قومی زبان

سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں

سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں خیال یہ ہے بلندی سے گر گیا ہوں میں بدلتے وقت نے ہر چیز کو بدل ڈالا خلوص ویسا کہاں ہے جو سوچتا ہوں میں مجھے لگا ہے کہ تحلیل ہو گیا ہے وجود کبھی جب ان کے خیالوں میں کھو گیا ہوں میں محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے یہ رخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں ...

مزید پڑھیے

حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہے

حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہے ہے کشتی بادباں کوئی نہیں ہے جہاں تک میں گیا راہ طلب میں وہاں تک سائباں کوئی نہیں ہے کچھ ایسی ذہنیت کے لوگ بھی ہیں جہاں وہ ہیں وہاں کوئی نہیں ہے محبت میں ہے نفرت کا بھی امکاں خلوص بے کراں کوئی نہیں ہے گماں ہو اپنے ویرانے کا جس پر مکاں ایسا یہاں کوئی ...

مزید پڑھیے

کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کرو

کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کرو کسی سے ملنے کی پہلے کچھ آرزو تو کرو حریف کس لئے خائف ہیں کیوں وہ بد ظن ہیں انہیں بلاؤ کبھی ان سے گفتگو تو کرو رہیں گے راہ میں سنگ گراں نہ دیواریں عمل کے جذبہ کو تھوڑا سا جنگجو تو کرو حیات دھوپ بھی ہے بادلوں کا سایہ بھی وہ کوئی حال ہو جینے کی ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن تو نہیں صاحب عرفاں ہونا

غیر ممکن تو نہیں صاحب عرفاں ہونا شرط ہے سنگ ملامت پہ بھی خنداں ہونا چھوڑ کر لالہ و گل خار بہ داماں ہونا آج کے دور میں دشوار ہے انساں ہونا دور حاضر پہ یہ اک طنز نہیں پھر کیا ہے کوئی انسان نظر آئے تو حیراں ہونا عین فطرت ہے جنہیں غم ہی ملے ہوں ان کو کوئی امید نظر آئے تو حیراں ...

مزید پڑھیے

کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہے

کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہے کبھی وہ لطف مجسم دکھائی دیتا ہے زمانہ ہوتا ہے مجبور رخ بدلنے پر کسی کا عزم جو محکم دکھائی دیتا ہے عروس دہر کی رنگینیٔ جمال میں اب ترے شباب کا عالم دکھائی دیتا ہے تلاش دوست مسافت ہے ایک لا محدود کہ جس قدر بھی چلیں کم دکھائی دیتا ہے

مزید پڑھیے

اک حسیں پیکر تسلیم و رضا ہو جیسے

اک حسیں پیکر تسلیم و رضا ہو جیسے ایک تم دشمن ارباب وفا ہو جیسے یوں مجھے ان کی عنایت کا خیال آتا ہے ایک افسانہ کبھی میں نے پڑھا ہو جیسے زندگی اتنی گراں بار نظر آتی ہے ایک مجرم کے لئے کوئی سزا ہو جیسے دل کے گوشے میں تمناؤں کی فریادیں ہیں یا کہیں رات گئے شور اٹھا ہو جیسے ایسے ...

مزید پڑھیے

زمیں کا بوجھ اور اس پر یہ آسمان کا بوجھ

زمیں کا بوجھ اور اس پر یہ آسمان کا بوجھ اتار پھینک دوں کاندھوں سے دو جہان کا بوجھ پڑا ہوا ہوں میں سجدے میں کہہ نہیں پاتا وہ بات جس سے کہ ہلکا ہو کچھ زبان کا بوجھ پھر اس کے بعد اٹھاؤں گا اپنے آپ کو میں اٹھا رہا ہوں ابھی اپنے خاندان کا بوجھ دبی تھی آنکھ کبھی جس مکان حیرت سے اب اس ...

مزید پڑھیے

میں اپنی آنکھ کو اس کا جہان دے دوں کیا

میں اپنی آنکھ کو اس کا جہان دے دوں کیا زمین کھینچ لوں اور آسمان دے دوں کیا میں دنیا زاد نہیں ہوں مجھے نہیں منظور مکان لے کے تمہیں لا مکان دے دوں کیا کہ ایک روز کھلا رہ گیا تھا آئینہ اگر گواہ بنوں تو بیان دے دوں کیا اڑے کچھ ایسے کہ میرا نشان تک نہ رہے میں اپنی خاک کو اتنی اڑان دے ...

مزید پڑھیے

لمس کو چھوڑ کے خوشبو پہ قناعت نہیں کرنے والا

لمس کو چھوڑ کے خوشبو پہ قناعت نہیں کرنے والا ایسی ویسی تو میں اب تم سے محبت نہیں کرنے والا مجھ سے بہتر کوئی دنیا میں کتابت نہیں کرنے والا پر ترے ہجر کی میں جلد اشاعت نہیں کرنے والا اپنے ہی جسم کو کل اس نے مری آنکھوں سے پورا دیکھا اس سے بڑھ کر کوئی منظر کبھی حیرت نہیں کرنے ...

مزید پڑھیے

رات میں شانۂ ادراک سے لگ کر سویا

رات میں شانۂ ادراک سے لگ کر سویا بند کی آنکھ تو افلاک سے لگ کر سویا اونگھتا تھا کہیں محراب کی سرشاری میں اک دیا سا کسی چقماق سے لگ کر سویا ایک جلتا ہوا آنسو جو نہیں سوتا تھا دیر تک دیدۂ نمناک سے لگ کر سویا ان گنت آنکھیں مرے جسم پہ چندھیائی رہیں بقعۂ نور مری خاک سے لگ کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1802 سے 6203