قومی زبان

یہ کھیت سبزہ شجر رہ گزار سناٹا

یہ کھیت سبزہ شجر رہ گزار سناٹا اگا ہے دور تلک بے شمار سناٹا ہمارے خواب کوئی اور دیکھ لیتا ہے ہماری آنکھ خلا انتظار سناٹا وہ کشتۂ رہ صوت و صدا ہوا شاید وہ ایک لفظ تھا جس کا حصار سناٹا ہے لفظ لفظ میں بجھتے مکالموں کا دھواں سکوت عشق ہے یا بے قرار سناٹا کبھی تو چھیڑ کوئی ساز کوئی ...

مزید پڑھیے

پہلے تو اک خواب تھا خاکستر و خاور کے بیچ

پہلے تو اک خواب تھا خاکستر و خاور کے بیچ اب اندھیری شب ہے حائل اس کے میرے گھر کے بیچ حادثے جیسے ہیں سب دیکھے ہوئے سمجھے ہوئے کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ سب سپاہی اپنی اپنی ذات میں مصروف تھے شاہزادہ اب کے تنہا ہی لڑا لشکر کے بیچ عصر حاضر کے سوا بھی کچھ زمانے اور ...

مزید پڑھیے

دشمن وشمن نیزہ ویزا خنجر ونجر کیا

دشمن وشمن نیزہ ویزا خنجر ونجر کیا عشق کے آگے مات ہے سب کی لشکر وشکر کیا ایک ترے ہی جلوے سے روشن ہیں یہ آنکھیں ساعت واعت لمحے وحے منظر ونظر کیا تیرے روپ کے آگے پھیکے چاند ستارے بھی بالی والی کنگن ونگن زیور ویور کیا تیرا نام ہی انتم سر ہے دھرتی تا آکاش سادھو وادھو پنڈت ونڈنت ...

مزید پڑھیے

مثال خواب ہمیشہ کسی سفر میں رہے

مثال خواب ہمیشہ کسی سفر میں رہے ہم اپنی نیند میں بھی اس کی رہ گزر میں رہے کسی کی یاد کے بادل برسنے والے تھے بہت خراب تھا موسم سو آج گھر میں رہے تمام عمر اسی جسم سے شکایت تھی تمام عمر اسی جسم کے کھنڈر میں رہے متاع درد کو آخر کہاں کہاں رکھتے سو میرے گنج گراں مایۂ ہنر میں رہے یہ ...

مزید پڑھیے

کبھی ہے گل کبھی شمشیر سا ہے

کبھی ہے گل کبھی شمشیر سا ہے وہ گویا وادئ کشمیر سا ہے روابط سب حصار ہجر میں ہیں تعلق ٹوٹتی زنجیر سا ہے برا سا خواب دیکھا تھا جو شب میں یہ دن اس خواب کی تعبیر سا ہے ہیں گردش میں لہو ساعت مناظر زمانہ آنکھ میں تصویر سا ہے قمرؔ گرداب تک آؤ تو جانو جو مژدہ لہروں پہ تحریر سا ہے

مزید پڑھیے

وہ اک وجود زمیں پر بھی آسماں کی طرح

وہ اک وجود زمیں پر بھی آسماں کی طرح مرے حدود سے باہر ہے لا مکاں کی طرح وہ اک خیال کوئی بحر بیکراں جیسے مری نظر کسی بوسیدہ بادباں کی طرح ازل سے سر پہ کھڑی دوپہر کا منظر ہے سو اب یہ دھوپ بھی لگتی ہے سائباں کی طرح میں حرف حرف اسے ہی سمیٹنا چاہوں مگر وہ پھیلتا جاتا ہے داستاں کی ...

مزید پڑھیے

یہ مرتبہ کوشش سے میسر نہیں ہوتا

یہ مرتبہ کوشش سے میسر نہیں ہوتا ہر فاتح ایام سکندر نہیں ہوتا ہر روز نئی جنگ ہے ہر روز نئی جہد کب اپنے مقابل کوئی لشکر نہیں ہوتا بے سوچے ہوئے کام تو ہو جاتے ہیں سارے جو سوچتے ہیں ہم وہی اکثر نہیں ہوتا ہر پل وہی وحشت ہے وہی رقص ستم ناک کس لمحہ یہاں فتنۂ محشر نہیں ہوتا آ لیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

مجبور ہوں آہ کر رہا ہوں

مجبور ہوں آہ کر رہا ہوں نادم ہوں گناہ کر رہا ہوں پھولوں کی تلاش ہے نظر کو کانٹوں پہ نگاہ کر رہا ہوں اے برق ٹھہر کہ اپنا گلشن میں خود ہی تباہ کر رہا ہوں بس ایک تری خوشی کی خاطر ہر غم سے نباہ کر رہا ہوں اس کی نظر اپنی سمت پا کر ہر سمت نگاہ کر رہا ہوں منزل کا تو کچھ پتا نہیں ہے سجدے ...

مزید پڑھیے

کون ہم سے سوا سمجھتا ہے

کون ہم سے سوا سمجھتا ہے کس سے پوچھیں کہ زندگی کیا ہے آج کچھ دیر رو لئے ہم بھی آج کچھ دل کا بوجھ ہلکا ہے اب نہ آئے گا وہ خبر تھی مگر راستہ اس کا پھر بھی دیکھا ہے اب مراسم میں وہ تپاک نہیں ملنا جلنا یہ چند دن کا ہے اور تو یاد ہے اسے سب کچھ وہ مگر خود کو بھول بیٹھا ہے عشق جب دل کا ہم ...

مزید پڑھیے

ہر چند کہ غالب کے طرف دار بہت ہیں

ہر چند کہ غالب کے طرف دار بہت ہیں لیکن یہ مرے دوست پر اسرار بہت ہیں جمتی ہوئی دیکھی ہے ہتھیلی پہ بھی سرسوں یہ لوگ زمانے کے تو فن کار بہت ہیں شرمندۂ احساس نہ ہو گردش دوراں بربادئ جاں کو تو مرے یار بہت ہیں یہ عقل کہے راہ ملاقات نہیں ہے دل ہم سے کہے اس برس آثار بہت ہیں کچھ ان کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1926 سے 6203