قومی زبان

ابر رحمت گھروں پہ رہتے تھے

ابر رحمت گھروں پہ رہتے تھے جب دوپٹے سروں پہ رہتے تھے وہ بھی پردہ دروں میں شامل ہیں پردے جن کے دروں پہ رہتے تھے آج کے تاجور ہیں جو کل تک وقت کی ٹھوکروں پہ رہتے تھے ان کی کرچوں سے پاؤں زخمی ہیں ہونٹ جو ساغروں پہ رہتے تھے رقص کرتے تھے ہم بھی لیکن ہاں مرکزوں محوروں پہ رہتے تھے ہم ...

مزید پڑھیے

خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی کہ درد دل نہیں جاتا کسی دوا سے بھی جلا رکھے ہیں مری زندگی میں سانسوں نے چراغ ایسے کہ بجھتے نہیں ہوا سے بھی مرے لئے مرا اللہ کون سا کم ہے مجھے تو کام نہیں ہے کسی خدا سے بھی چراغ راہ بنایا ہے تم نے کس کس کو کبھی ملے ہو محمد کے نقش پا سے بھی ہم اپنی ...

مزید پڑھیے

کیا ہے شق القمر نظیر تو ہے

کیا ہے شق القمر نظیر تو ہے چاند کے درمیاں لکیر تو ہے سوچ سکتی ہوں سچ نہ کہہ پاؤں مجھ میں جرأت نہ ہو ضمیر تو ہے وہ کسی کی نظر نہیں نہ سہی دل میں پیوست اک تیر تو ہے ہے وہی کائنات کی بنیاد گو وہ اک ذرۂ حقیر تو ہے روشنی مانگتا ہے سورج سے چاند اک کاسۂ فقیر تو ہے کیفؔ کا جو بھی ہو ...

مزید پڑھیے

دھوپ کھڑکی سے سرہانے آئی

دھوپ کھڑکی سے سرہانے آئی چاند خوابوں کے بجھانے آئی ہائے وہ پھول سے ہنستے چہرے یاد پھر ان کی رلانے آئی دل چراغوں کے ابھی لرزاں ہیں پھر ہوا ہوش اڑانے آئی دل سلگتا تھا شب غم یوں ہی چاندنی اور جلانے آئی اٹھ ہوئی صبح اذاں کی آواز نیند سے مجھ کو جگانے آئی اوڑھ لی تو نے برہنہ ...

مزید پڑھیے

یہ چھوٹا سا مکاں بغیا لگانے کون دیتا ہے

یہ چھوٹا سا مکاں بغیا لگانے کون دیتا ہے در و دیوار پر سبزہ اگانے کون دیتا ہے کبھی نازاں تھے ہم آنسو بہانے کون دیتا ہے مگر اے چشم نم اب مسکرانے کون دیتا ہے مری آنکھوں کو یہ سپنے سہانے کون دیتا ہے وہ آئے گا دلاسے دل کو جانے کون دیتا ہے پتہ چلتا ہے کیسے میرے ان کے چھپ کے ملنے کا خبر ...

مزید پڑھیے

کوئی فکر نہ کوئی غم ہے

کوئی فکر نہ کوئی غم ہے میرے ساتھ مرا ہمدم ہے اس کے تکلم میں ہے ترنم اور ترنم میں سرگم ہے آگ لگا دے آگ بجھا دے وہ شعلہ ہے وہ شبنم ہے ابھی کہاں سلجھے ہیں مسائل ابھی تری زلفوں میں خم ہے لوگ جسے کہتے ہیں منزل وہ بھی قید بیش و کم ہے مل جائے تسکین جہاں پر پنکجؔ وہ ہی رشک ارم ہے

مزید پڑھیے

پیاسے کو ہر قطرہ ساگر لگتا ہے

پیاسے کو ہر قطرہ ساگر لگتا ہے ہر منظر اب اس کا منظر لگتا ہے ہم نے اپنے قد کو اتنا کھینچ لیا جب بھی اٹھتے ہیں چھت میں سر لگتا ہے آیا ہے وہ جب تو کوئی بات کرے اوس کی اس خاموشی سے ڈر لگتا ہے ہوتی ہے تب اپنے کی پہچان ہمیں پیٹھ میں جب بھی کوئی خنجر لگتا ہے ملتا ہے وہ جب بھی آ کر خوابوں ...

مزید پڑھیے

گزر جائے جو آنکھوں سے وہ پھر منظر نہیں رہتا

گزر جائے جو آنکھوں سے وہ پھر منظر نہیں رہتا جدا ہو کر جدا ہونے کا کوئی ڈر نہیں رہتا مٹیں بے چینیاں آخر در و دیوار کی کیسے گھروں میں لوگ رہتے ہیں دلوں میں گھر نہیں رہتا دکھائی کس طرح دے شہر میں کوئی مجھے آخر سوا اس کے نظر میں اب کوئی منظر نہیں رہتا یہ حیرت ہے کے مجھ کو غم نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

ہر سو اس کا چرچا ہونے والا ہے

ہر سو اس کا چرچا ہونے والا ہے موسم پھر سے اجلا ہونے والا ہے بولے گا اوقات سے بڑھ کر وہ شاید قد سے سایہ اونچے ہونے والا ہے بات عموماً کرتا رہتا ہے سچ کی جلدی ہی وہ تنہا ہونے والا ہے نام پہ مذہب کے جمگھٹ ہے لوگوں کا شہر میں شاید دنگا ہونے والا ہے ہم بھی پہنچیں لے کر اپنی ...

مزید پڑھیے

ذرا سوچا تو کیا کیا ذہن سے منظر نکل آئے

ذرا سوچا تو کیا کیا ذہن سے منظر نکل آئے مرے احساس کے کچھ کھنڈروں سے گھر نکل آئے لگیں دینے سبق وہ پھر پرندوں کو اڑانوں کا ذرا سے شہر میں جب چینٹیوں کے پر نکل آئے یہ عالم ہے کہ جب بھی گھر میں کچھ ڈھونڈنے بیٹھا پرانے کاغذوں سے یاد کے منظر نکل آئے لگا جب یوں کہ اکتانے لگا ہے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2031 سے 6203