قومی زبان

پسند نا پسند کا کوئی بھی ضابطہ نہیں

پسند نا پسند کا کوئی بھی ضابطہ نہیں کبھی بھلا بھی ہے برا کبھی برا برا نہیں تو جیسے دھوپ میں چمکتا برف پوش کوہسار میں کالی رات کا دیا تو میرے حسن سا نہیں وہ ہنستا بستا شخص تھا دلوں پہ سب کے نقش تھا پھر ایک دن کہیں گیا کہاں گیا پتا نہیں یہ کیا حسین باغ ہے یہاں ہیں کتنی تتلیاں وہ ...

مزید پڑھیے

کوہ خدشات سر ہوا ہی نہیں

کوہ خدشات سر ہوا ہی نہیں پار کیا ہے میں جانتا ہی نہیں میں رکا تھا تو وقت رک جاتا لاکھ روکا مگر رکا ہی نہیں کتنے ارماں سے کھٹکھٹایا تھا ہائے افسوس در کھلا ہی نہیں اب کوئی چوٹ لگ بھی جائے تو کیا دل میں اب زخم کی جگہ ہی نہیں ایک لمحہ جسے میں ہار چکا کیسے کہہ دوں وہ میرا تھا ہی ...

مزید پڑھیے

ساری دنیا گنوا کے بیٹھا ہوں

ساری دنیا گنوا کے بیٹھا ہوں اپنی دنیا بنا کے بیٹھا ہوں عمر بھر کی تھکان ہو گئی ہے ایک لمحہ بتا کے بیٹھا ہوں ٹوٹا پتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کس سے دامن چھڑا کے بیٹھا ہوں کیا خبر کوئی رنگ بھر ہی دے چند خاکے بنا کے بیٹھا ہوں ایک بھٹکا ہوا پرندہ ہوں ڈال پر سر جھکا کے بیٹھا ہوں کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ خلق جب طلب جاہ میں پڑی ہوئی تھی

یہ خلق جب طلب جاہ میں پڑی ہوئی تھی تو میری ذات تری چاہ میں پڑی ہوئی تھی تو اپنی بے خبری میں جہاں سے گزرا تھا یہ میری عمر وہیں راہ میں پڑی ہوئی تھی کہیں بھی دور تک اس کا کوئی نشان نہ تھا وہ صرف میری طلب گاہ میں پڑی ہوئی تھی میں لفظ ڈھونڈھتا رہتا تھا جس کے کہنے کو وہ ساری بات مری آہ ...

مزید پڑھیے

تیز آندھی سے خفا ہے کوئی

تیز آندھی سے خفا ہے کوئی ٹوٹ کر برگ گرا ہے کوئی مجھ کو محسوس ہوا ہے اکثر دید کے پار چھپا ہے کوئی رات مہتاب کو دیکھا تو لگا دور سے دیکھ رہا ہے کوئی بجھ گیا قمقمہ جو کمرے کا یوں لگا روٹھ گیا ہے کوئی خشک جھونکوں کا ستم سہنے کو پھول پت جھڑ میں کھلا ہے کوئی رات کے بحر میں غوطہ زن ...

مزید پڑھیے

ایک حسرت میں ڈھل کے ڈستی ہے

ایک حسرت میں ڈھل کے ڈستی ہے ابر سے بیکلی برستی ہے ایک خاکہ سا میرے دھیان میں ہے ایک خواہش سی دل میں بستی ہے رات میں بھی نہ ہو سکا روشن دل محلے میں تنگ دستی ہے گھر کے دیوار و در ہی مخلص ہیں باقی دنیا تو مجھ پہ ہنستی ہے کیوں یہاں ڈھونڈتے ہو مسکانیں دہر تو اک اداس بستی ہے ہر کسی ...

مزید پڑھیے

اک ندی کی دھار کا لے کر سہارا آ گئے

اک ندی کی دھار کا لے کر سہارا آ گئے ساری دنیا گھوم کے تجھ تک دوبارہ آ گئے کیوں اچانک نیند ان آنکھوں سے غائب ہو گئی آپ خوابوں میں کسے دے کر اشارہ آ گئے دوستی میں کھیل مطلب کا نہیں کھیلا گیا سو اسی رشتے میں ہم لے کر خسارہ آ گئے وہ ہمارا عکس تھا ہم سے جدا ہوتا کہاں کرکے گھر کے آئنوں ...

مزید پڑھیے

مطلب پتا نہیں تھا بتانے چلے گئے

مطلب پتا نہیں تھا بتانے چلے گئے ہم عشق کرکے عشق نبھانے چلے گئے ہم نے نظر کو اپنی ٹکایا تھا چاند پر پھر خواب لے کے چاند کو پانے چلے گئے اس کو عجب سے حال میں دیکھا تھا ایک دن موسم سے پھر یہ رنگ سہانے چلے گئے اب پیڑ خود کی چھانو میں بیٹھا ہے رات دن سب لوگ دور شہر کمانے چلے گئے ہم ...

مزید پڑھیے

الگ ہونے پہ آمادہ ہوا ہے

الگ ہونے پہ آمادہ ہوا ہے یقیناً دکھ بہت زیادہ ہوا ہے بچھڑ کر باغ سے بھونرے نے پوچھا یہ گل کیوں سوکھ کر کانٹا ہوا ہے پرندے کو خبر پہنچاؤں کیسے شجر میں جال اک ڈالا ہوا ہے میں کیول روح چھو پاؤں گا اس کی یہی شروعات میں وعدہ ہوا ہے محض قسمیں وہ کھائے جا رہا ہے بدن پر جھوٹ کو لادا ...

مزید پڑھیے

رہ کر زمیں پہ چاند کے دیدار کے لئے

رہ کر زمیں پہ چاند کے دیدار کے لئے دفتر میں دن گزرتے ہیں اتوار کے لئے اتنا تو مسئلہ بھی نہ تھا جتنا شور ہے بس بھیڑ جٹ گئی ہے یہ بیکار کے لئے بے وجہ کھینچ تان میں کشتی ڈبو گئے جب کہ سبھی کو جانا تھا اس پار کے لئے بس حال چال کا یہ دکھاوا نہ کیجیے رب تک دعائیں بھیجئے بیمار کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2067 سے 6203