قومی زبان

چار بجے

بیٹھے بٹھائے ہو گئی گھر میں مار کٹائی چار بجے میرے بزرگوں نے مجھ کو تہذیب سکھائی چار بجے الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دعا نے کام کیا امی اور ابا نے مل کر میرا کام تمام کیا آج محلے بھر میں گونجی میری دہائی چار بجے میرے بزرگوں نے مجھ کو تہذیب سکھائی چار بجے ناحق ہم مجبوروں پر یہ ...

مزید پڑھیے

بچوں کی توبہ

ہم نے بکری کے بچوں کو کمروں میں نچانا چھوڑ دیا ناراض نہ ہو امی ہم نے ہر شوق پرانا چھوڑ دیا ڈیڈی کے سوٹ پہن کر ہم صوفوں پر ڈانس نہیں کرتے سارے گھر کی بنیادوں کو اب ہم نے ہلانا چھوڑ دیا دادا ابا کا اب چشمہ بکرے کو نہیں پہناتے ہم نانا ابا کی لٹھیا اب ہم نے چھپانا چھوڑ دیا بندر کو سہرا ...

مزید پڑھیے

شہر والوں کدھر گیا مرا جسم

شہر والوں کدھر گیا مرا جسم کیا کہیں کوچ کر گیا مرا جسم آئینہ سے نظر ملائی تھی ریزہ ریزہ بکھر گیا مرا جسم سارے رستے مری نظر میں تھے پھر کہاں سے گزر گیا مرا جسم اس کی تصویر دیکھنے بھر سے سر سے پا تک سنور گیا مرا جسم پہلے اک جسم کو چھوا میں نے پھر ندامت سے مر گیا مرا جسم

مزید پڑھیے

وہ زمانا نہ سہی اتنا تو دے سکتا تھا

وہ زمانا نہ سہی اتنا تو دے سکتا تھا مجھ کو اک دوست مرے جیسا تو دے سکتا تھا دینے والے کا ارادہ نہ تھا کچھ دینے کا ورنہ دریا نہ سہی قطرہ تو دے سکتا تھا کیوں نہیں آنے دیا بزم میں اس گونگے کو وہ ہمیں لفظ نہیں لہجہ تو دے سکتا تھا کیسے افسوس نہ ہو لاش نہ مل پانے کا میں اسے سانس نہیں ...

مزید پڑھیے

کیسے پاؤں تجھے گرداب نظر آتا ہے

کیسے پاؤں تجھے گرداب نظر آتا ہے اور تو مجھ کو تہہ آب نظر آتا ہے تو جو دکھ جائے تو میں عید مکمل سمجھوں اب مجھے تجھ میں ہی مہتاب نظر آتا ہے چاک دامن بھی ہے مفلس بھی ہے بے گھر بھی ہے اس لیے زر کا اسے خواب نظر آتا ہے ایک وو شخص جو اوروں کے لیے جیتا ہو آج کے دور میں کم یاب نظر آتا ...

مزید پڑھیے

دریچے پر دیے رکھے ہوئے ہیں

دریچے پر دیے رکھے ہوئے ہیں اندھیرے کمرے کو گھیرے ہوئے ہیں اگر میں دھوپ میں تنہا کھڑا ہوں تو اتنے سائے کیوں ابھرے ہوئے ہیں ہر اک انسان اچھا لگ رہا ہے ہم اپنے آپ سے روٹھے ہوئے ہیں دکھی ہے جب سے صیادوں کی ٹولی پرندوں سے شجر لپٹے ہوئے ہیں لگے ہیں سستے اپنے آپ کو ہم نظر میں سب کی جب ...

مزید پڑھیے

ندی کے ساتھ بھی کچھ مسئلہ تھا

ندی کے ساتھ بھی کچھ مسئلہ تھا سمندر کا بھی اپنا دائرہ تھا دعائیں کر رہے تھے نقش سارے مصور سوچ میں ڈوبا ہوا تھا مجھے خود پر ندامت ہو رہی تھی میں اس کی خامشی کو سن رہا تھا اگر سب زخم میرے بھر چکے تھے تو مجھ میں کون آہیں بھر رہا تھا اندھیرا گھر کا دنیا کو دکھانے دریچے پر دیا رکھا ...

مزید پڑھیے

بہت دیر سے کھانا کھایا تھا آج

بہت دیر سے کھانا کھایا تھا آج ہمارے ہی گھر میں ولیمہ تھا آج توجہ نہ ملنے کا دکھ ہے بہت زیادہ ہی خود کو سنوارا تھا آج تمہاری طلب کو بھی ٹھکرا دیا کوئی مجھ میں میرے علاوہ تھا آج نہیں آئے گی نیند آسانی سے بہت دیر اپنوں میں بیٹھا تھا آج نظر رکھی جائے گی دفتر میں کل میں گھر لوٹتے ...

مزید پڑھیے

میرے آنگن سے اجالا کیا گیا

میرے آنگن سے اجالا کیا گیا چھوڑ کر مجھ کو مرا سایا گیا میں نے دیکھا تھا کسی کو ڈوبتے اور میں بھی ڈوبتے دیکھا گیا دوست گھر آیا تھا آدھی رات میں مجھ سے دروازہ نہیں کھولا گیا بھیڑ سے خود کو بچا لایا تھا میں اور اپنے آپ سے ٹکرا گیا ٹھیک سے دکھتا نہیں پیکر ترا تو مرے نزدیک اتنا آ ...

مزید پڑھیے

یہ شیشہ دل کے جو بکھرے ہوئے ہیں

یہ شیشہ دل کے جو بکھرے ہوئے ہیں تمہارے عشق میں ٹوٹے ہوئے ہیں ابھی بھی وقت ہے تم لوٹ آؤ تمہارے واسطے ٹھہرے ہوئے ہیں یہ سچ ہے بچپنا کیچڑ میں بیتا بتاؤ کب مگر میلے ہوئے ہیں یہ ہجرت صرف ہجرت ہی نہیں ہے ہماری روح کے ٹکڑے ہوئے ہیں حقیقت بولنے والے جہاں میں بتاؤ کب کسے پیارے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1766 سے 6203