قومی زبان

ہمارا پنجاب

تہذیب کا رہبر ہے یہ پنجاب ہمارا ہر علم کا مصدر ہے یہ پنجاب ہمارا ہر فن میں معقر ہے یہ پنجاب ہمارا عرفاں سے منور ہے یہ پنجاب ہمارا جنت سے بھی برتر ہے یہ پنجاب ہمارا ساحر بھی فسوں کار بھی ہیں اس کی بہاریں سرمست بھی سرشار بھی ہیں اس کی بہاریں دل کش بھی طرح دار بھی ہیں اس کی بہاریں گل ...

مزید پڑھیے

میرے لب پر ہنسی جو آئی ہے

میرے لب پر ہنسی جو آئی ہے وہ بھی اپنی نہیں پرائی ہے کیا بھروسہ کرے وہ پھولوں پر جس نے خوشبو سے چوٹ کھائی ہے مان لی ہار اس نے بادل سے یہ تو سورج کی جگ ہنسائی ہے بند ہیں ساری کھڑکیاں گھر کی اے ہوا تو کدھر سے آئی ہے بجلیوں کو سزا نہ دے بادل آگ تو برف نے لگائی ہے کیا کسی کو دکھائے ...

مزید پڑھیے

غم میں ڈوبی صبح پھیکی شام دیکھ

غم میں ڈوبی صبح پھیکی شام دیکھ التفات گردش ایام دیکھ ظرف خودداری شرافت خامشی ان کتابوں میں ہمارا نام دیکھ میکدے میں ہے فضائے اشک غم لے رہا ہے سسکیاں ہر جام دیکھ شہر میں گرجے تو برسے دشت میں دور نو کے بادلوں کا کام دیکھ ہو گئے وہ مائل لطف و کرم صبر کے آغاز کا انجام دیکھ دانے ...

مزید پڑھیے

خیال و فکر کے پر میں اڑان باندھ کے چل

خیال و فکر کے پر میں اڑان باندھ کے چل سخن کے پاؤں میں تو آسمانوں باندھ کے چل غزل کی بزم میں شرکت جو کرنی ہے تجھ کو اک ایک شعر میں فن کی زبان باندھ کے چل نہ جانے کب اسے طوفاں کا سامنا ہو جائے پرانی ناؤ میں تو بادبان باندھ کے چل سلگتی دھوپ میں وہ سر کے کام آئے گا سفر میں حوصلے کا ...

مزید پڑھیے

گوہر نایاب کو کہتا ہے پتھر آدمی

گوہر نایاب کو کہتا ہے پتھر آدمی پتھروں کو کہتا ہے نایاب گوہر آدمی تم کرو یہ فیصلہ کب اس سے ملنا چاہیے دن میں کھلتا پھول ہے شب میں ہے خنجر آدمی میرے چہرے کو بخوبی راز یہ معلوم ہے آدمی کب آئنہ ہے کب ہے پتھر آدمی اپنی آنکھیں بند کرکے کرتا ہے جب بھی سفر راستے میں کھاتا ہے ٹھوکر پے ...

مزید پڑھیے

گھٹاؤں سے جب بھی ملاقات ہوگی

گھٹاؤں سے جب بھی ملاقات ہوگی سمندر کے دکھ درد کی بات ہوگی بتا اے فلک کب سلگتی زمیں پر گھٹاؤں کی چشم عنایات ہوگی سکون جگر تم کسی سے نہ مانگو یہ دولت ملی بھی تو خیرات ہوگی اگر زخم دل پر لگاؤ گے مرہم نہ گرجے گا بادل نہ برسات ہوگی خبر کیا تھی مٹ جائے گی آدمیت کہیں نسل ہوگی کہیں ذات ...

مزید پڑھیے

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے محبتوں میں خود اپنا حصار ٹوٹتا ہے کوئی تو ہے جو در خیمۂ محبت پر جبیں جھکائے بصد افتخار ٹوٹتا ہے عجیب نشۂ احساس کی گرفت میں ہوں ترے قریب جو آؤں خمار ٹوٹتا ہے میں اس لہو میں سے ہوں جس کا ایک اک قطرہ فصیل ظلم پہ دیوانہ وار ٹوٹتا ہے

مزید پڑھیے

کسی سے وعدہ و پیمان بھی نہیں میرا

کسی سے وعدہ و پیمان بھی نہیں میرا یہاں سے لوٹنا آسان بھی نہیں میرا میں لخت لخت ہوا آسماں سے لڑتے ہوئے مگر یہ خاک پہ احسان بھی نہیں میرا میں صرف اپنی حراست میں دن گزارتا ہوں مرے سوا کوئی زندان بھی نہیں میرا سکوت شب میں تری چشم نیم وا کے سوا کوئی چراغ نگہبان بھی نہیں میرا دھری ...

مزید پڑھیے

نفی کو قریۂ اثبات سے نکالتا ہوں

نفی کو قریۂ اثبات سے نکالتا ہوں میں اپنی ذات تری ذات سے نکالتا ہوں کشید کرتا ہوں میں دن کی آگ سے ٹھنڈک اور اپنی دھوپ کہیں رات سے نکالتا ہوں تو ایک رخ پہ ہے محو کلام لیکن میں کئی معانی تری بات سے نکالتا ہوں دعا کے ہالے بنا کر ترے جمال کے گرد تجھے میں گردش و آفات سے نکالتا ...

مزید پڑھیے

نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے

نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے پلٹ کے آتے اگر ہم بھی کوئی گھر رکھتے عجیب وحشت شب تھی کہ شام ڈھلتے ہی تمام لوگ منڈیروں پر اپنے سر رکھتے جو اپنی فتح کے نشے میں چور تھے وہ بھلا سلگتے شہر کے منظر پہ کیا نظر رکھتے یہ اور بات کہ سرسبز تھے بہت لیکن ہم ایسے پیڑ نہ بن پائے جو ثمر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1917 سے 6203