قومی زبان

گزر گیا جو نظر سے نظر کا حصہ ہے

گزر گیا جو نظر سے نظر کا حصہ ہے شجر سے اڑتا پرندہ شجر کا حصہ ہے تمہارا درد اگر درد نارسائی ہے تمہارا درد ہمارے جگر کا حصہ ہے نہ وہ تمہارے یہاں ہے نہ وہ ہمارے یہاں اداس چولہا کہو کس کے گھر کا حصہ ہے جہاں کے لوگ خدا کے کرم پہ زندہ ہیں علاقہ وہ بھی ہمارے نگر کا حصہ ہے سفر سفر ہے سفر ...

مزید پڑھیے

کچھ نظارے ہیں کچھ نظر باقی

کچھ نظارے ہیں کچھ نظر باقی اور کچھ کوس کا سفر باقی رہ گیا ہے کتاب میں دن کی شام کا باب مختصر باقی اس خزاں میں بھی کچھ مہکتا ہے دل ہے باقی ابھی جگر باقی خاک ہی خاک ہوں مگر چھو مت عشق کا ہے ابھی شرر باقی وقت رخصت پلٹ کے برسی جو ہے نگاہوں میں وہ نظر باقی دھل گئی تھی جو تیرے اشکوں ...

مزید پڑھیے

بڑے ہی ناز سے لایا گیا ہوں

بڑے ہی ناز سے لایا گیا ہوں میں کاندھا دے کر اٹھوایا گیا ہوں فرشتو یوں نہ مجھ سے پیش آؤ سندیسہ بھیج بلوایا گیا ہوں خبر جس کی تھی وہ سارے مناظر قریب مرگ دکھلایا گیا ہوں گنوائی زندگی کی صبح کیسے بہ وقت شام بتلایا گیا ہوں جہاں سے پائی ہے سب نے فضیلت اسی کوچے سے میں آیا گیا ...

مزید پڑھیے

منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگے

منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگے ہم کو کرنا ہے سفر قید مکاں سے آگے پیکر شعر کو ملبوس عطا کیا کیجے جب تخیل کی ہو پرواز بیاں سے آگے آب اور خاک کی یہ بزم ہمیں کیا راس آتی ہم کو جانا تھا ستاروں کے جہاں سے آگے کب تلک دیر و حرم کی یہ حدیث بے سود مسئلے اور ہیں ناقوس و اذاں سے ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے جو سینے میں بسا ہے کیا ہے

ایک مدت سے جو سینے میں بسا ہے کیا ہے کرب احساس ہے یا کرب انا ہے کیا ہے دور حاضر میں ہر اک شخص ہے کیوں سہما ہوا دل میں جو خوف ہے وہ خوف فنا ہے کیا ہے مجھ کو اس لفظ کا مفہوم بتا دو یارو دوستی نام ہے جس کا وہ جفا ہے کیا ہے بات مطلب کی کہوں اس سے مگر پہلے ذرا یہ تو معلوم ہو وہ خوش ہے خفا ...

مزید پڑھیے

عجیب بات ہے بیمار ہے نہیں بھی ہے

عجیب بات ہے بیمار ہے نہیں بھی ہے یہ دل تمہارا طلب گار ہے نہیں بھی ہے ہیں ممکنات نہاں اس ادا میں شوخی میں لبوں پہ ان کے جو انکار ہے نہیں بھی ہے ہے کیسا عزم سفر کیسی چاہت منزل سفر کو کارواں تیار ہے نہیں بھی ہے یہ اپنی اپنی سمجھ ہے یہ اپنا اپنا شعور سفر حیات کا دشوار ہے نہیں بھی ...

مزید پڑھیے

بغیر سوچے ہوئے عرض حال کرتے رہے

بغیر سوچے ہوئے عرض حال کرتے رہے جواب کچھ نہ ملا ہم سوال کرتے رہے کبھی تو ڈوبے ندی میں مگر کبھی ہم نے سمندروں کو اچھالا کمال کرتے رہے اسی سے نام ملا ہے اسی سے عزت بھی جو کام سہل بہت تھے محال کرتے رہے کھڑے رہے یوں ہی آنکھوں میں اشک جاری کیے ہر ایک لمحۂ شب لا زوال کرتے رہے کبھی ...

مزید پڑھیے

ہماری زیست کا اک ایک باب کھل جائے

ہماری زیست کا اک ایک باب کھل جائے خدایا ہم پہ ہماری کتاب کھل جائے پھر اس کے بعد یہ دشت و دمن بھلا کیا ہیں جو غور‌ و فکر کریں آفتاب کھل جائے زمیں پہ راستہ آئے نظر تو کیا ہے عجب یہ راستہ تو میاں زیر آب کھل جائے خطیب چیختا ہے روز ہی سر منبر مجال کیا ہے جو ہم پر خطاب کھل جائے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2055 سے 6203