قومی زبان

دشت نے طالب گلزار کیا ہے مجھ کو

دشت نے طالب گلزار کیا ہے مجھ کو میری وحشت نے گنہ گار کیا ہے مجھ کو گوشہ‌‌ٔ ذات میں آباد ہے دنیا میری خود کی ہستی نے گرفتار کیا ہے مجھ کو نقل و حرکت نے بنایا ہے تماشا میرا بد حواسی نے سزاوار کیا ہے مجھ کو اب مرے کام جو آئے تو ہنر بھی کیسے دل نے شہرت کا پرستار کیا ہے مجھ کو جسم کے ...

مزید پڑھیے

ذرہ جو کوئی مہر کے مصداق ہو گیا

ذرہ جو کوئی مہر کے مصداق ہو گیا سب شہر اس کی دھوپ کا مشتاق ہو گیا قصر خیال خواب مکاں آستان دل رکھی جہاں بھی شمع وہی طاق ہو گیا ان خواہشوں کے ناگ نے کیا ڈس لیا مجھے مہلک تھا جو وہ زہر بھی تریاق ہو گیا وابستہ ہو گئے ہیں اب اس کی ادا سے ہم ہم پر بھی اس کے حکم کا اطلاق ہو گیا راحتؔ پس ...

مزید پڑھیے

لباس چاک میں ایوان کے آگے نہیں جاتی

لباس چاک میں ایوان کے آگے نہیں جاتی فراست یوں ہی ہر سلطان کے آگے نہیں جاتی میں طے کرتا ہوں ربط و ضبط کی سب منزلیں پھر بھی رفاقت جان اور پہچان کے آگے نہیں جاتی رہائش تو سبھی کی ہے اسی بازار میں لیکن نظر ہی اب مری سامان کے آگے نہیں جاتی جنوں میں ریگزاروں کا ارادہ کر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

میں دشت میں گر خود کو مہیا نہیں کرتا

میں دشت میں گر خود کو مہیا نہیں کرتا گردش سے رہا مجھ کو بگولہ نہیں کرتا پہچان کو اک دل ہی مددگار بہت ہے سو پیش کوئی اور حوالہ نہیں کرتا دیکھا ہی نہیں آنکھ نے جس شہر کو پہلے وہ بھی مری حیرت میں اضافہ نہیں کرتا ہر زخم کی لذت کا پرستار ہوں لیکن سیراب مجھے یہ بھی نوالہ نہیں ...

مزید پڑھیے

جو لوگ دیدہ و دل کو تباہ دیکھتے ہیں

جو لوگ دیدہ و دل کو تباہ دیکھتے ہیں مکین خواب کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں ہمیں اب آنکھ کے منظر کا اعتبار نہیں سو ہم اب عکس نہیں بس نگاہ دیکھتے ہیں یہ کیسی آگ لگاتا ہے آفتاب کہ ہم زمین و عرش کو ہوتے سیاہ دیکھتے ہیں تم اپنی ذات سے کوئی مطالبہ نہ کرو ہم اپنے آپ سے کر کے نباہ دیکھتے ...

مزید پڑھیے

رنج اک تلخ حقیقت کا فقط ہے مجھ کو

رنج اک تلخ حقیقت کا فقط ہے مجھ کو میرے احباب نے آنکا ہی غلط ہے مجھ کو بعد مدت کے گلابوں کی مہک آئی ہے اس نے پردیس سے بھیجا کوئی خط ہے مجھ کو موج طوفان سے بیگانہ ہوا ہوں پھر میں پھر میسر ہوئی آسانیٔ شط ہے مجھ کو حرف کی شکل میں ڈھلتی ہیں لکیریں خود سے آ کے دیتا کوئی پیغام نقط ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

رتبۂ تخت سے محروم ہے منصب میرا

رتبۂ تخت سے محروم ہے منصب میرا صاحب فہم سمجھتے نہیں مطلب میرا ہے مرے شعر سے احوال زمانہ ظاہر پڑھ لو تم بھی کہ یہ شیشہ ہے محدب میرا میری بستی کو اجالے میں دکھا کر مجھ کو قتل کرتا ہے کوئی خواب میں ہر شب میرا ترجماں ہیں مرے ماحول کی غزلیں میری یہ الگ بات کہ لہجہ ہے مہذب میرا شہر ...

مزید پڑھیے

خود سے نباہ شاق ہوا ہے کبھی کبھی

خود سے نباہ شاق ہوا ہے کبھی کبھی سارا وجود چاق ہوا ہے کبھی کبھی ڈھونڈا اسے تو خود سے ملاقات ہو گئی ایسا بھی اتفاق ہوا ہے کبھی کبھی ہر زاویہ سے عکس کو دیکھا ہے آنکھ نے ہر بات کا فراق ہوا ہے کبھی کبھی حائل ہے جو ازل سے مرے حال و قال میں وہ بھی عیاں نفاق ہوا ہے کبھی کبھی ہنستے ہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی تارا کہیں مہتاب سے ملتا جلتا

کوئی تارا کہیں مہتاب سے ملتا جلتا یہی منظر ہے مرے خواب سے ملتا جلتا گھر مزین ہے تو پھر صحن بھی خالی کیوں ہو کیوں نہیں اپنے میں احباب سے ملتا جلتا رو میں بہتا ہوں تو ہوتی ہے رگوں میں ہلچل جانے کیا مجھ میں ہے سیلاب سے ملتا جلتا قطرۂ سرخ میں جب خون کی تاثیر نہیں کیا ہے پھر جسم میں ...

مزید پڑھیے

معتقد اس بار شاید سرخ رو ہونے کو ہے

معتقد اس بار شاید سرخ رو ہونے کو ہے دوست تھا جو اب تلک وہ بھی عدو ہونے کو ہے در کھلے جاتے ہیں گم گشتہ مکینوں کی طرف ہر کسی کو اپنی اپنی جستجو ہونے کو ہے پربتوں کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے دھواں کیا کوئی آسیب میرے رو بہ رو ہونے کو ہے سرخیوں میں ڈھلتی جاتی ہے سیاہی دم بدم رفتہ رفتہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1758 سے 6203