قومی زبان

راہ سفر میں گرد کبھی ہے کبھی نہیں

راہ سفر میں گرد کبھی ہے کبھی نہیں دل مبتلائے درد کبھی ہے کبھی نہیں حیراں کیے ہیں خلق کو جادو کی بستیاں نام و نشان فرد کبھی ہے کبھی نہیں خوں کی سفیدیوں کا نظارہ ہے مستقل زور ہوائے سرد کبھی ہے کبھی نہیں یہ کیسے حادثات کی صورت ہے شہر میں چہروں کا رنگ زرد کبھی ہے کبھی ...

مزید پڑھیے

جنون کرتا ہے دن رات پائمال مجھے

جنون کرتا ہے دن رات پائمال مجھے ہوائے شہر مرے دشت سے نکال مجھے بنا کے بھول گیا نقش پچھلے چہروں کا پھر ایک شکل کا آنے لگا خیال مجھے بدن کے سائے کو دل کے قریب دیکھتا ہوں یہ آج کس سے بچھڑنے کا ہے ملال مجھے چلا رہا ہوں کرائے پہ آس کی کشتی کبھی تو ڈالنے دے پانیوں میں جال مجھے سر ...

مزید پڑھیے

دل جو ہنستا ہے تو رونے کا گماں ہوتا ہے

دل جو ہنستا ہے تو رونے کا گماں ہوتا ہے خود کو پا کر اسے کھونے کا گماں ہوتا ہے دن کو جب گھر سے نکلتا ہوں تو اکثر مجھ کو سائے کے بوجھ کو ڈھونے کا گماں ہوتا ہے جب بھی آتی ہے مرے صحن میں خوشبوئے گل تیرے گھر کے کسی کونے کا گماں ہوتا ہے اوڑھ لیتا ہوں شراروں کی ردائیں جب میں ریگ صحرا پہ ...

مزید پڑھیے

زمین دن رات جل رہی ہے

زمین دن رات جل رہی ہے تبھی تو شعلے اگل رہی ہے کلام کرتے ہیں لوگ خود سے بھڑاس دل کی نکل رہی ہے ابھی سے کیا فیصلہ کروں میں ابھی تو دنیا بدل رہی ہے قدم بڑھانے کا ہے نتیجہ کہ برف اب کچھ پگھل رہی ہے وہاں تو موسم ہے بارشوں کا ندی یہاں کیوں ابل رہی ہے تم اپنا شوشہ اٹھائے رکھو مری ...

مزید پڑھیے

ربط میں پہلوئے نیرنگ کہاں سے آیا

ربط میں پہلوئے نیرنگ کہاں سے آیا صاحب عرض کو یہ ڈھنگ کہاں سے آیا خوش نما عکس ہوئے خار کی صورت کیسے آئنے سب تھے تو پھر سنگ کہاں سے آیا گرد کی زد میں ہے خوشبو سے مہکتا آنگن خواب میں دہر کا آہنگ کہاں سے آیا سبز ہے وادئ بے آب میں گلشن میرا شب کی تصویر میں یہ رنگ کہاں سے آیا دوست ...

مزید پڑھیے

آگ کیا سرد ہوئی برف کو پانی کر کے

آگ کیا سرد ہوئی برف کو پانی کر کے ہم بھی دریا ہوئے محسوس روانی کر کے پوچھئے کس سے کہ ویران ہوئے گھر کیسے ہر کوئی خوش ہے یہاں نقل مکانی کر کے ان اشاروں کی کنایوں کی حقیقت معلوم ہم نے الفاظ کو دیکھا تھا معانی کر کے اک نئے دن کی شروعات ہوئی جاتی ہے قافلو آگے بڑھو ختم کہانی کر ...

مزید پڑھیے

جب سے جانا ہے غم زیست سے حاصل کیا ہے

جب سے جانا ہے غم زیست سے حاصل کیا ہے میں یہی سوچ رہا ہوں متبادل کیا ہے خواب آنکھوں میں بسائے تو ہوئی یہ خواہش کوئی ہم سے بھی یہ پوچھے کہ غم دل کیا ہے لوگ ہر قید سے آزاد ہوئے جاتے ہیں پوچھئے کس سے کہ اب کار سلاسل کیا ہے کس کو فرصت ہے کرے ہم کو جو زندہ ثابت بس یہی ایک وکیل اپنا ہے ...

مزید پڑھیے

شیش محل میں دو پل کو مہمان ہوئے تھے ہم (ردیف .. ن)

شیش محل میں دو پل کو مہمان ہوئے تھے ہم آئینے میں اب تک اپنا چہرہ ڈھونڈتے ہیں نئی عمارت کے سائے میں کیسا ہے یہ ڈھیر لوگ پرانے اس میں اپنی دنیا ڈھونڈتے ہیں پیاس کہاں لگتی ہے اس طوفانی موسم میں پھر بھی جنگل میں سب آہو دریا ڈھونڈتے ہیں بستی خود ہو جاتی ہے ویرانے میں تبدیل جوش جنوں ...

مزید پڑھیے

تجھے ہے شوق زباں پر جو قند رکھنے کا

تجھے ہے شوق زباں پر جو قند رکھنے کا دے اختیار مجھے بھی پسند رکھنے کا پکارتی ہیں مرے دل کی پستیاں مجھ کو یہی تو وقت ہے رتبہ بلند رکھنے کا اسی جہاد میں گزری ہے زندگی اپنی کیا ہے روز ارادہ سمند رکھنے کا بلند میخ سے خوابوں کی رسیاں باندھو دیا ہے رات نے موقع کمند رکھنے کا ہمیں سے ...

مزید پڑھیے

ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے

ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے میری زمیں ملے گی گلے آسمان سے سینے میں ہیں خلا کے وہ محفوظ آج بھی جو حرف ادا ہوئے ہیں ہماری زبان سے وہ میرے ہی قبیلے کا باغی نہ ہو کہیں اک تیر ادھر کو آیا ہے جس کی کمان سے صیاد نے کیا ہے اسی کو اسیر دام طائر جو دل گرفتہ رہا ہے اڑان سے ناکامیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1759 سے 6203