قومی زبان

ایک نظم

فکر کی دوڑ میں تم دور نکل آئے ہو اپنی منزل کو بہت پیچھے ہی چھوڑ آئے ہو کہیں ایسا نہ ہو کل تم کو پلٹنا پڑے منزل کی طرف اور پھر تاب و تواں ساتھ نہ دے حسن بیاں ساتھ نہ دے خامہ انگشت بدنداں رہ جائے انگلیاں ساکت و جامد ہو جائیں پاؤں تھرانے لگیں اور منزل تو کجا نقش کف پا نہ ملے

مزید پڑھیے

بیوہ

آج لے رشتۂ پیمان وفا ٹوٹ گیا تجھ سے اب تیرے تصور کا خدا روٹھ گیا اب کوئی کاگا منڈیری پہ نہیں بولے گا کوئی ہرکارہ ترا خط بھی نہیں لائے گا کوئی پیغام زبانی بھی نہیں آئے گا لوگ اب زخم پہ مرہم بھی نہ رکھنے دیں گے دن بہ دن زخم ترے اور بھی گہرے ہوں گے تیری ہر راہ کے ہر موڑ پہ پہرے ہوں ...

مزید پڑھیے

زندگی ہی سے گزر جائیں گے

زندگی ہی سے گزر جائیں گے تجھ سے بچھڑیں گے تو مر جائیں گے خشک پتے ہیں ہوا کیا دیں گے ٹھیس لگتے ہی بکھر جائیں گے صبح نکلے ہیں جو اپنے گھر سے کیا خبر شام کو گھر جائیں گے اب شکستہ ہے کتاب ہستی اب یہ اوراق بکھر جائیں گے مر کے بھی مر نہیں سکتے رحمتؔ ہم کتابوں میں بکھر جائیں گے

مزید پڑھیے

خرد کا لفظ جنوں کی کتاب میں نہ لکھو

خرد کا لفظ جنوں کی کتاب میں نہ لکھو کسی کا جرم کسی کے حساب میں نہ لکھو قلم لہو میں ڈبو کر لکھو جو لکھنا ہے مگر قلم کو ڈبو کر شراب میں نہ لکھو جوان نسل غلط رائے اخذ کر لے گی کہانیوں کو حقیقت کے باب میں نہ لکھو ہمارے شعر کہاں فکر و فن سے تابندہ ہمارے شعر ابھی انتخاب میں نہ ...

مزید پڑھیے

بجھائی ہے تری نظروں سے اکثر تشنگی میں نے

بجھائی ہے تری نظروں سے اکثر تشنگی میں نے کیا ہے مدتوں اس طرح شغل مے کشی میں نے خوشا وہ مرحلے جن مرحلوں میں جیسے گھبرا کر مجھے آواز دی تم نے تمہیں آواز دی میں نے مری دیوانگی کو اہل ایماں کفر کہتے ہیں بنایا ہے بہت اونچا مقام بندگی میں نے اب اس کو انتہائے ذوق کہیے یا جنوں کہیے وہ ...

مزید پڑھیے

حادثوں ہی میں زندگی جی ہے

حادثوں ہی میں زندگی جی ہے ہم نے قسطوں میں خودکشی کی ہے جھک کے جینا ہمیں نہیں آتا اور آواز بھی کچھ اونچی ہے آپ سے کچھ گلا نہیں صاحب اپنی تقدیر ہی کچھ ایسی ہے شعر پڑھنا یہاں سنبھل کے میاں اور بستی نہیں یہ دلی ہے چہرہ اس کا کتاب جیسا ہے اور رنگت گلاب کی سی ہے ہم نے رحمتؔ غزل کے ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کا نگر چھوڑ آئے

آرزوؤں کا نگر چھوڑ آئے ناز تھا جس پہ وہ گھر چھوڑ آئے اک تری یاد بچا کر رکھ لی سارا سامان سفر چھوڑ آئے مدتوں یاد رکھے گی دنیا ہم بھی اک ایسا ہنر چھوڑ آئے گھر کے باہر بھی اداسی نہ گئی گھر سے گھبرا کے جو گھر چھوڑ آئے تھک گئے جب کوئی کھڑکی نہ کھلی ہم وہیں دیدۂ تر چھوڑ آئے اس کو آتے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص جو ہم سے کبھی ملا بھی نہیں

وہ ایک شخص جو ہم سے کبھی ملا بھی نہیں ہمارے ساتھ ہے اور ہم سے وہ جدا بھی نہیں قلم اٹھاؤ تو کاغذ سے وہ ابھرتا ہے دل و دماغ سے یہ ربط ٹوٹتا بھی نہیں سجے تو کیسے سجے انجمن خیالوں کی وہ بادہ کش بھی نہیں اب وہ میکدہ بھی نہیں بغیر برسے گھٹائیں گزر گئیں اب کے یوں ہی چلا گیا موسم نے کچھ ...

مزید پڑھیے

اس طرف چشم التفات نہیں

اس طرف چشم التفات نہیں جائیے خیر کوئی بات نہیں شیخ یہ موسم بہاراں ہے ان دنوں خون خواہشات نہیں یوں وہ ملنے کو اب بھی ملتے ہیں پر وہ پہلا سا التفات نہیں صرف اپنے ہی واسطے جینا اپنا یہ مقصد حیات نہیں رنج ہو یا خوشی ہو اے رحمتؔ کوئی شے ہو یہاں ثبات نہیں

مزید پڑھیے

نہیں جو دولت زاد سفر تو کیا غم ہے

نہیں جو دولت زاد سفر تو کیا غم ہے یہی متاع بہت ہے کہ عزم محکم ہے قدم قدم پہ حوادث قدم قدم خطرے بتا رہے ہیں کہ منزل کا فاصلہ کم ہے یہ میکدے کے ہیں بانی انہیں شراب نہ دو حضور جرم بڑا ہے سزا بہت کم ہے ہماری بات ہی کیا تھی رہی رہی نہ رہی تمہاری بات تو رکھ لی ہے کیا یہ کچھ کم ہے ہیں اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1755 سے 6203