قومی زبان

لوح محفوظ ترا زیر و زبر کیسا ہے

لوح محفوظ ترا زیر و زبر کیسا ہے یہ خط بو العجبی پیش نظر کیسا ہے تو کہیں اور بسا ہے تو یہ گھر کیسا ہے لا مکاں والے یہ محراب یہ در کیسا ہے نقش ابھرا بھی نہیں تھا کہ مٹانے بیٹھے میرے پیکر سے جہاں والوں کو ڈر کیسا ہے نہ کوئی شاخ نہ پتے نہ کوئی گل نہ شجر بیچ آنگن میں کھڑا ہے جو شجر ...

مزید پڑھیے

دریائے آفتاب کی طغیانیت نہ دیکھ

دریائے آفتاب کی طغیانیت نہ دیکھ اپنا وجود آپ پس عافیت نہ دیکھ آنکھیں سیاہ نقطوں سے آگے نہ بڑھ سکیں آئینۂ خیال کی مصروفیت نہ دیکھ یہ دیکھ اب سوال بقائے یقین ہے ٹوٹے ہوئے گمان کی معصومیت نہ دیکھ آداب ہر شکستہ لبی کا لحاظ رکھ ہر بات میں نزاکت گفتاریت نہ دیکھ جمتے ہوئے غبار کا ...

مزید پڑھیے

کہو کچھ تو کہو

کہو شاید ہمارے گوشت کے اندر لہو کے برقیوں میں اور دھمکتی دھمنیوں میں آنکھ بن کر اب بھی کوئی جاگتا ہے وہی سچائیوں کی قبر کا آسیب اندھے آئنوں کے عکس کو کوندا ہمیشہ کے سمندر کا بلاوا موت کی سانسوں کا لہرا بھیک کا کاسہ کچھ ایسا جس کی شاید اک چھون سے ہماری خودکشی قربانیوں کا نام پاتی ...

مزید پڑھیے

ترے غم کے سوا ہر ایک غم نا معتبر جانا

ترے غم کے سوا ہر ایک غم نا معتبر جانا ہمیں آتا ہے تیرے نام پر حد سے گزر جانا بہ ائیں حالات منزل تک پہنچنا سخت مشکل تھا کہ جس نے کارواں لوٹا اسی کو راہبر جانا تلاش صبح نو میں سعئ لا حاصل کو کیا کہیے وہ نکلی اک شب تیرہ جسے نور سحر جانا وہی بےگانہ ہوش و خرد ثابت ہوئے ہمدم وہ جن کو ...

مزید پڑھیے

مری طلب کا یہ حاصل یہ مدعا ٹھہرا

مری طلب کا یہ حاصل یہ مدعا ٹھہرا ترے کرم کا سہارا ہی آسرا ٹھہرا کوئی ہوائے زمانہ اسے مٹا نہ سکی تمہاری یاد کا ہر نقش دیر پا ٹھہرا متاع کون و مکاں سے عزیز تر مجھ کو جو التفات مرے درد کی دوا ٹھہرا کسی کے نقد و نظر کا تو کچھ نہیں لیکن تری نگاہ میں کیا جانیے میں کیا ٹھہرا اب اس کے ...

مزید پڑھیے

تمہارے آستاں تک آ گئے ہیں

تمہارے آستاں تک آ گئے ہیں زمیں سے آسماں تک آ گئے ہیں جنہوں نے پھونک ڈالا ہے چمن کو وہ شعلے آشیاں تک آ گئے ہیں خدایا خیر میرے گلستاں کی کہ اب نغمے فغاں تک آ گئے ہیں نہ پوچھو مرحلوں سے کیسے گزرے یہ دیکھو ہم کہاں تک آ گئے ہیں جنہیں خود ڈھونڈھتی تھی ان کی منزل وہ گرد کارواں تک آ گئے ...

مزید پڑھیے

جادۂ شوق میں کام آئے سکندر کتنے

جادۂ شوق میں کام آئے سکندر کتنے اس سمندر میں ہوئے غرق شناور کتنے ان کو دیکھا تو نہ تھا نام سنا جب ان کا ذہن میں بنتے رہے حسن کے پیکر کتنے مور بے مایہ مگر اپنی ادا پر قائم ہم سے ٹکراتے رہے وقت کے داور کتنے کتنے ذرات کو مہتاب کی ضو بخشی ہے آپ کے ساتھ ہیں وابستہ مقدر کتنے بات مے ...

مزید پڑھیے

ہوتی نہیں بیمار محبت کو شفا بھی

ہوتی نہیں بیمار محبت کو شفا بھی یہ درد ہوا کرتا ہے خود اپنی دوا بھی سب ان کے ستم میرے لیے عین کرم ہیں ہے ان کی جفاؤں میں اک انداز وفا بھی اک ربط بہت ہے نہ سہی چشم عنایت مجھ کو نہیں محرومیٔ قسمت کا گلہ بھی بے وجہ نہیں سہمے ہوئے اہل گلستاں بدلی نظر آتی ہے گلستاں کی فضا بھی نغمات ...

مزید پڑھیے

ہر اک کو دوسرے سے عداوت ہے آج کل

ہر اک کو دوسرے سے عداوت ہے آج کل کہرام زندگی کی علامت ہے آج کل لب کھولنا ہی جرم بغاوت ہے آج کل جیلوں میں بند شان خطابت ہے آج کل سر پہ پہن کے نکلے ہیں دستار سب مگر عزت کہاں کسی کی سلامت ہے آج کل اندر کی ٹوٹ پھوٹ ہے بکھرا ہوا ہوں میں مجھ کو بہت ہی اپنی ضرورت ہے آج کل اپنی غرض سے ...

مزید پڑھیے

لگا رہا ہوں ہر اک در پہ آئنا بازار

لگا رہا ہوں ہر اک در پہ آئنا بازار کوئی تو دیکھے سنے دام بولتا بازار سجا تو خوب ہے اب کے نیا نیا بازار زمانہ جان تو لے کیا ہے ذائقہ بازار پرائے جان کی قیمت فقط نظارہ نہیں خدارا بند ہو ہر دن کا حادثہ بازار یہی تو ہوتا ہے شیشے کے کاروبار کا حشر اجڑ گیا ہے اچانک ہرا بھرا بازار شب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1863 سے 6203