قومی زبان

غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے

غنچے چٹک گئے چمن روزگار کے پھوٹے حباب موج نسیم بہار کے رضواں جو ٹوکے گا در فردوس پر ہمیں کہہ دیں گے رہنے والے ہیں ہم کوئے یار کے آنکھیں ترس رہی ہیں مری تیری زلف کو تارے چمک رہے ہیں شب انتظار کے آغاز میں بھی ہم کو ہے انجام کا خیال دھڑکے شباب میں بھی ہیں روز شمار کے مضمون ہیں ہرن ...

مزید پڑھیے

ہر اک منزل قیام رہ گزر معلوم ہوتی ہے

ہر اک منزل قیام رہ گزر معلوم ہوتی ہے ہمیں تو زندگی پیہم سفر معلوم ہوتی ہے وہی تنہائی کا عالم وہی بے رونقی ہر سو بیاباں تیری خاموشی بھی گھر معلوم ہوتی ہے ہمارے حاسدوں کی چال آخر رنگ لے آئی بہت بدلی ہوئی ان کی نظر معلوم ہوتی ہے مسیحا بھول جا تیری دوا کچھ کام آئے گی کہ ہر تدبیر اب ...

مزید پڑھیے

ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے

ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے جو گرے تو نقش قدم بنے جو اٹھے تو بانگ درا ہوئے کبھی داغ کھاتے ہی آہ کی کہیں آہ کرتے ہی رو دئے کبھی ہم چمن کی ہوا ہوئے کبھی ہم ہوا کی گھٹا ہوئے جو ہوائے درد بکھر گئی نظر ان کی صاف بدل گئی جو اسیر حلقۂ ناز تھے وہ قتیل تیغ ادا ہوئے ہمہ ...

مزید پڑھیے

لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیں

لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیں ہائے اس بھول بھلیاں میں دغا دیتے ہیں رحم بھی ظلم و ستم سے نہیں خالی ان کا دامن تیغ سے زخموں کو ہوا دیتے ہیں دل میں درد آنکھوں میں آشوب جگر میں سوزش عشق کیا دیتے ہیں اک روگ لگا دیتے ہیں منعموں کا نہیں دریوزہ گروں پر احساں آپ کیا دیں گے وہ خالق ...

مزید پڑھیے

ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کی

ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کی گلے تک اٹھ گئی گلزار میں دیوار پھولوں کی بہار آئی ہے گلشن نے قبائے سبز بدلی ہے جوانان چمن کے سر پہ ہے دستار پھولوں کی چمن میں آج کل اس زور سے پانی برستا ہے ہوئی ہے بلبلوں پر ہر طرف بوچھار پھولوں کی بکے ہیں کوڑیوں کے مول دعویٰ کر ...

مزید پڑھیے

جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے

جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے جو عضو ظاہر خدا بناتا تو دیدۂ اشک بار ہوتے جو گرد کر کے خدا اڑاتا تو اڑتے گرد ملال ہو کر جو سنگ کر کے خدا جماتا تو جم کے لوح مزار ہوتے خدا جو شانہ ہمیں بناتا تو ہم خلش ہوتے اپنے دل کی خدا جو آئینہ ہم کو کرتا تو اپنے حیران کار ہوتے جو روز ...

مزید پڑھیے

جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیں

جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیں وہ یہاں بھی ہے وہ وہاں بھی ہے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیں یہ نصیب تیرے شہید کا کہ کمال شوق تھا دید کا جو گلا بھی ہے تو وہ تر نہیں جو چھری بھی ہر تو رواں نہیں میں وہ سرو باغ وجود ہوں میں وہ گل ہوں شمع حیات کا جسے فصل گل کی خوشی نہیں جسے ...

مزید پڑھیے

جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گا

جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گا ٹوکری پھولوں کی سارا آشیاں ہو جائے گا جب اٹھے گا جوش مے بن جائے گا وہ آفتاب جب اڑے گا خم کا سرپوش آسماں ہو جائے گا جسم و جاں کا فیصلہ سارا اسی کے ہاتھ ہے پاؤں تیری تیغ کا خود درمیاں ہو جائے گا معجز شق القمر دکھلائے گی انگشت‌‌ حسن چاند ...

مزید پڑھیے

آ گئی فصل نو بہار دشت میں وہ ہوا چلی

آ گئی فصل نو بہار دشت میں وہ ہوا چلی سر پہ ہوا جنوں سوار عقل پیادہ پا چلی باغ سے جب ہوا چلی میکدے سے گھٹا چلی دل کی کلی کھلا چلی دل کی لگی بجھا چلی تو نے نہ آ کے دید کی بیٹھ کے گھر میں عید کی لاش ترے شہید کی جانب کربلا چلی واہ رے دورۂ شراب خانقہیں ہوئیں خراب جھوم رہے ہیں شیخ و شاب ...

مزید پڑھیے

منکر ہوتے ہیں ہنر والے

منکر ہوتے ہیں ہنر والے نخل جھک جاتے ہیں ثمر والے ہم نے گھورا تو ہنس کے فرمایا اچھے آئے بری نظر والے منہدی مل کر وہ شوخ کہتا ہے سینک لیں آنکھیں چشم تر والے ہے سلامت جو سنگ در ان کا سیکڑوں مجھ سے درد سر والے قدرؔ کیا اپنے پاس دل کے سوا اڑیں پر والے پھولیں زر والے

مزید پڑھیے
صفحہ 1915 سے 6203