ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں
ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں شام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاں دانہ و دام سے پرے میری اڑان یاد کر مجھ کو تلاش کر نہ دیکھ رکھے ہیں بال و پر کہاں عشق حصار ذات سے دور بہت نکل گیا ایسے میں جبر وقت بھی ہوتا ہے کارگر کہاں ولولہ ہائے شوق سب صرف مہاجرت ہوئے اب سر منزل وفا ...