قومی زبان

خود اپنے آپ کی نظروں میں گر گیا ہے کوئی

خود اپنے آپ کی نظروں میں گر گیا ہے کوئی درخت کاٹ کے سائے کو رو رہا ہے کوئی بہت زمانے سے اک ڈوبے شخص کی خاطر تمام رات سمندر پہ کاٹتا ہے کوئی تمہیں بتاؤ تمہیں کیسے اپنا دل دے دیں تمہیں بتاؤ کہ صحرا میں ڈوبتا ہے کوئی درخت چھوڑ کے پنچھی کہیں نہیں جاتے تو کیا درخت کے پیچھے پڑا ہوا ہے ...

مزید پڑھیے

خود کو بھی سچ سچ بتا پایا نہ میں

خود کو بھی سچ سچ بتا پایا نہ میں آئینے سے کیوں نبھا پایا نہ میں اتنی عجلت تھی بتانے کی مجھے جو بتانا تھا بتا پایا نہ میں اس لئے رشتوں میں دشواری ہوئی چہرے پر چہرہ لگا پایا نہ میں عمر بھر جس کو نہ حاصل کر سکا عمر بھر اس کو گنوا پایا نہ میں اس کے جانے کا تھا اتنا غم مجھے ایک بھی ...

مزید پڑھیے

ڈوبنے سے بچا رہا ہے مجھے

ڈوبنے سے بچا رہا ہے مجھے کوئی ساحل پہ لا رہا ہے مجھے ایک دریا ہے میری آنکھوں میں ایک صحرا بلا رہا ہے مجھے روح سے جسم مطمئن ہے تو خود پہ رونا کیوں آ رہا ہے مجھے وصل کے وقت تو میں تجھ میں تھا ہجر دنیا میں لا رہا ہے مجھے میرے جیسی صدائیں لگتی ہیں کوئی مجھ سا بلا رہا ہے مجھے

مزید پڑھیے

درد دل عمر بھر نہیں ہوتا

درد دل عمر بھر نہیں ہوتا عشق تم سے اگر نہیں ہوتا اس سے کہیو کے لوٹ آئے وہ مجھ سے تنہا سفر نہیں ہوتا جن کی آنکھوں میں خواب پلتے ہیں ان کی آنکھوں میں ڈر نہیں ہوتا اے غزل تو اگر نہیں ملتی میں جدھر ہوں ادھر نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

صرف اپنے تلک ہی رکھا جائے گا

صرف اپنے تلک ہی رکھا جائے گا دکھ کو سنجیدگی سے لیا جائے گا بعد میں گھر کا پانی الیچیں گے ہم پہلے طغیانیوں سے لڑا جائے گا جلد اس پار پہنچیں گے ہم بھی اگر ناؤ میں ایک ہی ناخدا جائے گا آج محفل میں آئے ہیں چپ ذات لوگ اس کا مطلب بہت کچھ کہا جائے گا ان سنا کر رہا ہے زمانہ ہمیں خامشی ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں سائے سے بچھڑا تو نہیں جا سکتا

دھوپ میں سائے سے بچھڑا تو نہیں جا سکتا پھر بھی اس دل سے یہ ڈر سا تو نہیں جا سکتا جس کی دیوار کسی وقت بھی گر سکتی ہو یار اس کمرے میں ٹھہرا تو نہیں جا سکتا روح اور جسم کے جھگڑوں سے ہے تکلیف مگر روح اور جسم کو بانٹا تو نہیں جا سکتا اپنے ہمسائے سے رغبت تو ہمیں ہے لیکن دیر تک دھوپ میں ...

مزید پڑھیے

روشنی تھی تم تھے یا خود میرا سایا کون تھا

روشنی تھی تم تھے یا خود میرا سایا کون تھا روز میرے خواب میں آ کر بکھرتا کون تھا وہ تو رغبت ہو گئی ہے ناخدا تجھ سے مجھے ورنہ تیری کشتیوں میں آتا جاتا کون تھا مان لوں تیری کہ میں اک سنگ دل ہوں پر بتا بن کے آنسو یہ مرے اندر پگھلتا کون تھا شور سا اٹھا تھا مجھ میں خامشی کے باوجود میرے ...

مزید پڑھیے

کچھ نہ کچھ خواب پالتے رہئے

کچھ نہ کچھ خواب پالتے رہئے جسم گھر سے نکالتے رہئے لطف لینا ہے زندگی کا تو خود کو خطروں میں ڈالتے رہئے میری نظروں میں صرف منزل ہے آپ کیچڑ اچھالتے رہئے کچھ تو بہتر ضرور نکلے گا روز خود کو کھنگالتے رہئے

مزید پڑھیے

جب ملے گا وہ مسکرا دے گا

جب ملے گا وہ مسکرا دے گا لاکھ غم کی بس اک دوا دے گا ابتدا میں پتہ نہیں چلتا بیچ میں کون کب دغا دے گا وہ جو پانی کے گھر میں رہتا ہے آگ لگنے پہ بس ہوا دے گا آخری دن مرا وہ ہی ہوگا مجھ کو اپنا وہ جب بتا دے گا اس کی عادت ہی ہے کہ دے کچھ بھی کچھ نہیں تو مجھے دعا دے گا

مزید پڑھیے

سہارے بھی اس کے کنارے بھی اس کے

سہارے بھی اس کے کنارے بھی اس کے مگر ہم جو ڈوبے اشارے بھی اس کے یہاں لوگ سارے کے سارے ہی اس کے جو اس کے وہ اس کے ہمارے بھی اس کے فلک بھی یہ سارا اسی کے حوالے وہ خود چاند ہے ہی ستارے بھی اس کے نتیجے یہ سارے ہی ہیں اس کے حق میں جو جیتے وہ اس کے جو ہارے بھی اس کے کریں تو کریں کیا کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1767 سے 6203