جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا
جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیا یہ طبیعت نہیں آئی کوئی دریا آیا کام کیا جذب تمنائے زلیخا آیا کارواں بھی چہہ یوسف ہی پہ ہوتا آیا کوچۂ یار میں آ کر نہیں جاتا کوئی یہ وہ جا ہے کہ یہاں جو کوئی آیا آیا رات کیا جانیے کس طرح گزاری ہم نے اپنے وعدے پہ شب وعدہ تو اچھا آیا آ گئے آج وہ ...