قومی زبان

جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائے

جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائے کل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائے خدمت خلق سے ہستی کو فروزاں کر لے کیا پتہ کون سی ظلمت میں قضا لے جائے اس لئے کوئی جہاں سے نہ گیا کچھ لے کر کیا ہے دنیا میں کوئی ساتھ بھی کیا لے جائے بانٹ دے سب میں یہ خوشیاں جو ملی ہیں تجھ کو اس سے پہلے کہ کوئی ...

مزید پڑھیے

اتنے چہرے ہیں سبھی پر پیار روشن ہے

اتنے چہرے ہیں سبھی پر پیار روشن ہے کیا خبر چہروں کے پیچھے کون دشمن ہے دور تک پہنچا کے ہم اپنی صدا خوش ہیں ورنہ سمجھیں تو یہ اپنا کھوکھلا پن ہے لوگ تنکے ادھ جلے سگریٹ کے ٹکڑے اپنی دنیا راکھ اور تنکوں کا برتن ہے کر رکھے تھے بند اس پر میں نے دروازے گھر میں اب کتنی گھٹن ہے کتنی سیلن ...

مزید پڑھیے

تم کہہ رہے ہو نیلے خلا میں رنگوں کا جال پھیلا ہے

تم کہہ رہے ہو نیلے خلا میں رنگوں کا جال پھیلا ہے میں پوچھتا ہوں رنگوں کے پار پانی کا رنگ کیسا ہے مجرم ہے دل کہ معمولی آہٹوں پر بھی چونک اٹھتا ہے کمرے میں ورنہ کوئی نہیں یہ پاگل ہوا کا جھونکا ہے میں سخت راستوں پر چلا ہوں میرے نشاں نہ ڈھونڈو تم پتھر پہ خود ہی چل کر بتاؤ کیا کوئی ...

مزید پڑھیے

اب طبیعت کہاں روانی میں

اب طبیعت کہاں روانی میں کشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میں وقت یوں تھم گیا ہے آنکھوں میں دائرے جم گئے ہوں پانی میں گھر ہی اندر سے لٹ گیا سارا ہم تو باہر تھے پاسبانی میں لطف موسم کا کیا اٹھاتے ہم دل ہمیشہ رہا گرانی میں ہم تو خوش فہمیوں میں جیتے ہیں خوب مطلب ہے بے زبانی میں

مزید پڑھیے

اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نے

اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نے راز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نے کھو گیا تھا جو کبھی بھیڑ میں چہروں کی اسے اپنی تنہائی کی ہر شام میں پایا ہم نے ریت بھرتے رہے آنکھوں میں سرابوں کی سدا عذر جینے کا اسی کام میں پایا ہم نے کتنے شیریں لب ناگفتہ مگر تھے اس کے لطف کچھ اور ہی دشنام ...

مزید پڑھیے

در کسی کا کھلا نہیں لگتا

در کسی کا کھلا نہیں لگتا شہر یہ آشنا نہیں لگتا غم ہے فکر معاش میں ایسا آدمی کا پتا نہیں لگتا دوست جب سے ہوئے ہمارے تم کوئی دشمن برا نہیں لگتا یوں تو ملتے ہیں ٹوٹ کر لیکن ربط وہ دیر پا نہیں لگتا وعدہ حوروں کا بعد مرنے کے بندگی کا صلا نہیں لگتا

مزید پڑھیے

خود کو جب سے جان گئے ہم

خود کو جب سے جان گئے ہم دنیا کو پہچان گئے ہم دشمن کو جب پاس سے دیکھا دوست کو بھی پہچان گئے ہم من میں کیسی آگ لگی یہ تن کی چادر تان گئے ہم اس کے دیار شوق سے اکثر خود ہی تہی دامان گئے ہم

مزید پڑھیے

ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیں

ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیں جس کے باہر انا کے پہرے ہیں شام پنچھی کہاں گزاریں گے شاخ گل پر جلے بسیرے ہیں ہم تو ملبہ ہیں نا شناسی کا ٹوٹے پھوٹے سے چند چہرے ہیں آج بانٹی ہے دھوپ سورج نے اپنے دامن میں کیوں اندھیرے ہیں جال ٹوٹے ملے ہیں ساحل پر کون جانے کہاں مچھیرے ہیں

مزید پڑھیے

آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہے

آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہے خواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہے ایک گمنامی کا جنگل ہوں جہاں شکل مری اپنی پہچان کا ہر نقش یقیں کھوتی ہے دور ان دیکھی سی سرحد ہے کہ جس کے اس پار کوئی بستی ہے جو راتوں کو سدا روتی ہے سطح چادر پہ شکن اور سر بالیں پہ نشیب یہ تو تنہائی ہے بستر ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہے

ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہے نقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہے اپنے ہی وہم و تذبذب تھے خرابی کا سبب گھر عقیدوں کے بسائے تو اجڑتے ہی رہے جانے کیا بات ہوئی موسم گل میں اب کے پنکھ پنچھی کے فضاؤں میں بکھرتے ہی رہے چند یادوں کی پناہ گاہ میں جانے کیوں ہم سایۂ شام کی مانند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1800 سے 6203