قومی زبان

تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شام

تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شام ساغر کی طرح روز چھلکنے لگی ہے شام شاید کسی کی یاد کا موسم پھر آ گیا پہلو میں دل کی طرح دھڑکنے لگی ہے شام کچھ تو ہی اپنے خون رمیدہ کی لے خبر پلکوں پہ قطرہ قطرہ ٹپکنے لگی ہے شام صحرائے پر سکوت میں کچھ آہوؤں کے ساتھ پھر کس کی آرزو میں بھٹکنے لگی ...

مزید پڑھیے

رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیں

رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیں لوگ سودا ہیں خریدار ہیں تیری آنکھیں کیا یوں ہی جاذب و دل دار ہیں تیری آنکھیں خالق حسن کا شہکار ہیں تیری آنکھیں یہ نہ ہوتیں تو کسی دل میں نہ طوفاں اٹھتا شوق انگیز و فسوں کار ہیں تیری آنکھیں تیری معصومیت دل کا پتہ دیتی ہیں تیری محبوبی کا اقرار ...

مزید پڑھیے

تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہے

تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہے راہیں ڈھونڈے منزل پائے انساں کتنا پیارا ہے وقت مصیبت آنسو پونچھے ہمدردی کی بات کرے ٹوٹے دل کو آس دلائے انساں کتنا پیارا ہے مانگے سو سو طرح معافی چھوٹی سی اک بھول کی بھی اپنی خطاؤں پر شرمائے انساں کتنا پیارا ہے دل کی دھڑکن دل میں سموئے ...

مزید پڑھیے

دیر و کعبہ کی عظمت مسلم مگر (ردیف .. ے)

دیر و کعبہ کی عظمت مسلم مگر مے کدہ بھی خدا ہی کے گھر سا لگے چاند تاروں کی جو دے رہا ہے خبر دیکھنے میں تو وہ بے خبر سا لگے گمرہی میں بھی دیوانۂ دل فگار منزل ہوش کا راہبر سا لگے یہ جہاں رشک جنت ہے کس کے لیے اور کسی کو یہی درد سر سا لگے جھیل میں ادھ کھلے پھول پر چاندنی ہم کو منظر یہ ...

مزید پڑھیے

ہر اک شخص کے اپنے تصور اور گماں تک ہے

ہر اک شخص کے اپنے تصور اور گماں تک ہے کسے معلوم ہے ورنہ حد عرفاں کہاں تک ہے ہمیں تو دیکھنا ہے ہمت و جرأت کہاں تک ہے ہماری زندگی ورنہ فقط ضبط فغاں تک ہے جنون عشق میں آہ و فغاں شکوہ گلہ کیسا اگر ہے بھی تو وہ آخر ہمارے مہرباں تک ہے جنوں کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہ کر پایا رسائی عقل ...

مزید پڑھیے

ستائش سے ہوتے نہیں شادماں

ستائش سے ہوتے نہیں شادماں ملامت سے ہم تلملاتے نہیں ہو خوف خدا جن کے دل میں بسا وہ ہرگز کسی کو ستاتے نہیں گناہوں سے دامن بچاتے ہیں ہم عبادت میں گو سر جھکاتے نہیں نہ ہم رہنما ہیں نہ ہم راہبر غلط راہ لیکن بتاتے نہیں عبادت سے پاتے ہیں ہم وہ سرور جو مینا و ساغر سے پاتے نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

بے اثر آرزو بے اثر ہے دعا

بے اثر آرزو بے اثر ہے دعا با اثر ہے فقط ایک اس کی رضا وہ گنہ گار محشر میں بخشا گیا رحمت حق پہ جس نے بھروسا کیا زندگی نے مجھے منہ لگایا نہ جب منہ چڑھانے لگی میرا ظالم قضا دست قدرت میں میں اک کھلونا سا ہوں کس لئے ہے گناہوں کی مجھ کو سزا نوجوانی میں تو محو عشرت رہے اب بڑھاپے میں ...

مزید پڑھیے

غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگ

غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگ دامان تار تار ہیں میرے یہاں کے لوگ پیدا کیا ہے جھوٹے مسیحاؤں نے جسے اس درد کے شکار ہیں میرے یہاں کے لوگ کیا جانیے ہیں کب سے جگر سوختہ مگر انساں کے غم گسار ہیں میرے یہاں کے لوگ گردن اگرچہ خم ہے اطاعت کے بوجھ سے لیکن حریف دار ہیں میرے یہاں کے ...

مزید پڑھیے

چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا

چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا آنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گا وہ لہو پی کر بڑے انداز سے کہتا ہے یہ غم کا ہر طوفان اس کے گھر کے باہر آئے گا کیا تماشا ہے ڈرے سہمے ہوئے ہیں سارے لوگ کیا مری بستی میں کوئی ظالم افسر آئے گا لوٹ کر پیچھے کبھی جاتی نہیں رفتار وقت زندگی کو اب ...

مزید پڑھیے

پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میں

پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میں اب آ گئے ہیں دیدہ وروں کے ہجوم میں کچھ بھی نہیں ہے اڑتی ہوئی راکھ کے سوا کیا ڈھونڈتے ہو کم نظروں کے ہجوم میں شہروں میں آئنوں کے خریدار ہی نہیں اک بے کلی ہے شیشہ گروں کے ہجوم میں پہچان لیجے کون ہے انساں کا رہنما ان بے شمار راہبروں کے ہجوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2051 سے 6203