قومی زبان

ساتھ کب تک نبھائے تنہائی

ساتھ کب تک نبھائے تنہائی وہ نہ آئے نہ موت ہی آئی عشق اک روز مہربان ہوا مل گئی عمر بھر کی رسوائی بے وفائی جو کر رہے تھے وہی آج کہتے ہیں ہم کو ہرجائی ہم نے کوشش تو کی بہت لیکن وہ جو تھی بات پھر نہ بن پائی اب تو خود سے بھی مل نہیں پاتے جب سے ان سے ہوئی شناسائی آج وہ بھی تو بن گئے ...

مزید پڑھیے

نگاہ شوق تجھے کامیاب کس نے کیا

نگاہ شوق تجھے کامیاب کس نے کیا دل تباہ کو خانہ خراب کس نے کیا کتاب غم کی کئی لوگ لکھ رہے تھے مگر ہمارے نام اسے انتساب کس نے کیا خموش درد کو اظہار کی زباں دے کر خود اپنے آپ کو یوں بے نقاب کس نے کیا امید تھی تو محافظ شکستہ کشتی کی یہ کیا بتائیں اسے زیر آب کس نے کیا اجارہ داریٔ قلب ...

مزید پڑھیے

دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائے

دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائے زباں پہ دعویٔ الفت ہے کیا کیا جائے ہزار قسم کے الزام سن کے بھی چپ ہیں ہمارا جرم شرافت ہے کیا کیا جائے نہ دشمنوں سے عداوت نہ دوستوں کا لحاظ اسی کا نام صداقت ہے کیا کیا جائے ہمارے سینے میں پتھر نہیں ہے اے لوگو ہمیں بھی پاس محبت ہے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے

جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے بات بن جائے مگر بات بنائیں کیسے اپنی روداد غم عشق سنائیں کیسے ان سے وابستہ ہیں حالات بتائیں کیسے لوگ چہرے سے سمجھ لیتے ہیں دل کی حالت اب ترا راز چھپائیں تو چھپائیں کیسے حسن تو آج بھی دامن کش دل ہے لیکن اپنے حالات کو ہم بھول بھی جائیں کیسے غیر ...

مزید پڑھیے

خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بد ظن ہے

خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بد ظن ہے ہر ایک شخص یہاں آپ اپنا دشمن ہے کسی غریب کا گھر ہے بس اور کیا کہئے یہ میرا دل جو سبھی آفتوں کا مسکن ہے وہ زندگی جسے خون جگر دیا میں نے وہ زندگی تو مرے نام سے بھی بد ظن ہے خدا کا شکر ہے غم کی ہواؤں میں بھی رفیعؔ چراغ زیست بہر حال آج روشن ہے

مزید پڑھیے

جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہا

جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہا جہاں میں کوئی پرستار اہل زر نہ رہا سڑک کے کانٹے کہ جن پر لہو کے چھینٹے ہیں بتا رہے ہیں کہ اک شخص رات گھر نہ رہا بدلتی قدروں میں خون جگر سے نامۂ شوق یہ خاص طرز نگارش بھی معتبر نہ رہا نگاہ ناز ہے مایوس کس طرف جائے وہ اہل دل نہ رہے حلقۂ اثر نہ ...

مزید پڑھیے

اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگا

اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگا بستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگا ہم سے اجڑے ہوئے لوگوں سے بھی مل کر دیکھو درمیاں کوئی تو اک ربط پرانا ہوگا آخری دھوپ ہیں آنکھوں میں بسا لو ورنہ پھر کہاں خواب کسی شب کا سہانا ہوگا جب ہو اثبات ہی خود اپنی نفی کا باعث دل کو ہر قید تمنا سے ...

مزید پڑھیے

جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہے

جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہے کیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہے شامل یہاں اثبات میں پہلوئے نفی ہے کامل کسی آغاز کا انجام نہیں ہے وہ دھوپ ہے آنکھوں میں کہ جل جاتی ہے ہر شام منظر ہے دھواں کوئی لب بام نہیں ہے کیا طرز رفاقت ہے کہ ملتے ہیں بصد شوق پر ذکر شناسائی و پیغام نہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا

کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا میں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتا خون دل کا ہوا تو یہ جانا نقش کیوں دیر پا نہیں ہوتا وقت کیوں ہے غبار آنکھوں میں عکس بھی آشنا نہیں ہوتا کچھ تو دل سے کہا ہے آنکھوں نے زخم دل کیا ہرا نہیں ہوتا پھر اسے ہی تلاش کرتا ہوں جس کا کوئی پتا نہیں ہوتا جو بھی اپنی زباں ...

مزید پڑھیے

جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیں

جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیں اندھیرے دیکھیے کب روشنی سے ملتے ہیں جنون شوق کو صحرا نورد پایا ہے کچھ اس کے رشتے بھی آوارگی سے ملتے ہیں خلوص بھی کوئی بنجر زمین ہے شاید ثبوت اس کے مری زندگی سے ملتے ہیں وہ بات کہہ دی جسے عقل و دل قبول کریں یہ دشمنی ہے تو ہم دشمنی سے ملتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1801 سے 6203