قومی زبان

غلط سب دلیلیں غلط سب حوالے

غلط سب دلیلیں غلط سب حوالے اندھیرے اندھیرے اجالے اجالے مرے حال پر پھبتیاں کسنے والے مبادا تجھے پھونک دیں میرے نالے ہمیں جان و دل سے وہ اپنا بنا لے مگر ہم کہاں ایسی تقدیر والے مجھے وعظ پر وعظ فرمانے والے اگر کوئی تیری بھی نیندیں چرا لے ہزاروں تھے دنیا میں اخلاص والے مگر گردش ...

مزید پڑھیے

پھر پریشاں حال ہے قلب و جگر کیا کیجئے

پھر پریشاں حال ہے قلب و جگر کیا کیجئے اب علاج گردش شام و سحر کیا کیجئے مہرباں ہو بھی اگر اب چارہ گر کیا کیجئے کر چکا ہے درد ہی اس دل میں گھر کیا کیجئے دیکھیے کب موت کا جھونکا بجھا ڈالے اسے زندگی ہے اک چراغ رہ گزر کیا کیجئے ہم سے ہوتا ہی نہیں درد محبت کا علاج اب یہی کرتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

مفلسوں پر جب کبھی آیا شباب

مفلسوں پر جب کبھی آیا شباب گھڑ لئے دنیا نے قصے بے حساب کون جانے ان کی کیا تعبیر ہو ہم نے آنکھوں میں سجائے ہیں جو خواب لڑکھڑا جائیں نہ کیوں ہم بے پیے ان کی آنکھوں سے چھلکتی ہے شراب ہائے ہم اس کا مقدر کیا کہیں ایک دل ہے اور غم ہیں بے حساب لذت شیرینیٔ ہستی کہاں تلخیوں میں کٹ گیا ...

مزید پڑھیے

نالۂ دل رائیگاں دیکھیے کب تک رہے

نالۂ دل رائیگاں دیکھیے کب تک رہے نا مرادی کامراں دیکھیے کب تک رہے میری الفت کا یقیں دیکھیے کب ہو انہیں یہ حقیقت داستاں دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب تک رہیں زندگی پر ہم گراں زندگی ہم پر گراں دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب تک رہیں در بدر کی ٹھوکریں گردش ہفت آسماں دیکھیے کب تک ...

مزید پڑھیے

لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں

لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں چلتے پھرتے مزار ہوتے ہیں جو محبت میں خار ہوتے ہیں صاحب صد وقار ہوتے ہیں جن کے دامن میں خار ہوتے ہیں قدردان بہار ہوتے ہیں جو محبت شعار ہوتے ہیں سازشوں کا شکار ہوتے ہیں میری بربادیٔ محبت پر آپ کیوں شرمسار ہوتے ہیں ان کے قول و قرار کیا کہئے صرف قول و قرار ...

مزید پڑھیے

کبھی تسکیں کبھی آزار بھی ہے

کبھی تسکیں کبھی آزار بھی ہے محبت پھول بھی ہے خار بھی ہے پگھل جاتی ہے مثل شمع لیکن محبت آہنی دیوار بھی ہے ترے ہونٹوں پہ ہے انکار لیکن تری آنکھوں میں کچھ اقرار بھی ہے بظاہر ہیں سبھی غم خوار لیکن حقیقت میں کوئی غم خوار بھی ہے کبھی ان کی نظر ہے وجہ تسکیں کبھی چلتی ہوئی تلوار بھی ...

مزید پڑھیے

تم کو چاہا تم کو پوجا

تم کو چاہا تم کو پوجا کیا یہ میرا پاگل پن تھا پل میں تولہ پل میں ماشا ناداں یہ دنیا ہے دنیا تیرا ہو کر جینا چاہا میں بھی کتنا دیوانہ تھا تیرا رتبہ عرش سے اونچا تجھ کو مجھ سے نسبت ہی کیا میری تو ہستی ہی کیا تھی لیکن تو نے کس کو بخشا تیرا حسن ہے عالم عالم میرا عشق ہے تنہا ...

مزید پڑھیے

امتیاز بیش و کم سے دور ہے

امتیاز بیش و کم سے دور ہے دل محبت کے نشے میں چور ہے غم اٹھا کر بھی بڑا مسرور ہے کس قدر سادہ دل رنجور ہے ایک مشت خاک ہے اس کا وجود آدمی کس بات پر مغرور ہے اس کے آگے ایک بھی چلتی نہیں دل کے ہاتھوں ہر کوئی مجبور ہے حسن کو گو ناز ہے خود پر مگر عشق بھی اپنی جگہ مغرور ہے حضرت عاصیؔ کی ...

مزید پڑھیے

بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتے

بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتے تم لوگ تو گھر والے ہو گھر کیوں نہیں جاتے یہ وقت کے حاکم ہیں سنا وقت کے حاکم یہ کہتے ہیں مر جاؤ تو مر کیوں نہیں جاتے اس بات سے ظاہر ہے تمہیں ایک خدا ہو ہم ورنہ کسی اور کے در کیوں نہیں جاتے پل ہی میں گزر جاتی ہے سکھ چین کی راتیں دکھ درد کے دن پل میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سے

ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سے تعلق ہی نہ ہو جس کو خوشی سے الٰہی کیا زمانہ آ گیا ہے ہے نفرت آدمی کو آدمی سے بڑھی ہے اور دل کی بے قراری کہا ہے حال دل جب بھی کسی سے ہماری سادگی پر غور کیجئے شکایت آپ کی اور آپ ہی سے انہیں شکوہ ہے عاصیؔ زندگی کا نہیں ہے جن کو الفت زندگی سے

مزید پڑھیے
صفحہ 2028 سے 6203