قومی زبان

اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہے

اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہے محرومی کے صدمے سہنا تیری میری عادت ہے ارمانوں کی نازک مالائیں پہنانا شاموں کو یاد پون کے ساتھ ہی بہنا تیری میری عادت ہے خوب سلگتے جانا برفیلے لمحوں کے سایوں میں دکھ کا ایک بھی لفظ نہ کہنا تیری میری عادت ہے خوابوں سے بہلانا دل کو ہو ...

مزید پڑھیے

اے ہم نفسو درد کی یہ رات کڑی ہے

اے ہم نفسو درد کی یہ رات کڑی ہے سر تھامے ہوئے دل میں کہیں آس کھڑی ہے ہم رنگ شفق ہے دل معصوم کا عالم وہ دور تمنا کی سحر چپ کے کھڑی ہے اجلی تھی تری یاد کی یہ زرد سی پتی خاکستر ایام میں خاموش پڑی ہے ان آنکھوں میں پھر دیکھا حیا رنگ تبسم رستے میں قضا سے مری پھر آنکھ لڑی ہے پھر دست صبا ...

مزید پڑھیے

یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا

یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا کب تک تلاش کیجیئے آسودہ حالیاں افسردہ ماہ و سال تمہیں کون دے گیا دل کے قریب ہجر کی رت ...

مزید پڑھیے

جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں

جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں اک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میں کچھ لطف کی گرمی کی خاطر کچھ جان وفا کے صدقے میں گیسوئے الم کے سائے میں راحت سی ملی ہے پینے میں آغوش تمنا چھو آئیں جب زلف یار کی خوشبو میں آنکھوں میں ساون لہرایا دیپک سا سلگا سینے ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہا

تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہم سفر رہا میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا تاریک تھی یہ رات مگر یاد کی کرن آئی تو نور حسن کا دروازہ پھر کھلا حائل ہوئے دلوں پہ ...

مزید پڑھیے

ہے مرے دل کی یہ تصویر نظر میں رکھ لو

ہے مرے دل کی یہ تصویر نظر میں رکھ لو ایک ٹوٹا ہوا ارمان ہوں گھر میں رکھ لو جانتا ہوں کہ ابھی ساتھ نہیں آ سکتا پر مری یاد تو سامان سفر میں رکھ لو یوں تو اڑنے کے لئے طاقت پرواز بھی ہے پھر بھی چاہو تو مرا حوصلہ پر میں رکھ لو یہ وہی گاؤں ہیں فصلیں جو اگاتے تھے کبھی بھوک لے آئی ہے ان ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے اسے ہم نے جدا رکھا ہے

ایک مدت سے اسے ہم نے جدا رکھا ہے یہ الگ بات ہے یادوں میں بسا رکھا ہے ہے خلا چاروں طرف اس کے تو ہم کیوں نہ کہیں کس نے اس دھرتی کو کاندھوں پہ اٹھا رکھا ہے جو سدا ساتھ رہے اور دکھائی بھی نہ دے نام اس کا تو زمانے نے خدا رکھا ہے مرے چہرے پہ اجالا ہے تو حیراں کیوں ہے ہم نے سپنے میں بھی ...

مزید پڑھیے

بستی میں قتل عام کی کوشش نہ بن سکا

بستی میں قتل عام کی کوشش نہ بن سکا میں قاتلوں کے ذہن کی سازش نہ بن سکا کوئی کمی نہ اس میں تھی شاید اسی لیے وہ شخص میرے واسطے خواہش نہ بن سکا میں رک نہیں سکا تو مری بے بسی تھی یہ بادل تھا اس کے صحن میں بارش نہ بن سکا جس پر تمام عمر بہت ناز تھا مجھے میرا وہ علم میری سفارش نہ بن ...

مزید پڑھیے

ان کی آنکھوں کے اشارے دیکھے

ان کی آنکھوں کے اشارے دیکھے یعنی جینے کے سہارے دیکھے کیا کہیں دل کی جراحت کیا ہے تم نے کب زخم ہمارے دیکھے صبح تک آتا رہا تیرا خیال رات بھر ہم نے ستارے دیکھے پاس غیروں کا ہے اپنوں سے سوا سب چلن ہم نے تمہارے دیکھے اس نے جب ہم سے نگاہیں پھیریں دل پہ چلتے ہوئے آرے دیکھے قہر ڈھاتا ...

مزید پڑھیے

جب ذکر وفا آئے

جب ذکر وفا آئے دل کیوں مرا گھبرائے یہ رات کی خاموشی باتیں تری دہرائے پھر خود کو میں بھولا ہوں پھر یاد کوئی آئے جو تجھ کو گنوا بیٹھا اپنے کو وہ کیا پائے کچھ اور بڑھی دوری جب جب وہ قریب آئے ہے کون سوا تیرے اس دل میں جو بس جائے قسمت یہ کہاں دانشؔ کوئی مرا ہو جائے

مزید پڑھیے
صفحہ 1927 سے 6203