قومی زبان

ایک نظم

جب میں نے تمہارا جسم چھوا مرے اندر کوئی اور تھا جس نے اور کسی کا جسم چھوا اوروں کی بیتاب چھون میں پھر مجھ جیسا پھر تم جیسا کوئی اور تھا جس نے اور کسی کا جسم چھوا

مزید پڑھیے

وائرس

مسیح وقت تم بتاؤ کیا ہوا زباں پہ یہ کسیلا پن کہاں سے آ گیا ذرا سی دیر کے لیے پلک جھپک گئی تو راکھ کس طرح جھڑی سنا ہے دور دیس سے کچھ ایسے وائرس ہمارے ساحلوں پہ آ گئے جن کے تابکار سحر کے لیے امرت اور زہر ایک ہیں اب کسی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں کسی دوا کا درد سے کوئی واسطہ نہیں ہم ہوا ...

مزید پڑھیے

ٹورسٹ

ہمارے پاس کچھ نہیں جاؤ اب ہمارے پاس کچھ نہیں بیتے ست جگوں کی سرد راکھ میں اک شرار بھی نہیں داغ داغ زندگی پہ سوچ کے لباس کا ایک تار بھی نہیں دھڑک دھڑک دھڑک دھڑک جانے تھاپ کب پڑے ننگے وحشیوں کے غول شہر کی سڑک سڑک پہ ناچ اٹھیں مولی گاجروں کی طرح سر کٹیں برف پوش چوٹیوں پہ سیکڑوں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

ہزار جھلملاتے پیکر رستے پانی میں آڑی ترچھی جھمکتی بوچھار بن گئے ہر ایک دیوار اور در سے شجر شجر سے نکل نکل کر کھلی سڑک پر لہکتے گاتے قدم قدم پر دیے جلاتے حسین نظموں میں ڈھل رہا ہے نہ جانے کیا ہو اگر یہ عالم تمام اپنا نقاب الٹ دے نہ جانے کیا ہو جو سارے اسرار کھل چکے ہوں یہی بہت ...

مزید پڑھیے

ہم وقت کے صحرا میں

ہم وقت کے صحرا میں اڑتے ہوئے بادل ہیں کس وقت ملیں کب تک ہم ساتھ رہیں کیا ہو شاید کسی جھونکے سے ملنے کو ترس جائیں بہتر ہے یہیں آؤ اک ساتھ برس جائیں

مزید پڑھیے

رستگاری

زخم پھر ہرے ہوئے پھر لہو تڑپ تڑپ اٹھا اندھے راستوں پہ بے تکان اڑان کے لیے بند آنکھ کی بہشت میں سب دریچے سب کواڑ کھل گئے اور پھر اپنی خلق کی ہوئی بسیط کائنات میں دھند بن کے پھیلتا سمٹتا جا رہا ہوں میں خدائے لم یزل کے سانس کی طرح میرے آگے آگے اک ہجوم ہے جس کو جو بھی نام دے دیا وہ ہو ...

مزید پڑھیے

نظم کہنے کے بعد

لو میں ایک اکائی ہوں پتھر کے ٹکڑے کی طرح ایک اکائی پتھر کی تحریریں دیکھو کتنی دھاریں لہریں بیچ بھنور جیسے طوفانی سمندر کی نبضیں چلتے چلتے تھم جائیں جیسے سمندر مر جائے

مزید پڑھیے

مکتی

گرجتی ٹوٹ کر گرتی گھٹائیں آسمانوں سے مسلسل سنگ باری نوحہ گر دیوار و در زخمی چھتیں شیشوں پہ پانی قطرہ قطرہ پھیلتا بڑھتا پھسلتی ٹوٹتی ننھی لکیریں جو تھکے ہاتھوں کی ریکھاؤں کی صورت نت نرالے روپ بھرتی ہیں خلا دل کا ذرا سی دیر بھی خالی نہیں ہوتا اسے جو بھی میسر ہو وہ بھر لیتا ہے ...

مزید پڑھیے

یہ آئینہ ہے آئینہ تماشہ ہو نہیں سکتا

یہ آئینہ ہے آئینہ تماشہ ہو نہیں سکتا جسے سچ بولنا آتا ہو رسوا ہو نہیں سکتا بہت مشکل سے تحریکیں کبھی تاریخ بنتی ہیں کسی پتھر کا نقش و نام کتبہ ہو نہیں سکتا خدا موجود ہے اس میں یہ مری ماں کا آنچل ہے یہ عرش آفریں کچھ ہو شکستہ ہو نہیں سکتا مجھے مجبور مت کرنا مری مجبوریاں بھی ...

مزید پڑھیے

آتے جاتے لوگوں کو ہم دیکھ رہے ہیں برسوں سے

آتے جاتے لوگوں کو ہم دیکھ رہے ہیں برسوں سے کچھ تو اپنے ہی ٹھہرے ہیں کچھ لگتے ہیں اپنوں سے آوارہ بے سمت ہوائیں آخر پہونچیں بادل تک دھول کے چہروں کو دھوئیں اب قوس قزح کے رنگوں سے ساری بنیادوں کا حاصل دل کو مسرت دینا تھا لیکن ایک المیہ ہے یہ دل کا نکلنا سینوں سے میناروں پر چڑھ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1862 سے 6203