قومی زبان

چاند سورج مرے گھر آتے ہیں

چاند سورج مرے گھر آتے ہیں کیا حسیں خواب نظر آتے ہیں مجھ سے کہتے ہیں ٹھہر دم لے لے راہ میں جتنے شجر آتے ہیں دیکھنا مرے تخیل کا کمال نہیں آتے وہ مگر آتے ہیں برق ہنستی ہے نشیمن پہ مرے ابر با دیدۂ تر آتے ہیں دیکھ کر اپنے شکستہ دل کو یاد محلوں کے کھنڈر آتے ہیں ہے برا حال انہیں کیا ...

مزید پڑھیے

حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے

حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے پڑوسن میری اتراتی بہت ہے وہ گھر میں چین سے رہتی ہے کم کم مگر چھت پر نظر آتی بہت ہے نہیں سنتی کسی کی اپنے آگے سمجھتی کم ہے سمجھاتی بہت ہے کرے ہے گفتگو سرگوشیوں میں مگر زیور تو کھنکاتی بہت ہے بڑی سنجیدہ بنتی ہے وہ لیکن میاں سے چھپ کے مستانی بہت ہے مرے ...

مزید پڑھیے

گھونٹ پانی کے سوندھے سوندھے تھے

گھونٹ پانی کے سوندھے سوندھے تھے جب وہ مٹی کے آب خورے تھے آنچ بھی خوش گوار دیتے تھے کل جو وہ دھیمے دھیمے چولھے تھے ڈال سے کیریاں جو گرتی تھیں پال میں کچے آم پکتے تھے سر اٹھا کر عمارتوں نے کہا وہ کوئی گھر تھے یا گھروندے تھے ہائے پروینؔ یہ جدید فلیٹ ان سے اچھے تو کل کے دڑبے تھے

مزید پڑھیے

کوئی کسی کی طرح ہے کوئی کسی کی طرح

کوئی کسی کی طرح ہے کوئی کسی کی طرح بس ایک آپ کا جلوہ ہے آپ ہی کی طرح سمٹ کے غم کے اندھیرے میں لوگ بیٹھ گئے مگر ہمیں تو بکھرنا تھا روشنی کی طرح یہ میرے خواب کی جنت یہ چاند کا آنگن یہاں تو دھوپ بھی لگتی ہے چاندنی کی طرح نظر میں شکل تری صبح آفتاب ازل زباں پہ نام ترا حرف آخری کی ...

مزید پڑھیے

فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگا

فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگا ایک رشتہ ٹوٹنے سے بچ گیا اچھا لگا جان من جان وفا خط میں لکھا اچھا لگا دور سے اس نے مجھے اپنا کہا اچھا لگا میں نے غم کی دھن بھی چھیڑی اور خوشی کا راگ بھی تم بتاؤ گیت میرا کون سا اچھا لگا مجھ میں کیا جوہر مرے ٹوٹے ہوئے آئینے کو آج اس نے چاند کا ...

مزید پڑھیے

بس گیا ہے وہ چاند پر جا کر

بس گیا ہے وہ چاند پر جا کر آؤ ملتے ہیں اس کے گھر جا کر رخ بدل کر قریب سے گزرا بات کی اس نے دور تر جا کر وہی ماحول ہے وہی کہرام ہم نے دیکھا نگر نگر جا کر تم کو جانے تو دوں سوال یہ ہے آئے واپس نہ تم اگر جا کر وہی چہرہ تھا شاہکار ازل بس وہیں رک گئی نظر جا کر آسماں ہے ہمارے پاؤں ...

مزید پڑھیے

اب وہ آنگن وہ گھر نہ کھپریلیں

اب وہ آنگن وہ گھر نہ کھپریلیں پیڑ پنچھی نہ پھول اور بیلیں زندگی ہم ترے محافظ ہیں کیوں نہ پھر اپنی جان پر کھیلیں آسماں سے ہمکتا رہتا ہے چاند کو لاؤ گود میں لے لیں اپنے گھر کی گھٹن ہی بہتر ہے ہجرتوں کا عذاب کیوں جھیلیں وزن پر ہوں غزل کے سب مصرعے پیڑھیوں سے نہ اتریں یہ ریلیں کیا ...

مزید پڑھیے

کچھ میں کہہ بیٹھوں خدا نخواستہ

کچھ میں کہہ بیٹھوں خدا نخواستہ مولوی صاحب خدا کا واسطہ یاد آتی ہے تو بھر آتا ہے دل زندگی کی محفلیں برخاستہ چاندی سونا دو مگر ہوں بیٹیاں زیور تعلیم سے آراستہ اپنی ٹھوکر پر ہے خوابوں کا سفر کون سی منزل کہاں کا راستہ چاند تارے دل جلانے آئے ہیں شام غم آراستہ پیراستہ

مزید پڑھیے

چاند پر کیوں میں اکیلی جاتی

چاند پر کیوں میں اکیلی جاتی ساتھ کوئی تو سہیلی جاتی آؤ مل جل کے سہیں ہجر کی دھوپ مجھ سے تنہا نہیں جھیلی جاتی بولنا مجھ سے نہ تم بند کرو ہر طرف بات ہے پھیلی جاتی ہم اگر عقل کو درباں کرتے ہاتھ سے دل کی حویلی جاتی ہائے صندل کے درختوں کی یہ راکھ جان خوشبو کی نہ لے لی جاتی بن تو ...

مزید پڑھیے

پیام غم کا وہی غم گسار دیتے ہیں

پیام غم کا وہی غم گسار دیتے ہیں تسلیاں جو نئی بار بار دیتے ہیں کہاں کا ہوش انہیں یہ تری ہے رسوائی صدائیں تجھ کو جو دیوانہ وار دیتے ہیں وہ آتے آتے یہ کہتے ہیں جلد جانا ہے وہ جاتے جاتے نیا انتظار دیتے ہیں بچا سکیں گے سفینوں کو خاک طوفاں سے وہ ناخدا کہ جو ہمت ہی ہار دیتے ہیں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2030 سے 6203