قومی زبان

خرگوشوں کی غزل

کوئی شکاری بار بار بن میں ہمارے آئے کیوں چونکیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ڈرائے کیوں گھر نہیں جھونپڑی نہیں کٹیا نہیں مکاں نہیں بیٹھے ہیں جنگلوں میں ہم کوئی ہمیں بھگائے کیوں کان کھڑے نہ کیوں کریں گھاس میں کیوں نہ ہم چھپیں کھٹکا ذرا بھی ہو اگر کوئی ٹھٹک نہ جائے کیوں بن میں ہمارے جو ...

مزید پڑھیے

بچوں کا ڈنر

بتاؤں کھایا ہے کیا میں نے آج دو تھپڑ درست کر کے گئے ہیں مزاج دو تھپڑ حکیم نبض مری دیکھ کر یہ کہنے لگا ترے مرض کا ہے اصلی علاج دو تھپڑ یہ گال گورے تھے جو آج لال لال ہوئے کہ ان پہ کر گئے ہلکا مساج دو تھپڑ وہ میرا بھائی ہے اس پر بھی دھیان دو امی میں کھاؤں چار تو کھائے سراج دو تھپڑ نہ ...

مزید پڑھیے

قہقہے

بھیا کی کھا کے مار لگاتا ہوں قہقہے جب دیکھتے ہیں یار لگاتا ہوں قہقہے دل میں ہے امتحان کا غم کس طرح بھلاؤں ہو ہو کے بے قرار لگاتا ہوں قہقہے جب دیکھتا ہوں خواب کہ اسکول جل گیا خوش ہو کے بار بار لگاتا ہوں قہقہے کرتا ہے ڈھینچوں ڈھینچوں مرے علم کا گدھا ہوتا ہوں جب سوار لگاتا ہوں ...

مزید پڑھیے

الف سے ی تک

الف جو آلو کھائے گا وہ موٹا ہو جائے گا ب بارش جب آتی ہے کوئل شور مچاتی ہے پ پالی میں نے بلی چل دی چھوڑ کے وہ دلی ت تتلی ہے زندہ پھول جو نہ مانے نامعقول ٹ ٹٹو پر چڑھ بھیا ڈر مت آگے بڑھ بھیا ث ثابت ہے یہ لٹو چنو جا لے آ پٹو ج میں جوتے کھاؤں گا رو کر چپ ہو جاؤں گا چ چنو ہے اک لڑکا ننھا منا ...

مزید پڑھیے

یہ کس مقام پے لے آئی مجھ کو تنہائی (ردیف .. ا)

یہ کس مقام پے لے آئی مجھ کو تنہائی کہ اپنے ساتھ بھی اک پل نہیں رہا جاتا میں تیز دھوپ میں راضی تھا بیٹھنے کے لیے وہ میرا سایا اگر اوڑھنے کو آ جاتا یہ راہگیر مرے شہر کا نہیں ورنہ مرے مکان میں پتھر تو پھینکتا جاتا اب اس کے لوٹنے کی آس چھوڑ دی میں نے اب اپنے آپ کو دھوکا نہیں دیا ...

مزید پڑھیے

سب سمجھتے ہیں مجھ کو لا یعنی

سب سمجھتے ہیں مجھ کو لا یعنی آدمی ہوں میں کام کا یعنی عمر بھر عشق ہی کیا میں نے عمر بھر کچھ نہیں کیا یعنی کچھ نہ آئے گا اب کہانی میں میرا کردار مر گیا یعنی مدتوں بے خبر رہا خود سے مدتوں مجھ میں تو رہا یعنی میں تجھے سن نہ پایا خلوت میں میرے اندر ہی شور تھا یعنی

مزید پڑھیے

سمندر اس لئے گھبرا رہا ہے

سمندر اس لئے گھبرا رہا ہے ندی کا رستہ روکا جا رہا ہے جدا کیا ہو گئے پنچھی شجر سے لکڑہارا بہت اترا رہا ہے اتر جائیں گے ہم بھی اب نظر سے ہمیں جی بھر کے دیکھا جا رہا ہے مرے اندر کوئی تو ہے جو مجھ کو مرے بارے میں ہی بھڑکا رہا ہے خموشی کیوں نہ ٹوٹے گی ندی کی کہ اس میں سنگ پھینکا جا ...

مزید پڑھیے

ادیب کی محبوبہ

تمہاری الفت میں ہارمونیم پہ میرؔ کی غزلیں گا رہا ہوں بہتر ان میں چھپے ہیں نشتر جو سب کے سب آزما رہا ہوں بہت دنوں سے تمہارے جلوے 'خدیجہ مستور' ہو گئے ہیں ہے شکر باری کہ سامنے اپنے آج پھر تم کو پا رہا ہوں لحاف 'عصمت' کا اوڑھ کر تم فسانے 'منٹو' کے پڑھ رہی ہو پہن کے 'بیدی' کا گرم کوٹ آج ...

مزید پڑھیے

پرندوں کی میوزک کانفرنس

طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے الو جب مردنگ بجائے کوا شور مچائے ککڑوں کوں کی تان لگا کے مرغا گائے خیال قمری اپنی ٹھمری گائے مرغی دیوے تال مور اپنی دم کو پھیلا کر کتھک ناچ دکھائے طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے چڑیا باجی سبھا میں ناچے خوشی سے چھم چھم چھم موٹی بطخ ...

مزید پڑھیے

ردیف اور قافیے

ہنسی کل سے مجھے اس بات پر ہے آ رہی خالو کہ خالہ کہہ رہی تھیں آپ کا ہے قافیہ آلو اسی دن سے بہت ڈرنے لگا ہوں آپ سے خالہ جب امی نے بتایا آپ کا ہے قافیہ بھالا اگر پوچھے کوئی کیا قافیہ ہے آپ کا پھپی تو فوراً سامنے رکھ دوں گا لا کر تیل کی کپی اگر شاعر کہیں بے قافیہ ہے لفظ بہنوئی مرے بہنوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1765 سے 6203