قومی زبان

عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہے

عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہے دیے میں اک نئی سی روشنی ہونے لگی ہے نئی کچھ حسرتیں دل میں بسیرا کر رہی ہیں بہت آباد اب دل کی گلی ہونے لگی ہے سو طے پایا مصائب زندگی کے کم نہ ہونگے مگر کم زندگی سے زندگی ہونے لگی ہے ادھر تار نفس سے آ ملی ہے رونق زیست ادھر کم مہلتی میں بھی کمی ...

مزید پڑھیے

دن گزرتے ہیں جو اندیشہ و افکار کے ساتھ

دن گزرتے ہیں جو اندیشہ و افکار کے ساتھ دل دھڑکتا ہے مگر رنج گراں بار کے ساتھ سینکڑوں برسوں پہ پھیلی ہیں حکایات مگر واقعے ایک سے وابستہ ہیں تلوار کے ساتھ یوں تو سنگینی و بالا قدی اچھی ہے مگر ایک سائے کا تصور بھی ہے دیوار کے ساتھ اب کھلا اپنی ہی جانب یہ سفر ہے کہ یہاں فاصلے اور ...

مزید پڑھیے

عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیں

عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیں ابھی زندہ ہیں اور ناکامیٔ قاتل پہ روتے ہیں ہمیں رہ رہ کے طوفاں کی رفاقت یاد آتی ہے ہیں اب آسودۂ ساحل کھڑے ساحل پہ روتے ہیں بہت ہم کو رلایا ماضی و امروز نے سو اب نشاط گریہ ایسا ہے کہ مستقبل پہ روتے ہیں گروہ عاشقاں تھا شہر گریہ ان کی منزل ...

مزید پڑھیے

روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہے

روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہے دل کو احساس زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے محفل ماہ وشاں میں تو غزل ہو نہ سکی بزم آشفتہ سراں ہو تو غزل ہوتی ہے صرف آنکھوں میں نمی سے نہ بنے گی کوئی بات ایک دریا سا رواں ہو تو غزل ہوتی ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ کسی کی وہ نظر میری جانب نگراں ہو تو غزل ہوتی ...

مزید پڑھیے

زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں

زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں بے کراں تعبیر ہوگی یہ کہاں سمجھا تھا میں راہ رو گزرے چلے جاتے تھے راہ زیست پر اک ہجوم جسم و جاں کو کارواں سمجھا تھا میں اتنی نزدیکی کہ جیسے چھو رہا ہوں خود کو میں حرز جاں ہے وہ جسے وہم و گماں سمجھا تھا میں تھا بہت سفاک تنسیخ تعلق کا ...

مزید پڑھیے

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں کاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیں ہے کرامت مرے دل کی ترے ناوک میں نہیں وار ہو ایک مگر زخم بہتر آ جائیں گفتگو آج تو دو ٹوک کرے گا سورج ظل سبحانی شبستان سے باہر آ جائیں شب کو یلغار تفکر سے جو بچ نکلوں میں صبح دم تازہ خیالات کے لشکر آ ...

مزید پڑھیے

آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہم

آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہم روتی ہی رہی روح سو گاتے ہی رہے ہم جل اٹھنے میں جل بجھنے میں اک لمحہ لگا تھا پھر خواب سر دید اڑاتے ہی رہے ہم ہر خندۂ بے تاب تھا مقتول ہمارا ویسے تو ہنسے اور ہنساتے ہی رہے ہم

مزید پڑھیے

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے بس رہے ہیں آنکھوں میں پھر بھی خواب دنیا کے دل بجھے تو تاریکی دور پھر نہیں ہوتی لاکھ سر پہ آ پہنچیں آفتاب دنیا کے دشت بے نیازی ہے اور میں ہوں اب لوگو اس جگہ نہیں آتے باریاب دنیا کے زندگی سے گزرا ہوں کتنا بے نیازانہ ساتھ ساتھ چلتے تھے انقلاب ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے

نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے عذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہے عجب ہے ذوق تماشا کہ گھر جلا کر لوگ یہ چاہتے ہیں سمجھنا کہ روشنی کیا ہے پس نظر ہو اگر مقصد حیات تو پھر یہ زیست وقت گزاری ہے زندگی کیا ہے میں ملتجی ہوں نہ وہ ملتفت مگر پھر بھی یہ ایک آگ دلوں میں لگی ہوئی کیا ...

مزید پڑھیے

کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتا

کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتا میں رونا چاہتا ہوں اور وہ رونے نہیں دیتا سر آغاز ہر شب اک نیا غم گھیر لیتا ہے جو خود بھی جاگتا ہے اور مجھے سونے نہیں دیتا نئے غم بخشتا ہے دل کو بہلائے بھی جاتا ہے غرض وہ اعتبار غم کبھی کھونے نہیں دیتا بہت جی چاہتا ہے خود کو اب رو لیں سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1938 سے 6203