تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شام
تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شام ساغر کی طرح روز چھلکنے لگی ہے شام شاید کسی کی یاد کا موسم پھر آ گیا پہلو میں دل کی طرح دھڑکنے لگی ہے شام کچھ تو ہی اپنے خون رمیدہ کی لے خبر پلکوں پہ قطرہ قطرہ ٹپکنے لگی ہے شام صحرائے پر سکوت میں کچھ آہوؤں کے ساتھ پھر کس کی آرزو میں بھٹکنے لگی ...