قومی زبان

جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا

جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا یہ طبیعت نہیں آئی کوئی دریا آیا کام کیا جذب تمنائے زلیخا آیا کارواں بھی چہہ یوسف ہی پہ ہوتا آیا کوچۂ یار میں آ کر نہیں جاتا کوئی یہ وہ جا ہے کہ یہاں جو کوئی آیا آیا رات کیا جانیے کس طرح گزاری ہم نے اپنے وعدے پہ شب وعدہ تو اچھا آیا آ گئے آج وہ ...

مزید پڑھیے

مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے

مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے کہ یاں ہر دم خیال نرگس مستانہ آتا ہے ٹھکانے جستجوئے یار میں کس کس کے چھوٹے ہیں کہ بلبل باغ میں اور بزم میں پروانہ آتا ہے شب فرقت اٹھا کر فتنۂ محشر سے کہتی ہے مجھے زلف دراز یار کا افسانہ آتا ہے نکل کر آنکھ سے غائب نہیں ہوتے ہیں یہ آنسو اسی ...

مزید پڑھیے

ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرنا

ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرنا چلو اسی پر جو غیر کہہ دیں کہیں ہمارا کہا نہ کرنا اگر نہ سنتے ہو بات میری تو صبر آ جائے جی کو میرے ستم ہے ان کو خموش رہنا غضب ہے سن کر سنا نہ کرنا خوشی ہے ان کو یہ جانتا ہوں مگر میں رکھنے کو بات اپنی کہوں یہ ان سے کہ بعد مردن تم آ کے ...

مزید پڑھیے

اب تو لب سے نہ جائے گا آگے

اب تو لب سے نہ جائے گا آگے نالے کا زور شور تھا آگے دشت الفت میں رہنما کیسا میں نے رہبر کو دھر لیا آگے دشت الفت ہے گرچہ دور ولے دل سے کہتا ہوں یہ رہا آگے بے وفائی اگر نہ کرتی عمر ہم دکھاتے تمہیں وفا آگے وہ خوشامد ہی میں گئے گھبرا مجھ کو کہنا تھا مدعا آگے دیکھنا جو نہ تھا سو دیکھ ...

مزید پڑھیے

واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شراب

واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شراب پانی کے بدلے پیتے ہیں اے بے خبر شراب آمد میں اس کی مست ہوئے کچھ خبر نہیں ساقی ہے کون جام کہاں اور کدھر شراب اس قلزم گناہ میں ڈوبا ہوا ہوں میں جس میں ہے ایک موجۂ دامان تر شراب مستی میں ان کو لگ گئی لو اور غیر کی دینی شب وصال نہ تھی اس قدر ...

مزید پڑھیے

گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیا

گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیا وہ دل میں مرے آبلہ ہو گیا سمجھتے ہیں وہ فرض اس کی شکست مرا دل بھی عہد وفا ہو گیا کہوں کیا نہ دیکھیں جو میری طرف تغافل شریک حیا ہو گیا وہ کرتے ہیں سن کر ستم اور بھی مرا نالہ شکر جفا ہو گیا قیامت ہوئی اس کی رفتار سے یہ ہنگامہ ہنگامہ زا ہو گیا بد و نیک کا ان ...

مزید پڑھیے

کم نگاہی ہور تغافل مت کر اے ماہ تمام

کم نگاہی ہور تغافل مت کر اے ماہ تمام مک ترا کرتا ہے غمزہ کام عاشق کا تمام خنجر بسمل سوں دل کوں نیم بسمل جب کیا یک نگاہ لطف سوں کر پختہ اس کا کار خام سر بسر کا یاں جہاں کے عاشقاں کوں پوچھ ہیں عشق بازی کے بغیر از کر نکوں تو اور کام پی شراب نام رنداں تا اثر سوں کیف کے ذکر اللہ اللہ ...

مزید پڑھیے

خدا ہونا بی مشکل ہے بندہ ہونا بی مشکل ہے

خدا ہونا بی مشکل ہے بندہ ہونا بی مشکل ہے سمجھتا ہے یو نکتے کوں جو عارف صاحب دل ہے خدا ہے مصدر مطلق بندا بی اس سوں ہے مشتق جدھر دیکھے ادھر ہے حق ولے پندار حائل ہے خدا معبود ہے مطلق بندا موجود ہے مطلق یو دونوں مطلق برحق سمجھ ہر یک کا مشکل ہے خدا ہے بندہ بندہ ہے خدا چشم یقیں سو ...

مزید پڑھیے

ماہ من شمع تمن دل کے شبستان میں آ

ماہ من شمع تمن دل کے شبستان میں آ نور دیدہ ہو میری چشم کے ایوان میں آ بے نیازی سوں تیری جاں بلب آیا ہے مجھے چھوڑ کر طور جفا کچھ رہ احسان میں آ دل تو بے حال ہوا گوئی نمن سرگرداں زلف پر پیچ کے چوگان لے میدان میں آ سرو شمشاد و گل و لالہ اسی کا ہے ظہور دیکھنے اس کے ظہورات کوں بستان ...

مزید پڑھیے

یک رات میں گیا تھا رنداں کے انجمن میں

یک رات میں گیا تھا رنداں کے انجمن میں بولے کہ اے ہوائی یو نکتہ رک تو من میں وحدت کے ملک میانے نیں غیر کو تھکانا عین خدا سمجھ تو جو ہے اس انجمن میں کیا ساقی و مغنی کیا جام کیا صراحی غیر خدا نکو کہہ گر ہے شراب دن میں کیا لالہ کیا یو سوسن کیا نرگس و سمن کیا ہے اوچہ فی الحقیقت گل ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1827 سے 6203