قومی زبان

خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم خاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہم اپنے ہونے کا یقیں آ گیا بجھتے بجھتے بے کراں شب میں جو امکان سحر ہو گئے ہم نامرادی میں نشاط غم امکاں تھا عجب ہم کبھی شاد نہ ہو پاتے مگر ہو گئے ہم ہم نہیں کچھ بھی مگر معرکۂ عشق کی خیر جیت مقسوم ہوئی اس کی جدھر ہو ...

مزید پڑھیے

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا اپنے تو عہد شوق کے مرحلے سب عزیز تھے ہم کو وصال سا لگا ایک دیا بجھا ہوا ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہے ایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا شعلہ ہوا نژاد تھا پھر بھی ہوا کے ہاتھ نے بس یہی فیصلہ لکھا ایک دیا ...

مزید پڑھیے

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں وہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیں ہمارا درد عجب مرحلے میں ہے کہ جہاں وہ بے سخن بھی نہیں اور لب کشا بھی نہیں اسی کو دیکھتی رہتی ہے چشم شوق مدام جو غم ابھی سر شاخ الم کھلا بھی نہیں عجیب طرح سے روشن ہوئی ہے خلوت غم کہ روشنی ہے بہت اور دیا جلا ...

مزید پڑھیے

حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھو

حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھو تم کسی دوسرے پیکر میں بھی ڈھل کر دیکھو کیا عجب تم کو ہی یہ ہم سفری راس آ جائے دو قدم ہی سہی تم ساتھ تو چل کر دیکھو ہاں یہ دستار فضیلت بھی قبائے زر بھی خود کو دیکھو تو یہ پوشاک بدل کر دیکھو موسم ہجر کوئی رت ہے نہ کچھ آب و ہوا اک تقاضا ہے کہ پھر گھر ...

مزید پڑھیے

مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیں

مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیں زمیں بنی ہی نہیں آسماں بنا ہی نہیں ہزار سبز سہی رائیگاں سی لگتی ہے وہ شاخ جس پہ کبھی آشیاں بنا ہی نہیں کوئی بھی صورت حالات دیر پا نہ ہوئی جو غم عزیز ہوا جاوداں بنا ہی نہیں جس انقلاب کی سرخی مرے لہو نے لکھی وہ انقلاب مری داستاں بنا ہی ...

مزید پڑھیے

یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شام

یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شام جو زخم صبح ملا تھا وہ بھر گیا سر شام ملے تھے ہم کہیں کار جہاں کے میلے میں اسے بھی جلدی تھی اور میں بھی گھر گیا سر شام یہ آج کس کو اچانک مرا خیال آیا چراغ راہ میں یہ کون دھر گیا سر شام خیال یار کی فرصت بھی اب کسے ہے نصیب یہ پھول صبح کھلا اور بکھر ...

مزید پڑھیے

میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوں

میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوں سوال یہ ہے کہ میں کہیں ہوں بھی یا نہیں ہوں یہ میرے ہونے سے اور نہ ہونے سے منکشف ہے کہ رزم ہستی میں کیا ہوں میں اور کیا نہیں ہوں میں شب نژادوں میں صبح فردا کی آرزو ہوں میں اپنے امکاں میں روشنی ہوں صبا نہیں ہوں گلاب کی طرح عشق میرا مہک رہا ...

مزید پڑھیے

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے حبس جاں نہ کم ہوگا بے لباس ہونے سے اب تو میرا دشمن بھی میری طرح روتا ہے کچھ گلے تو کم ہوں گے ساتھ ساتھ رونے سے متن زیست تو سارا بے نمود لگتا ہے درد بے نہایت کا حاشیہ نہ ہونے سے سچے شعر کا کھلیان اور بھرتا جاتا ہے درد کی زمینوں میں غم کی فصل بونے ...

مزید پڑھیے

کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں

کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں تمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاں شعور عصر ڈھونڈھتا رہا ہے مجھ کو اور میں مگن ہوں عہد رفتگاں کی عظمتوں کے درمیاں یہ سوچتے ہیں کب تلک ضمیر کو بچائیں گے اگر یوں ہی جیا کیے ضرورتوں کے درمیاں ابھی شکست کیا کہ رزم آخری اک اور ہے پکارتی ہے ...

مزید پڑھیے

زندگی کے دامن میں رنگ و نور و نکہت کیا

زندگی کے دامن میں رنگ و نور و نکہت کیا خواب ہی تو دیکھا ہے خواب کی حقیقت کیا دل بھی قفل ابجد ہے ایک نام پوچھے ہے جان لے تو کھل جائے آخر اس میں حیرت کیا آپ کے رویہ پر خوش گمانیاں کیسی کوئی مصلحت ہوگی ورنہ یہ عنایت کیا چوب خشک صحرا ہوں اور آرزو گل کی سادگی سے بڑھ کر بھی ہے کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1940 سے 6203