خرگوشوں کی غزل
کوئی شکاری بار بار بن میں ہمارے آئے کیوں چونکیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ڈرائے کیوں گھر نہیں جھونپڑی نہیں کٹیا نہیں مکاں نہیں بیٹھے ہیں جنگلوں میں ہم کوئی ہمیں بھگائے کیوں کان کھڑے نہ کیوں کریں گھاس میں کیوں نہ ہم چھپیں کھٹکا ذرا بھی ہو اگر کوئی ٹھٹک نہ جائے کیوں بن میں ہمارے جو ...