قومی زبان

چاند جب میری چھت پہ آتا ہے

چاند جب میری چھت پہ آتا ہے ہر دیے کو گلے لگاتا ہے جور و ظلم و ستم کی ظلمت میں صبر کا جگنو جگمگاتا ہے غم کے سورج کی تیز کرنوں سے دل کا تالاب سوکھ جاتا ہے نیند اڑ جاتی ہے سیاست کی جب قلم انقلاب لاتا ہے کیا قریب آ گئی مری منزل کیوں قدم میرا ڈگمگاتا ہے وہ مرا عکس اعتبار ہے جو تیری ...

مزید پڑھیے

چاند نکلے گا تو گھر گھر میں اجالے ہوں گے

چاند نکلے گا تو گھر گھر میں اجالے ہوں گے چاندنی رات میں سب روشنی والے ہوں گے منزل شوق پہ چمکیں گے جو موتی کی طرح وہ مسافر کے تھکے پاؤں کے چھالے ہوں گے ہوتے لبریز تو رہ رہ کے چھلکتے کیسے در حقیقت وہ سبھی خالی پیالے ہوں گے خون جس وقت سیاہی سے بھی سستا ہوگا خون سے چھاپے ہوئے غم کے ...

مزید پڑھیے

حرف دریا ہے دل سمندر ہے

حرف دریا ہے دل سمندر ہے پیاس پھر بھی مرا مقدر ہے تم کہاں تک مجھے سنبھالو گے راہ میں ہر قدم پہ ٹھوکر ہے میرے آنسو کا ایک اک قطرہ اپنی اپنی جگہ سمندر ہے پاؤں ہے فرش خاک پر میرا چشم افکار آسماں پر ہے دل میں روشن ہے جو چراغ حق اس کا قد چاند کے برابر ہے لفظ کی سادگی ہے اس کا ...

مزید پڑھیے

لب فسردہ کو ساغر تلاش کرتا ہے

لب فسردہ کو ساغر تلاش کرتا ہے شکستہ ناؤ کو لنگر تلاش کرتا ہے وہ کون شخص تھا جو دشت ظلمت غم میں مسرتوں کا سمندر تلاش کرتا ہے ضرور چھیڑے گا حق کی لڑائی کاغذ پر قلم خیال کا لشکر تلاش کرتا ہے سفر جو کرتا ہے ہمت کی رہنمائی میں قدم قدم پہ وہ ٹھوکر تلاش کرتا ہے غزل کے جسم پہ بازار فن ...

مزید پڑھیے

زمانہ دیتا ہے جس کو وقار کی خوشبو

زمانہ دیتا ہے جس کو وقار کی خوشبو طواف کرتی ہے اس کا بہار کی خوشبو ہمارے حصے میں آئی جو خار کی خوشبو بہت ہی خوش تھی چمن کی بہار کی خوشبو خلوص دل کے گلوں کے نکھار کی خوشبو وفا کے جسم سے آتی ہے پیار کی خوشبو چبھا ہے اس کی ہتھیلی میں کوئی خار ضرور چمن میں چیخ رہی ہے بہار کی ...

مزید پڑھیے

خودی کے باغ کے پھولوں کی تازگی ہوں میں

خودی کے باغ کے پھولوں کی تازگی ہوں میں بہار حسن تمدن کی دل کشی ہوں میں ضمیر ظرف ہوں تہذیب عاجزی ہوں میں مزاج صبر و تحمل کی سادگی ہوں میں نہ چاند ہوں نہ ستارہ نہ چاندنی ہوں میں چراغ عظمت غیرت کی روشنی ہوں میں سلگتی دھوپ کی خاطر ہوں چھاؤں راحت کی ادب کی خشک زمیں کے لیے نمی ہوں ...

مزید پڑھیے

دل پر نگاہ ناز کا جادو جو چل گیا

دل پر نگاہ ناز کا جادو جو چل گیا وہ سرحد شعور سے آگے نکل گیا چھت پر مری اترتی نہیں دھوپ آج کل سورج مرے خلاف کوئی چال چل گیا لوگوں نے مجھ کو اپنی نظر سے گرا دیا جس دن سے میں خلوص کے سانچے میں ڈھل گیا کیوں ہنستے ہنستے آنکھ سے آنسو نکل پڑے کیوں یک بیک بہار کا موسم بدل گیا گوہر جسے ...

مزید پڑھیے

بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے

بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے یہ گھر جس نے بنایا ہے وہ وہ صاحب خانہ آتا ہے خدا کے واسطے منہ سے لگا دے خم کے خم ساقی بڑا گھنگھور بادل جانب مے خانہ آتا ہے نکل جاتا ہے منہ سے نام ان کا باتوں باتوں میں زباں پر جو نہ آنا تھا وہ بیتابانہ آتا ہے نکلتی ہے کسی پر جھوم کر وہ مجھ ...

مزید پڑھیے

ہر شے میں مجھے کل کا تماشا نظر آیا

ہر شے میں مجھے کل کا تماشا نظر آیا قطرہ لئے آغوش میں دریا نظر آیا تھی شوخ نگاہی کسی ظالم کی قیامت جذبات کا عالم تہہ و بالا نظر آیا جب آنکھ کھلی وہم بھی تھا اصل سراسر جب راز کھلا اصل بھی دھوکا نظر آیا پہلو میں جو تھا دل تو فقط خون کا قطرہ آنکھوں میں پہنچتا تھا کہ دریا نظر آیا جب ...

مزید پڑھیے

آرام ہے ہمارا

نہ رکھ نیام میں رہنے دے بے نیام ابھی تو اس کو ہاتھ میں کچھ دیر اور تھام ابھی کچھ اور لینا ہے خنجر سے تجھ کو کام ابھی عدو کا کام ہوا ہے کہاں تمام ابھی محافظ وطن آرام ہے حرام ابھی ابھی تو چھائی ہوئی ہے افق پہ غم کی گھٹا ابھی تو شعلہ فشاں ہے ہمالیہ کی فضا ابھی تو چلتی ہے سرحد پر تند و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1916 سے 6203