قومی زبان

اونٹ سب واپس پھرے آگے کوئی صحرا نہ تھا

اونٹ سب واپس پھرے آگے کوئی صحرا نہ تھا نقش پا ہی نقش پا تھے دور تک رستہ نہ تھا اپنے اندر کتنے موسم اور باہر زردیاں میں فصیل جسم میں جب تھا تو یوں پھیکا نہ تھا پھر کھجوروں کے درختوں میں دھواں سا کس لیے آگ جب تاپی نہ تھی اور قافلہ ٹھہرا نہ تھا کاغذی پوشاک میں وہ گھر سے جب باہر ...

مزید پڑھیے

بدن کی اوٹ سے تکنے لگا ہے

بدن کی اوٹ سے تکنے لگا ہے وہ اپنا ذائقہ چکھنے لگا ہے منڈیروں پر پرندے چہچہائے پس دیوار پھل پکنے لگا ہے بہت لمبی مسافت ہے بدن کی مسافر مبتدی تھکنے لگا ہے اسے اندھا سفر کیا راس آیا قدم بے ساختہ رکھنے لگا ہے

مزید پڑھیے

پاگل ہوا کے دوش پہ جنس گراں نہ رکھ

پاگل ہوا کے دوش پہ جنس گراں نہ رکھ اس شہر بے لحاظ میں اپنی دکاں نہ رکھ اس کا دیا ہوا ہے جسم اس کے سپرد کر رکھنے کی اس ہوس میں تو دونوں جہاں نہ رکھ اس کا زوال دیکھ کے وہ سلطنت نہ چھوڑ اس زندگی میں لمحۂ سود و زیاں نہ رکھ وہ فصل پک چکی تھی اب اس کا بھی کیا قصور تجھ سے کہا تھا جیب میں ...

مزید پڑھیے

مقتل میں مکالمہ

قتل گاہ کی رونق حسب حال رکھنی ہے غم بحال رکھنا ہے جاں سنبھال رکھنی ہے زور بازوئے قاتل انتہا کا رکھنا ہے دشنہ تیز رکھنا ہے اور بلا کا رکھنا ہے اور کیا مرے قاتل انتظام باقی ہے کوئی بات ہونی ہے کوئی کام باقی ہے وقت پر نظر رکھنا وقت ایک جادہ ہے ہاں بتا مرے قاتل تیرا کیا ارادہ ہے وقت کم ...

مزید پڑھیے

خزاں موسم نہیں ہے

خزاں موسم نہیں ہے ایک لمحہ ہے کہ جس کی آرزو میں سبز پتے ہوا کی آہٹوں پر کان دھرتے ہیں گزرتے وقت میں ساعت بہ ساعت نئے پیراہنوں میں گلابی اور گہرے سرخ عنابی دہکتے خوش نما رنگوں سے لے کر زرد ہونے تک کبھی دھیمے کبھی اونچے سروں میں بات کرتی خوشبوؤں میں بس بسا کر ہوا کے ساتھ محو رقص ...

مزید پڑھیے

یاد رکھنے کا ہنر

سنو یہ یاد رکھنے کا ہنر آساں نہیں ہوتا مجھے تم یاد ہو اور میری ہر ہر سانس میں بس کر مشام جاں معطر کر رہی ہو ٹھیک ہے لیکن بھلا وہ کون تھا جس نے تمہیں پہلے پہل چاہا وہ میرا عشق تھا میں تھا وہ شاید میں ہی تھا لیکن نہیں ہے یاد اب کچھ بھی سنو یہ یاد رکھنے کا ہنر آساں نہیں ہوتا کسی کو یاد ...

مزید پڑھیے

وداع

وقت رخصت وہ چپ تھی بس ہاتھوں میں گلدستہ تھا جس میں تین ہی پھول تھے لیکن ہر اک باتیں کرتا تھا دو اس کی آنکھوں جیسے تھے ایک مرے دل جیسا تھا

مزید پڑھیے

عشق کہانی

میں بے قیمت تم بے قیمت پھر یہ اپنی عشق کہانی کون سنے گا سب کے اپنے اپنے قصے سب کی اپنی اپنی باتیں سب کی اپنی اپنی صحبت سب کی اپنی اپنی راتیں سب کے غم بس ذاتی غم ہیں سب کی خوشیاں ذاتی خوشیاں ہم کہتے ہیں وہ بے قیمت وہ کہتے ہیں ہم بے قیمت ایسے میں کس کس کی کہانی کس کی زبانی کون سنے ...

مزید پڑھیے

انتقام

جب راہیں سب مسدود ہوئیں سب نیست ہوئیں نابود ہوئیں دشمن کو کھوجتے پھرنے کی تھیں کاوشیں جو بے سود ہوئیں پسپائیاں جو موجود نہ تھیں اک آن میں آ موجود ہوئیں میں سوچ کے اک دوراہے پر حیراں آزردہ آ پہنچا یہ ساری تگ و دو تنہا تھی اس موڑ پہ بھی تنہا پہنچا لیکن اس تنہا منظر میں اک چہرہ اور ...

مزید پڑھیے

تنہائی

اس صف میں بھی سب دشمن ہیں اس صف میں بھی سب دشمن ہیں جو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اور دل میں نفرت کو پالے بارود کے ڈھیر پہ بیٹھے ہیں بس اک ساعت کی دوری پر اس انساں کی مجبوری پر کوئی رونے والا بھی تو نہیں کوئی ہنسنے والا بھی تو نہیں اس ساعت خوں آشام سے تھی وہ ساری رونق منظر کی اس ساعت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1936 سے 6203