قومی زبان

سکوں یہ اپنے سویروں کا چین رین کا

سکوں یہ اپنے سویروں کا چین رین کا کوئی حساب نہیں ہے خدا کی دینوں کا مکان کچے تھے وعدے تھے پکے دل روشن زمانہ تھا وہ چراغوں کا لالٹینوں کا یہ سچ ہے گاؤں کی راتیں خاموش ہوتی ہیں مگر وہ شور گزرتی ہوئی ٹرینوں کا گلے کا ہار صلیبیں ہیں سب دکھاوے کی یہاں رواج ہے اب تو طلائی چینوں ...

مزید پڑھیے

چین آتا نہیں ان سے ملاقات کئے بن

چین آتا نہیں ان سے ملاقات کئے بن بولیں نہ وہ میں رہتی نہیں بات کئے بن کمبخت ہواؤں نے یہ کیا کہہ دیا ان سے کیوں ابر اڑے جاتے ہیں برسات کئے بن مے آ گئی گھر میں یہ خبر شیخ نہ سن لیں لوٹ آئیں گے مسجد سے مناجات کئے بن شاید انہیں ڈر ہو میں شکایات کروں گی آئے تھے گئے پرسش حالات کئے ...

مزید پڑھیے

ہم خدا تھے نہ خدائی اپنی

ہم خدا تھے نہ خدائی اپنی کیا بیاں کرتے بڑائی اپنی بس ترا دھیان مجھے آیا تھا پھر کبھی یاد نہ آئی اپنی سب پہنچ میں ہیں مگر کیا کہیے کس کے دل تک ہے رسائی اپنی دل میں لائے ترے خوابوں کا خیال ہم نے خود نیند اڑائی اپنی تم یہ کہہ دو چلو ہم ہار گئے ختم کی میں نے لڑائی اپنی کون سمجھے گا ...

مزید پڑھیے

جب کبھی کوئی کام یاد آیا

جب کبھی کوئی کام یاد آیا تب انہیں میرا نام یاد آیا جب یہ سوچا کہ ان سے تھی پہچان دور ہی کا سلام یاد آیا پھر نشیمن کی ابتری دیکھی پھر قفس کا نظام یاد آیا پھر وہ شب وہ سکوت کا عالم پھر خدا کا کلام یاد آیا آج انہیں دیکھ کر محبت کا قصۂ ناتمام یاد آیا ہائے ماضی کے خیریت نامے جانے ...

مزید پڑھیے

سکندر کے سفر کی بات نکلے

سکندر کے سفر کی بات نکلے کفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلے وہ کل کی فیس بک وہ کیفؔ و شعریؔ وہ دیکھو چاند سورج ساتھ نکلے میں نکلوں چاندی اور سونا پہن کر مگر مٹی مری اوقات نکلے توقع لے کے وہ آیا تھا لیکن اسی جیسے میرے حالات نکلے جہاں ارتھی اٹھائی جا رہی ہو اسی کوچے سے کیوں بارات ...

مزید پڑھیے

خدا نے کس شہر اندر ہمن کو لائے ڈالا ہے

خدا نے کس شہر اندر ہمن کو لائے ڈالا ہے نہ دلبر ہے نہ ساقی ہے نہ شیشہ ہے نہ پیالہ ہے پیا کے ناؤں کی سمرن کیا چاہوں کروں کس سیں نہ تسبیح ہے نہ سمرن ہے نہ کنٹھی ہے نہ مالا ہے خوباں کے باغ میں رونق ہوئے تو کس طرح یاراں نہ دونا ہے نہ مروا ہے نہ سوسن ہے نہ لالا ہے پیاں کے ناؤں عاشق کوں ...

مزید پڑھیے

کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہے

کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہے انہیں بھی ہے محبت یا نہیں ہے اجازت ہو تو میں یہ عرض کر دوں سلیقہ آپ کا اچھا نہیں ہے وہی چھایا ہوا ہے زندگی پر وہ جس کو آج تک دیکھا نہیں ہے ستم آلام محرومی تباہی مری تقدیر میں کیا کیا نہیں ہے ابھی کچھ اور بھی جور و ستم ہوں ابھی صدموں سے دل ٹوٹا ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ ہم آج حقیقت ہی بتا دیں اپنی

کیوں نہ ہم آج حقیقت ہی بتا دیں اپنی جسم اپنا ہی نہ اس جسم میں سانسیں اپنی سچ تو یہ ہے کہ کبھی خود کو تلاشا ہی نہ تھا اور آئی بھی نہ تھیں برسوں سے یادیں اپنی بوجھ اس دل کا کسی روز تو ہلکا ہوگا کھل کے برسیں گی کسی روز تو آنکھیں اپنی اب یہ عالم ہے ہم اک دوجے کو سن لیتے ہیں اور خاموش ...

مزید پڑھیے

نہ بلاؤ مجھے خدا کی طرف (ردیف .. ی)

نہ بلاؤ مجھے خدا کی طرف میں اسی کی ہوں بندگی میں لگی جس میں تھی جنگلوں کی بے نظمی وہ نمائش بھی شہر ہی میں لگی رات میں نے پڑھی جو دھوپ کی نظم بے مزہ ان کو چاندنی میں لگی جام سقراط کیا پیا میں نے پیاس مجھ کو نہ زندگی میں لگی اور کچھ کام بھی کروں پروینؔ تم تو ہو صرف شاعری میں لگی

مزید پڑھیے

لو وہ آنسو سجھائی دینے لگے

لو وہ آنسو سجھائی دینے لگے دن میں تارے دکھائی دینے لگے میں نے شکوہ کیا تھا دنیا کا کیوں تم اپنی صفائی دینے لگے میں نے ورثے میں حق جو مانگ لیا دکھ مجھے میرے بھائی دینے لگے درد اپنا کہوں وہ مجھ کو اگر اپنے دل تک رسائی دینے لگے میں نے اچھا کہا وفا نہ رہی لوگ مجھ کو برائی دینے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2029 سے 6203