پسند نا پسند کا کوئی بھی ضابطہ نہیں
پسند نا پسند کا کوئی بھی ضابطہ نہیں کبھی بھلا بھی ہے برا کبھی برا برا نہیں تو جیسے دھوپ میں چمکتا برف پوش کوہسار میں کالی رات کا دیا تو میرے حسن سا نہیں وہ ہنستا بستا شخص تھا دلوں پہ سب کے نقش تھا پھر ایک دن کہیں گیا کہاں گیا پتا نہیں یہ کیا حسین باغ ہے یہاں ہیں کتنی تتلیاں وہ ...