قومی زبان

ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں

ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں شام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاں دانہ و دام سے پرے میری اڑان یاد کر مجھ کو تلاش کر نہ دیکھ رکھے ہیں بال و پر کہاں عشق حصار ذات سے دور بہت نکل گیا ایسے میں جبر وقت بھی ہوتا ہے کارگر کہاں ولولہ ہائے شوق سب صرف مہاجرت ہوئے اب سر منزل وفا ...

مزید پڑھیے

جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعد

جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعد دیر تک روتے رہے ہم بزم آرائی کے بعد اے سرشت شوق اب ناپید ہو کر دیکھ لے اور کیا ہونا ہے اس ہونے کی رسوائی کے بعد اس قدر سفاک کب تھی وقت کی بے منظری کور چشمی سے بھی بڑھ کر دکھ ہیں بینائی کے بعد خود کو پا لینے کی حسرت میں بہت رسوا ہوئے کچھ سوا ...

مزید پڑھیے

یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں

یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں اس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میں اس کو تہذیب جنوں کہیے کہ مجھ سے پہلے جیسے بکھرے ہیں سبھی لوگ بکھرتا گیا میں نقش کتنے تھے کہ معدوم ہوئے سلسلہ وار اور ہر نقش کے پہلے سے ابھرتا گیا میں ایک تصویر بنائی تھی مکمل نہ ہوئی ایک ہی رنگ لہو رنگ ...

مزید پڑھیے

کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیا

کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیا اتنا شدید وار تھا مجھ کو یقین آ گیا بس یوں ہی کچھ گماں سا تھا کوئی پس سخن بھی ہے در جو لب کشا ہوا مجھ کو یقین آ گیا پھر وہ ہوا کا قہقہہ کان میں گونجنے لگا اور بھی اک دیا بجھا مجھ کو یقین آ گیا دائرہ وار تھا سفر عشق جنوں صفات کا ہجر و وصال کچھ نہ تھا ...

مزید پڑھیے

لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی

لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی اس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھی عشق آثار تھی ہر راہ گزر اس کی تھی ہم بھٹک سکتے نہ تھے راہ بدلتے ہوئے بھی عشق ہے عشق بہ ہر حال نمو پائے گا یعنی جلتے ہوئے بھی اور پگھلتے ہوئے بھی زندگی تیرے فقط ایک تبسم کے لیے ہم کہ ہنستے ہی رہے درد ...

مزید پڑھیے

چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نے

چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نے کچھ اٹھا نہیں رکھا دل دکھانے والوں نے ہم نے خستگی پائی دل گرفتگی پائی خیر ہم سے کیا پایا دل دکھانے والوں نے خوب وضع داری ہے زخم تازہ سے پہلے ہم سے حال دل پوچھا دل دکھانے والوں نے بے قرار ہیں آنکھیں کیسے اب لہو روئیں خشک کر دیا دریا دل ...

مزید پڑھیے

دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتا

دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتا یہ محبت زاد تجدید محبت مانگتا وقت خود ناپائیداری کے لئے مشہور ہے ایسے بے توفیق سے میں خاک شہرت مانگتا میں نے صحرا سے تحیر خیز حیرت مانگ لی خاک ہو جاتا اگر تہذیب وحشت مانگتا دل کو خوش آئی نہیں یہ دولت آسودگی اور کچھ مل جاتی تو یہ کچھ اور ...

مزید پڑھیے

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے کہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئے ہمیں اپنی ہی جانب اب سفر آغاز کرنا ہے سو مثل نکہت گل ہو کے بے قابو نکل آئے یہی بے نام پیکر حسن بن جائیں گے فردا کا سخن مہکے اگر کچھ عشق کی خوشبو نکل آئے اسی امید پر ہم قتل ہوتے آئے ہیں اب تک کہ کب قاتل کے ...

مزید پڑھیے

اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیر

اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیر اب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیر ہم کو ڈھونڈو تو ہمیں کھونے کی خاطر ڈھونڈو خواب تعبیر نہیں ہوتے ہیں حسرت کے بغیر دل کو اک کار مسلسل نے رکھا ہے آباد ایک لمحہ بھی نہیں گزرا محبت کے بغیر یوں بھی دشوار ہے آسودۂ صحرا ہونا اور جب خاک بھی ...

مزید پڑھیے

میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتے

میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتے ہمیں وہ یاد کب آیا اسے ہم یاد کیا کرتے اگر پہچان اپنی اک دل ویران ہے تو پھر وہ ہم کو شاد کیا اور ہم اسے آباد کیا کرتے ہمیں جلدی بہت تھی عشق میں برباد ہونے کی سو پیش و پس میں پڑ کے وقت کو برباد کیا کرتے بھلا یہ آہ و زاری شعبدہ بازوں کے بس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1939 سے 6203