قومی زبان

پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گے

پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گے دنیا میں اگر عشق کے مارے نہ رہیں گے دنیائے محبت میں چراغاں نہ ملے گا پلکوں پہ اگر اشک ہمارے نہ رہیں گے تم چھوڑ کے مت جاؤ مجھے شہر بلا میں ورنہ مرے جینے کے سہارے نہ رہیں گے طے کر لو سفر شب کا کہ موقع ہے غنیمت پھر چرخ بریں پہ یہ ستارے نہ رہیں ...

مزید پڑھیے

یوں لگ رہا ہے جیسے گماں ٹوٹنے کو ہے

یوں لگ رہا ہے جیسے گماں ٹوٹنے کو ہے یعنی حقیقتوں کا جہاں ٹوٹنے کو ہے خواب و خیال و فکر کی رعنائیاں لیے کاغذ پہ میرا حرف بیاں ٹوٹنے کو ہے جب اس کے بعد دائمی اک گھر ہے منتظر کیا غم جو عارضی سا مکاں ٹوٹنے کو ہے جو فیصلہ ہوا ہے عدالت میں حق طرف حیران عقل ہے یہ زباں ٹوٹنے کو ہے پڑھ ...

مزید پڑھیے

گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیں

گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیں مسکراتی گل کھلاتی رونقیں اچھی لگیں جب سسکتی رینگتی سی زندگی دیکھی کہیں پھر خدا کی دی ہوئی سب نعمتیں اچھی لگیں ایک دل سے دوسرے دل تک سفر کرتے رہے رہ گزار شوق میں یہ ہجرتیں اچھی لگیں دھوپ کے لمبے سفر سے لوٹ کے آئے جو گھر بند کمرے میں سکوں ...

مزید پڑھیے

تصور میں مرے ایسے کوئی چہرہ نکلتا ہے

تصور میں مرے ایسے کوئی چہرہ نکلتا ہے کہ سوکھی شاخ پر جیسے ہرا پتہ نکلتا ہے فرشتے گھر کی چوکھٹ پر کھڑے رہتے ہیں صف باندھے کہ جب اسکول کو گھر سے کوئی بچہ نکلتا ہے زمیں بھی جیسے میرا امتحاں لینے کے در پے ہے جدھر پاؤں بڑھاتا ہوں ادھر صحرا نکلتا ہے حقیقت ان کی جو بھی ہو عقیدہ ہے یہی ...

مزید پڑھیے

جستجو کے سفر میں رہتے ہیں

جستجو کے سفر میں رہتے ہیں ہم کہ پیہم خبر میں رہتے ہیں ہم کو کس کی نظر میں رہنا تھا اور اس کی نظر میں رہتے ہیں آرزو تم ہماری مت کرنا ہم دعا کے اثر میں رہتے ہیں ہم نوا اپنا کوئی بن نہ سکا یوں تو پیہم سفر میں رہتے ہیں کل تلک تھے چراغ راہ گزر بجھ گئے ہم تو گھر میں رہتے ہیں جڑ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

خوشبو ترے لہجے کی مرے فن میں بسی ہے

خوشبو ترے لہجے کی مرے فن میں بسی ہے اشعار ہیں میرے تری آواز کے سائے دادی کی کہانی کو ترستے ہیں یہ بچے آنکھوں میں نہیں دور تلک نیند کے سائے جب جسم پر یہ جان ہو اک قرض کی صورت اللہ کسی دشمن کو بھی یہ دن نہ دکھائے پھر تازہ ہواؤں کی پہنچ روح تلک ہو پھر پیار کے موسم کی گھٹا لوٹ کے ...

مزید پڑھیے

ہمیں تو گوشہ نشیں اور جہاں بھی ہونا ہے

ہمیں تو گوشہ نشیں اور جہاں بھی ہونا ہے یہاں بھی ہونا ہے ہم کو وہاں بھی ہونا ہے نشان بھی ہے لگانا نشاں بھی ہونا ہے مکاں میں رہتے ہوئے لا مکاں بھی ہونا ہے اس احتیاط سے کرنا ہے زندگی اپنی اکیلا چلنا ہے اور کارواں بھی ہونا ہے زمیں میں رکھتے ہیں پیوست اپنی دنیا کو زمیں پہ رہتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

تو اب حالت میں اپنی یوں بھی تبدیلی نہیں ہوتی

تو اب حالت میں اپنی یوں بھی تبدیلی نہیں ہوتی یہ مٹی خون بھی پی کر کبھی گیلی نہیں ہوتی ہوا جاتا ہے قدرت کے اصولوں میں دخیل انساں ہوا اب تو دسمبر میں بھی برفیلی نہیں ہوتی چلو آنکھوں سے اب کے بات کر کے دیکھتے ہیں ہم زباں سے بات تو ہوتی ہے تفصیلی نہیں ہوتی وہ جو محسوس کرتی ہے بیاں ...

مزید پڑھیے

ہر شکن وقت کی پیشانی پہ رکھی ہوئی ہے

ہر شکن وقت کی پیشانی پہ رکھی ہوئی ہے ہم نے یوں زندگی آسانی پہ رکھی ہوئی ہے کچھ بھی کہہ لیجئے بنیاد ہے آخر بنیاد کیا ہوا گر یہ زمیں پانی پہ رکھی ہوئی ہے گفتگو کیسے کریں اہل خرد سے کہ وہاں اپنی ہر بات ہی نادانی پہ رکھی ہوئی ہے تم نے سمجھا ہے تو بس اتنا ہمیں کہ ہم نے زندگی یوں ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2056 سے 6203