قومی زبان

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو دوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگی پہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو مقتل غم کی رونقیں ختم نہ ہونے پائیں گی کوئی تو آ ہی جائے گا روز صدا دیا ...

مزید پڑھیے

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا جیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیا اس کا چراغ وصل تو ہجر سے رابطے میں تھا وہ بھی نہ جل سکا ادھر یہ بھی ادھر بکھر گیا زیست کی رونقیں تمام اس کی تلاش میں رہیں اور وہ غم نژاد جونؔ کس کو خبر کدھر گیا گام بہ گام اک بہشت اور وہ اس کی ایک ہشت راہ ...

مزید پڑھیے

بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائے

بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائے غم سے جلتے چہروں کو روشنی نہ سمجھا جائے گاہ گاہ وحشت میں گھر کی سمت جاتا ہوں اس کو دشت حیرت سے واپسی نہ سمجھا جائے لاکھ خوش گماں دنیا باہمی تعلق کو دوستی کہیں لیکن دوستی نہ سمجھا جائے ہم تو بس یہ کہتے ہیں روز جینے مرنے کو آپ چاہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے یعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائے آپ کتنے سادہ ہیں چاہتے ہیں بس اتنا ظلم کے اندھیرے کو رات کہہ دیا جائے آج سب ہیں بے قیمت گریہ بھی تبسم بھی دل میں ہنس لیا جائے دل میں رو لیا جائے بے حسی کی دنیا سے دو سوال میرے بھی کب تلک جیا جائے اور کیوں جیا ...

مزید پڑھیے

نیکیوں سے کل میری تنہائیاں کہنے لگیں

نیکیوں سے کل میری تنہائیاں کہنے لگیں دور تک جو بن گئی ہیں کھائیاں کہنے لگیں فیصلہ بھی ہو نہیں پایا مقدر سے یہاں دھوپ میں جلتی ہوئی پرچھائیاں کہنے لگیں چاک دل اپنا رفو کرتے رہے جو ٹوٹ کر ہستیٔ گل بزم کی رعنائیاں کہنے لگیں پاؤں چلتے ہی رہے اور منزلیں بڑھتی گئیں مشرق و مغرب سے ...

مزید پڑھیے

خط ادھورے تھے مگر وہ چٹھیاں اچھی لگیں

خط ادھورے تھے مگر وہ چٹھیاں اچھی لگیں کاغذوں سے ہی سہی نزدیکیاں اچھی لگیں ذکر میں بھی نام ان کا ہم نہ لے پائے کبھی پیار میں ان بندشوں کی چپیاں اچھی لگیں رات بھی خاموش تھی اور چاند بھی غمگین تھا آنکھ میں ڈورے لیے وہ سرخیاں اچھی لگیں چاک خود ہی ہو گئی اس باغ کے ہی بام پر اف تلک نا ...

مزید پڑھیے

آہ نکلے نہ اب صدا نکلے

آہ نکلے نہ اب صدا نکلے ہاتھ اٹھے تو بس دعا نکلے اشک آنکھوں کی ہے وفاداری جو نہ چھلکے تو بے وفا نکلے تم نہ مجنوں ہو نہ کوئی لیلیٰ عشق عمر دراز کیا نکلے آنکھ ڈرتی ہے اب خیالوں سے خواب کوئی نہ پھر برا نکلے روز پتھر تراشتا ہی رہا شاید ان میں کبھی صدا نکلے اس لیے چپ ہوں خاکساری ...

مزید پڑھیے

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں درد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں سایۂ وصل کب سے ہے آپ کا منتظر مگر ہجر میں جل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے ہاتھ بھی مل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں وقت نے آرزو کی لو دیر ہوئی بجھا بھی دی اب بھی پگھل رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے جو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے وہ بات جو آپ کہہ نہ پائے مری غزل میں بیاں ہوئی ہے میں آپ کا حرف مدعا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے غبار ہوں آپ چاہے غازہ بنائیں یا زیر پا بچھا لیں میں کب سے رقصاں ہوں تھک چکا ہوں ...

مزید پڑھیے

نظر میں نت نئی حیرانیاں لیے پھریے

نظر میں نت نئی حیرانیاں لیے پھریے سروں پہ روز نیا آسماں لیے پھریے اب اس فضا کی کثافت میں کیوں اضافہ ہو غبار دل ہے سو دل میں نہاں لیے پھریے یہی بچا ہے سو اب زیست کی گواہی میں یہی نشان دل بے نشاں لیے پھریے قرار جاں تو سر کوئے یار چھوڑ آئے متاع زیست ہے لیکن کہاں لیے پھریے عجب ہنر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1941 سے 6203