قومی زبان

کوئی بھی نہیں شہر میں جب ذات کے باہر

کوئی بھی نہیں شہر میں جب ذات کے باہر کیوں بھیڑ یہ رہتی ہے مکانات کے باہر حیرانی و مدہوشی و تسکین و مسرت کچھ بھی تو نہیں قصر طلسمات کے باہر ہر وقت کی یہ خواب کی عادت نہیں اچھی دیدار کو رعنائی دے ظلمات کے باہر آزاد ہے وہ نفس کی تحویل میں راحتؔ اور ہم ہیں گرفتار حوالات کے باہر

مزید پڑھیے

کام آئے گی تری کھوج میں ظلمت ایسی

کام آئے گی تری کھوج میں ظلمت ایسی کس کو معلوم تھا بن جائے گی صورت ایسی بے سبب پڑ گئے ہیں جان کے لالے اب کے بے ضرورت ہی نکل آئی ضرورت ایسی جانے ہو ریت کے صحراؤں کا کیسا عالم جب ہے اس گلشن سرسبز میں وحشت ایسی سانس لیتا تھا تو دیوار گری جاتی تھی رات کچھ خواب میں دیکھی تھی عمارت ...

مزید پڑھیے

اس سے بہتر مری تصویر نہیں ہو سکتی

اس سے بہتر مری تصویر نہیں ہو سکتی ذات بے عیب سے تقصیر نہیں ہو سکتی کچھ تو ہے خاص اسیری میں لطافت ورنہ سب کو درکار یوں زنجیر نہیں ہو سکتی مجھ کو دھندلا سا کوئی خواب نظر آیا ہے اب سحر ہونے میں تاخیر نہیں ہو سکتی اپنی بینائی سے روشن رکھو آنکھیں اپنی ہر کسی غار میں تنویر نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

موج و گرداب پہ رکھتا ہے سفینہ میرا

موج و گرداب پہ رکھتا ہے سفینہ میرا اس کو منظور نہ مرنا ہے نہ جینا میرا مہر افکار کی ہوتی ہے نوازش جب بھی ارض قرطاس پہ گرتا ہے پسینہ میرا مجھ کو آتا ہے عذابوں کا ازالہ کرنا موم ہے تو کبھی فولاد ہے سینہ میرا خادم کوچۂ جاں یہ ہے صداقت میری چند انفاس مقرر ہے مہینہ میرا فاصلے کی ...

مزید پڑھیے

دب گئیں موجیں یکایک جوش میں آنے کے بعد

دب گئیں موجیں یکایک جوش میں آنے کے بعد مٹ گئی طوفاں کی ہستی مجھ سے ٹکرانے کے بعد سختیاں میرے لیے آسانیاں بنتی گئیں شہسوار کربلا کی یاد آ جانے کے بعد دیکھ لی چشم جہاں نے قوت مظلومیت ڈھا گئے خود ظالموں کے گھر ستم ڈھانے کے بعد سعئ حق میں میرے ماتھے کا پسینہ دیکھ کر پانی پانی ہو ...

مزید پڑھیے

جس در پہ ترا نقش کف پا نہ رہے گا

جس در پہ ترا نقش کف پا نہ رہے گا رندوں کے لئے قابل سجدا نہ رہے گا جاتا تو ہے اس جلوہ گہہ ناز میں اے دل کیا ہوگا اگر ضبط کا یارا نہ رہے گا پروانے کو پھونکا ہے تو اے شمع سمجھ لے تیرا بھی کلیجہ کبھی ٹھنڈا نہ رہے گا دیوانے کو زنجیر سے گہرا ہے تعلق کیوں اس کو تری زلف کا سودا نہ رہے ...

مزید پڑھیے

آگہی آئنے تلک ہے کیا

آگہی آئنے تلک ہے کیا خود کے ہونے میں کوئی شک ہے کیا قریہ قریہ بھٹک رہے ہیں لوگ سب کو اندھا کیے چمک ہے کیا منہ پہ آتی ہیں ان کہی باتیں دل میں باقی ابھی کسک ہے کیا اندر اندر سے ہل رہا ہوں میں ہوتی محسوس کچھ دھمک ہے کیا تم جو آنکھوں کو بند رکھتے ہو دیکھ لی اس کی اک جھلک ہے کیا کیوں ...

مزید پڑھیے

رفاقت میں رفیقوں کی ریا کاری بھی شامل ہے

رفاقت میں رفیقوں کی ریا کاری بھی شامل ہے مری آسانیوں میں کار دشواری بھی شامل ہے بجز تصویر گل کے باغ میں دیکھوں تو کیا دیکھوں عقیدت کے اثر میں خود سے بے زاری بھی شامل ہے نقاہت کا ہے غلبہ سو جھکا دیتے ہیں سر اپنا اطاعت کے عمل میں اپنی لاچاری بھی شامل ہے مسلسل بند آنکھوں سے مناظر ...

مزید پڑھیے

احباب ہیں کیوں دنگ مجھے ہی نہیں معلوم

احباب ہیں کیوں دنگ مجھے ہی نہیں معلوم کس سے ہے مری جنگ مجھے ہی نہیں معلوم تابانیٔ جذبات میں آئی ہے کمی کیا پھیکا ہے کیوں ہر رنگ مجھے ہی نہیں معلوم مدت سے میں جو داغ مٹانے میں لگا ہوں کہتے ہیں اسے زنگ مجھے ہی نہیں معلوم دن رات یوں کرتا ہے مجھے کون مقید کیوں کر ہے زمیں تنگ مجھے ہی ...

مزید پڑھیے

بلا کا ذکر کیا یہ موج بھی غنیمت ہے

بلا کا ذکر کیا یہ موج بھی غنیمت ہے تماشا دیکھ رہے ہیں یہی غنیمت ہے کسی کے مال سے کوئی غرض نہیں ہم کو ہماری جیب میں جو ہے وہی غنیمت ہے کھلی ہوئی ہیں جو راہیں تو یہ سمجھ لو تم کہ اپنے شہر کا موسم ابھی غنیمت ہے ہمیں ہے فخر کہ نسبت کے پاسدار ہیں ہم ہمارے واسطے ہر شے بڑی غنیمت ہے خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1757 سے 6203