اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہے
اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہے محرومی کے صدمے سہنا تیری میری عادت ہے ارمانوں کی نازک مالائیں پہنانا شاموں کو یاد پون کے ساتھ ہی بہنا تیری میری عادت ہے خوب سلگتے جانا برفیلے لمحوں کے سایوں میں دکھ کا ایک بھی لفظ نہ کہنا تیری میری عادت ہے خوابوں سے بہلانا دل کو ہو ...