ہم دل کا ہر اک زخم چھپا لیتے تھے
ہم دل کا ہر اک زخم چھپا لیتے تھے ہر ایک کو سینے سے لگا لیتے تھے اب دوست بھی ہیں دشمن جانی اپنے دشمن کو بھی ہم دوست بنا لیتے تھے
ہم دل کا ہر اک زخم چھپا لیتے تھے ہر ایک کو سینے سے لگا لیتے تھے اب دوست بھی ہیں دشمن جانی اپنے دشمن کو بھی ہم دوست بنا لیتے تھے
ایماں کا تقاضہ ہے کہ خوددار بنو زر داروں کی دہلیز پہ سجدہ نہ کرو زہراب ملے یا رسن و دار عبیدؔ ہرگز کسی قاتل کو مسیحا نہ کہو
گزر گیا جو نظر سے نظر کا حصہ ہے شجر سے اڑتا پرندہ شجر کا حصہ ہے تمہارا درد اگر درد نارسائی ہے تمہارا درد ہمارے جگر کا حصہ ہے نہ وہ تمہارے یہاں ہے نہ وہ ہمارے یہاں اداس چولہا کہو کس کے گھر کا حصہ ہے جہاں کے لوگ خدا کے کرم پہ زندہ ہیں علاقہ وہ بھی ہمارے نگر کا حصہ ہے سفر سفر ہے سفر ...
کچھ نظارے ہیں کچھ نظر باقی اور کچھ کوس کا سفر باقی رہ گیا ہے کتاب میں دن کی شام کا باب مختصر باقی اس خزاں میں بھی کچھ مہکتا ہے دل ہے باقی ابھی جگر باقی خاک ہی خاک ہوں مگر چھو مت عشق کا ہے ابھی شرر باقی وقت رخصت پلٹ کے برسی جو ہے نگاہوں میں وہ نظر باقی دھل گئی تھی جو تیرے اشکوں ...
بڑے ہی ناز سے لایا گیا ہوں میں کاندھا دے کر اٹھوایا گیا ہوں فرشتو یوں نہ مجھ سے پیش آؤ سندیسہ بھیج بلوایا گیا ہوں خبر جس کی تھی وہ سارے مناظر قریب مرگ دکھلایا گیا ہوں گنوائی زندگی کی صبح کیسے بہ وقت شام بتلایا گیا ہوں جہاں سے پائی ہے سب نے فضیلت اسی کوچے سے میں آیا گیا ...
منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگے ہم کو کرنا ہے سفر قید مکاں سے آگے پیکر شعر کو ملبوس عطا کیا کیجے جب تخیل کی ہو پرواز بیاں سے آگے آب اور خاک کی یہ بزم ہمیں کیا راس آتی ہم کو جانا تھا ستاروں کے جہاں سے آگے کب تلک دیر و حرم کی یہ حدیث بے سود مسئلے اور ہیں ناقوس و اذاں سے ...
ایک مدت سے جو سینے میں بسا ہے کیا ہے کرب احساس ہے یا کرب انا ہے کیا ہے دور حاضر میں ہر اک شخص ہے کیوں سہما ہوا دل میں جو خوف ہے وہ خوف فنا ہے کیا ہے مجھ کو اس لفظ کا مفہوم بتا دو یارو دوستی نام ہے جس کا وہ جفا ہے کیا ہے بات مطلب کی کہوں اس سے مگر پہلے ذرا یہ تو معلوم ہو وہ خوش ہے خفا ...
عجیب بات ہے بیمار ہے نہیں بھی ہے یہ دل تمہارا طلب گار ہے نہیں بھی ہے ہیں ممکنات نہاں اس ادا میں شوخی میں لبوں پہ ان کے جو انکار ہے نہیں بھی ہے ہے کیسا عزم سفر کیسی چاہت منزل سفر کو کارواں تیار ہے نہیں بھی ہے یہ اپنی اپنی سمجھ ہے یہ اپنا اپنا شعور سفر حیات کا دشوار ہے نہیں بھی ...
بغیر سوچے ہوئے عرض حال کرتے رہے جواب کچھ نہ ملا ہم سوال کرتے رہے کبھی تو ڈوبے ندی میں مگر کبھی ہم نے سمندروں کو اچھالا کمال کرتے رہے اسی سے نام ملا ہے اسی سے عزت بھی جو کام سہل بہت تھے محال کرتے رہے کھڑے رہے یوں ہی آنکھوں میں اشک جاری کیے ہر ایک لمحۂ شب لا زوال کرتے رہے کبھی ...
ہماری زیست کا اک ایک باب کھل جائے خدایا ہم پہ ہماری کتاب کھل جائے پھر اس کے بعد یہ دشت و دمن بھلا کیا ہیں جو غور و فکر کریں آفتاب کھل جائے زمیں پہ راستہ آئے نظر تو کیا ہے عجب یہ راستہ تو میاں زیر آب کھل جائے خطیب چیختا ہے روز ہی سر منبر مجال کیا ہے جو ہم پر خطاب کھل جائے نہ ...