خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم
خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم خاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہم اپنے ہونے کا یقیں آ گیا بجھتے بجھتے بے کراں شب میں جو امکان سحر ہو گئے ہم نامرادی میں نشاط غم امکاں تھا عجب ہم کبھی شاد نہ ہو پاتے مگر ہو گئے ہم ہم نہیں کچھ بھی مگر معرکۂ عشق کی خیر جیت مقسوم ہوئی اس کی جدھر ہو ...