قومی زبان

میں جو مردہ ہوں جیوں گا اک روز

میں جو مردہ ہوں جیوں گا اک روز تجھ سے میں آن ملوں گا اک روز قید ہیں مجھ میں بہت سے طوفاں تو ملے گا تو کھلوں گا اک روز شور آتا ہے نہیں سنتا میں تیری آواز سنوں گا اک روز میں تو برسوں سے چھپا بیٹھا ہوں تو نے ڈھونڈا تو ملوں گا اک روز جو ہوا تھا وہ ہوا تھا کیونکر تجھ سے میں بات کروں گا ...

مزید پڑھیے

جو میری روح کی گہرائیوں میں اترا تھا

جو میری روح کی گہرائیوں میں اترا تھا وہ ایک نرم ملائم ہوا کا جھونکا تھا اس ایک لمس کے بارے میں کیا بتاؤں تمہیں ٹھٹھرتی سردیوں کی تیز دھوپ جیسا تھا میں اک زمین بنا گھومتا تھا جس کے سبب وہ ایک گل تھا مرے چاند پر جو کھلتا تھا وہ ایک باغ تھا جس میں تھیں دو حسیں جھیلیں میں ان کو ...

مزید پڑھیے

نحیف تنکا بھلا تیز دھار کیا جانے

نحیف تنکا بھلا تیز دھار کیا جانے نہ کر سکے گا وہ دریا کو پار کیا جانے حیات کی یہ نہایت طویل راہ گزار مسافروں کی تھکن کا شمار کیا جانے مسرتوں میں چھپا حسن دل کو کیا معلوم یہ ریگزار جمال بہار کیا جانے وہ ہم سے عمر بتانے کی بات کرتا ہے ہمیں تو سانس بھی لینا ہے بار کیا جانے نشے میں ...

مزید پڑھیے

دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیں

دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیں ہم غریبوں کو فقط خواب نظر آتے ہیں چاندنی کھل کے جو برسے کبھی صحراؤں میں ریت کے ذرے بھی مہتاب نظر آتے ہیں جھونپڑے والے تو سوتے ہی نہیں ساون میں سوئیں تو خواب میں سیلاب نظر آتے ہیں دل تڑپ اٹھتا ہے جب چاند ستارے مجھ کو کالے تالاب میں غرقاب نظر آتے ...

مزید پڑھیے

مسافرت مری ہر جستجو سے خالی ہے

مسافرت مری ہر جستجو سے خالی ہے بس اک مدار میں پھرنے کی خو بنا لی ہے تمام وقت میں شہر گماں میں رہتا ہوں سکوں سے رہنے کی منطق نئی نکالی ہے حریص آریوں کی بھینٹ چڑھ گیا چپ چاپ شجر پہ اب کوئی پتا نہ کوئی ڈالی ہے ہوا میں بھر گئی ہے بوئے اشتہا ہر سو کسی غریب نے اپنی ردا اچھالی ہے لبوں ...

مزید پڑھیے

سایہ کیے ہوئے تھا جو بادل نہیں رہا

سایہ کیے ہوئے تھا جو بادل نہیں رہا آفات کا یہ مہر مگر ڈھل نہیں رہا سر پر تھی اس کی چھاؤں تو موجود تھے حواس پگلا گئے ہیں ہم کہ وہ آنچل نہیں رہا جیون کی شاہراہ کو روشن کیے ہوئے اک ہی تو قمقمہ تھا جو اب جل نہیں رہا اک خوبرو پرندہ بڑی دور جا بسا اب خواہشوں کا باغ مکمل نہیں رہا ٹھہرے ...

مزید پڑھیے

کسی کے پاؤں کی رگڑ سے آگ سی لگی تو تھی کدھر گئی

کسی کے پاؤں کی رگڑ سے آگ سی لگی تو تھی کدھر گئی نظر تو آئی تھی مجھے ذرا سی دیر روشنی کدھر گئی میں اس کے لفظ لفظ کی بناوٹوں میں گم تھا جب ہوا چلی جو میرے دل کی میز پر کتاب تھی کھلی ہوئی کدھر گئی بس ایک موڑ کیا کٹا کہ واپسی کا راستہ ہی کھو گیا میں ڈھونڈ ڈھونڈ تھک گیا یہیں تو تھی مری ...

مزید پڑھیے

بازار کائنات میں یہ فیصلہ ہوا

بازار کائنات میں یہ فیصلہ ہوا یاران خوش ادا ہو تمسخر روا ہوا بجلی کڑک رہی تھی عجب اہتمام سے بچہ دعائیں مانگ رہا تھا ڈرا ہوا وحشت نہیں جنون نہیں پھر بھی اضطراب نو واردان عشق ہوا سو تو کیا ہوا آئی تھی دشت قیس میں رسوا ہوئی چلی آوارگی کے ساتھ بھی کتنا برا ہوا میں شور کرنے والے ...

مزید پڑھیے

عجب اشکوں کی بارش ہو گئی ہے

عجب اشکوں کی بارش ہو گئی ہے دلوں کی گرد ساری دھو گئی ہے سنائی دے رہی ہیں سسکیاں اب سہانی راگنی چپ ہو گئی ہے ڈرے جاتے ہیں ہم کو دیکھ کر سب ہماری شکل ہم سے کھو گئی ہے بھرا رہتا ہے کمرے میں اندھیرا ہماری نیند بھی اب سو گئی ہے کسی کے ساتھ رہتے رہتے حارثؔ مری پہچان مجھ میں کھو گئی ...

مزید پڑھیے

کھو کر دن کی باتوں میں

کھو کر دن کی باتوں میں گھبراتا ہوں راتوں میں اندیشوں کا جنگل ہے نفرت کی سوغاتوں میں ساون میں آنسو یعنی برساتیں برساتوں میں نادیدہ شیرینی ہے سچے رشتے ناطوں میں خستہ حالی دیکھی ہے مزدوروں کے ہاتھوں میں کٹیا لے کر کتنے خواب ڈوبی تھی برساتوں میں یادیں گیت سناتی ہیں تنہا ساکت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2066 سے 6203