا ہے اور لپٹ جاتا ...

مزید پڑھیے

محسوس کرنا

مجھے حسرت ہے میرا نظم کردہ فلسفہ تم کو سمجھ آئے تمہیں یہ فلسفہ باور کرانے کے لیے میرے سوا افلاک سے اب کوئی بھی آدم نہیں گرنا تمہارے جسم سے مجھ تک جو دوری ہے تمہیں معلوم ہو یہ ایک تھیوری ہے آدم نام کا دھبا زمین و آسماں کا فاصلہ طے کر کے تم کو صرف اتنا بولنے آیا ہوں سن لو مجھے آنکھوں ...

مزید پڑھیے

میں وہی ہوں

تری سرمئی آنکھ سے بہنے والا سیہ اشک جس نے ملال اوڑھ کر تیری تکمیل کی میں نے جو بھی کیا اپنے اندر کا وحشی جگا کر ترے سامنے سر بہ زانو کیا یا اداسی کے جبڑے سے چھینی ہوئی رنج کی اس غضب ناک خوراک سے تیرا دوزخ بھرا تیری تکمیل کی اب مجھے بھی اذیت کی بابت میں کوئی ستارہ بدن چاہیے اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2068 سے 6203