خزاں پھر آ گئی کیا
خزاں کی ابتدا سے انتہا تک سارا موسم ہی خزاں ہے گزرتے جا رہے ہیں جتنے لمحے سب خزاں ہیں مگر وہ نیم جاں پتہ جسے پہلی ہی پروائی کے پہلے سرد جھونکے نے سمیٹا ہے نئے اک ٹوٹتے پتے سے سرگوشی میں کہتا ہے خزاں تو جا چکی تھی
خزاں کی ابتدا سے انتہا تک سارا موسم ہی خزاں ہے گزرتے جا رہے ہیں جتنے لمحے سب خزاں ہیں مگر وہ نیم جاں پتہ جسے پہلی ہی پروائی کے پہلے سرد جھونکے نے سمیٹا ہے نئے اک ٹوٹتے پتے سے سرگوشی میں کہتا ہے خزاں تو جا چکی تھی
جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے زندگی ہی کیا اب تو خواب تک پریشاں ہے اک ہوائے بیتابی ہم کو لے اڑی ورنہ بال و پر کے پردے میں ہمت گریزاں ہے اے ہوائے غم تو نے سب دیے بجھا ڈالے پھر بھی خلوت جاں میں دور تک چراغاں ہے دار و گیر وحشت میں اب پناہ کیا ڈھونڈیں یہ زمین دامن ہے آسماں ...
وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میں اسی کا کرب سمیٹا ہے آج فرصت میں یہ بات سچ ہے کہ بیگار تو نہیں یہ حیات کہ ہم کو زخم تمنا ملے ہیں اجرت میں زیاں یہی ہے کہ کچھ اور سوجھتا ہی نہیں بس ایک دھیان میں رہتے ہیں لوگ شہرت میں ہنر کہو کہ کرامت مگر یہی ہے کہ ہم خوشی کو ڈھال بھی سکتے ہیں ...
ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون میں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کون یہ بات بجھتے دیوں نے کسی سے پوچھی تھی جلے تو ہم تھے مگر خیر جگمگائے کون اسے تلاش تو کرنا ہے پھر یہ سوچتا ہوں زمانہ اور ہے اب زحمتیں اٹھائے کون یہاں تو اپنے چراغوں کی فکر ہے سب کو دیا جلایا ہے سب نے دیے جلائے ...
شکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئی دیا بجھا تو ہمیں روشنی نظر آئی فراز دار پہ کوئی ہمیں نہ پہچانا زمانے والوں کو خوش قامتی نظر آئی سر دیار وفا دوستوں کے جھرمٹ میں دریدہ جسم لیے دوستی نظر آئی اب اور طرز سے نقارۂ خدا گونجے زبان خلق تو خاموش ہی نظر آئی وہ رکھ رکھاؤ نہ دیکھا دیے کے ...
وہ جو زندگی کا قرار تھی وہی صبح نور کہاں گئی وہ جو خواب ناز تھے کیا ہوئے مئے پر سرور کہاں گئی وہ جو انتظار قرار تھا وہی انتظار رار ہے وہ دکھن ہے دل میں نہاں ابھی دل ناصبور کہاں گئی وہی تیرگی کا حصار ہے شب و روز پر مہ و سال ہے ہے جوار قلب پہ تیرگی ابھی دل سے دور کہاں گئی مرے شہریار ...
اس روشن صبح کے دامن میں اک سورج قہر کا چمکا تھا اک تارا جی کا نغمہ تھا جو وادی وادی گونجا تھا اک پروائی تھی وحشت کی اک فطرت کا نقارا تھا نادیدہ تھا وہ دست اجل جو دشت و جبل لرزاتا تھا اور پاؤں تلے سے دھرتی کو بے وہم و گماں سرکاتا تھا اک کھیل رہا کچھ لمحوں کا کچھ لمحے تھے جو آئے گئے سب ...
میرے گھر کے آنگن میں تو جانے پہچانے سب موسم اپنے وقت پہ آ جاتے ہیں موسم گل میں سرخ گلاب اور پیلا گیندا اجلا بیلا گوری چنبیلی چمپا اور گل داؤدی کتنے رنگ بکھر جاتے ہیں پھر موسم کروٹ لیتا ہے یخ بستہ بے مہر ہوا جب رقص زمستاں کا آغاز کیا کرتی ہے سارا آنگن زرد شکستہ جاں پتوں سے بھر جاتا ...
اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کون ہے مگر تعبیر خواب رائیگاں دیکھے گا کون جل رہی ہے دل میں اک آفاق سے رشتے کی لو جیسے ہم دیکھے ہیں سوئے آسماں دیکھے گا کون تو بہت آئندگاں کا کھینچتا ہے انتظار بے خبر وہ رونق آئندگاں دیکھے گا کون ایک احساس شکست شب بہت روشن مگر بے کراں اس بے ...
اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے یعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائے دست نادیدہ کی تحقیق ضروری ہے مگر پہلے جو آگ لگی ہے وہ بجھا دی جائے اس کی خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیں بے حسی وقت کی آواز بنا دی جائے صرف سورج کا نکلنا ہے اگر صبح تو پھر ایک شب اور مری شب سے ملا دی جائے اور ...