قومی زبان

لوٹ لے سرمایۂ دل لوٹ لے

لوٹ لے سرمایۂ دل لوٹ لے اے فریب‌ چشم قاتل لوٹ لے مجھ سے فیاض محبت ہے کوئی کہہ رہا ہوں خود مرا دل لوٹ لے یہ تمنا ہے کہ کوئی راہزن کاروان منزل دل لوٹ لے لطف جب ہے تیری دزدیدہ نظر آنکھ ملتے ہی مرا دل لوٹ لے صورت پروانہ ہوں میں بزم میں مجھ کو تو اے شمع محفل لوٹ لے حسن کی آزادیوں کا ...

مزید پڑھیے

قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعد

قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعد لائے گا رنگ خون شہیداں حنا کے بعد ہوتا ہے انقلاب جہاں ہر ادا کے بعد بے باک بھی بنوگے کبھی تم حیا کے بعد لائے ہیں پھول اہل محبت کی قبر پر کیا یاد آ گیا انہیں ترک جفا کے بعد کعبہ میں مجھ سے شان بتاں پوچھتے ہو شیخ توبہ میں ان کا ذکر کروں گا خدا کے ...

مزید پڑھیے

کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیں

کس میں خوبی ہے جلانے میں کہ جل جانے ہیں شمع میں سوز زیادہ ہے کہ پروانے میں لذت درد کو اک خار میسر نہ ہوا دل کا کانٹا نہ نکالا گیا ویرانے میں میرے پر درد بیاں نے مجھے مرنے نہ دیا موت کو نیند سی آئی مرے افسانے میں آب کوثر تو نہ تھا چشم سیہ میں تیری پڑ گئی جان تجھے دیکھ کے دیوانے ...

مزید پڑھیے

نغمۂ دل سوز

ہے مزاج اس وقت کچھ بگڑا ہوا صیاد کا اے اسیران قفس موقع نہیں فریاد کا کتنا درد آمیز تھا نغمہ دل ناشاد کا تیر ترکش میں تڑپ اٹھا ستم ایجاد کا داستان‌ عالم فرقت کسی سے کیا کہیں ہو گیا برباد ہر ذرہ دل ناشاد کا آپ کو ملنا نہیں منظور لو مرتا ہوں میں منتظر بیٹھا ہوا تھا آپ کے ارشاد ...

مزید پڑھیے

منہ سے گو وہ کچھ نہ کہیں پر آنکھیں سب کچھ بولیں ہیں

منہ سے گو وہ کچھ نہ کہیں پر آنکھیں سب کچھ بولیں ہیں اب تو وہ بھی تنہائی میں چپکے چپکے رو لیں ہیں ہم نے سعیٔ ضبط بہت کی آنسو پھر بھی آ ہی گئے ان اشکوں کا یار برا ہو راز دل سب کھولیں ہیں کون سنے گا کس کو فرصت کس کو سنائیں کس سے کہیں اب تو ہم دکھ درد بھی اپنا غزلوں ہی میں سمو لیں ...

مزید پڑھیے

محبت زندگی کی اک کڑی ہے

محبت زندگی کی اک کڑی ہے مگر اس راہ میں مشکل بڑی ہے کبھی ہونٹوں پہ رقصاں ہے تبسم کبھی آنکھوں سے ساون کی جھڑی ہے تمہارا ذکر تھا اور آ گئے تم تمہاری عمر بھی کتنی بڑی ہے کہیں تو مل ہی جائے گا ٹھکانہ ارے اتنی بڑی دنیا پڑی ہے غزل اور تنگ دامانی کا شکوہ سلیقہ ہو تو گنجائش بڑی ہے نہ ...

مزید پڑھیے

وفا کا رنگ جو گہرا دکھائی دیتا ہے

وفا کا رنگ جو گہرا دکھائی دیتا ہے لہو کچھ اس میں ہمارا دکھائی دیتا ہے ہمارا غم سے تعلق بہت پرانا ہے ہمارا درد سے رشتہ دکھائی دیتا ہے غزل ہو دار و رسن ہو کہ بزم خوباں ہو ہر اک جگہ وہی چہرہ دکھائی دیتا ہے کسی زمانے میں یاروں کا یار تھا وہ بھی وہ ایک شخص جو تنہا دکھائی دیتا ہے چلے ...

مزید پڑھیے

مبہم نگارشات کو فن کہہ دیا گیا

مبہم نگارشات کو فن کہہ دیا گیا بنجر زمیں کو شہر سخن کہہ دیا گیا ہے اب بھی ان کے نام سے روشن بساط شعر وہ جن کو اعتبار سخن کہہ دیا گیا کتنے ہی باغبانوں کے چہرے اتر گئے بگڑا ہوا جو نظم چمن کہہ دیا گیا خاشاک کو کہا گیا نسرین و نسترن کانٹے اگے تو سرو سمن کہہ دیا گیا ہم نے بھی کھردرے ...

مزید پڑھیے

ان کے سوا کسی کو نہ دیکھا کریں گے ہم

ان کے سوا کسی کو نہ دیکھا کریں گے ہم آئینۂ نظر کو نہ میلا کریں گے ہم لو غم کی زندگی بھی ہمیں راس آ گئی لو اب کبھی نہ آپ سے شکوہ کریں گے ہم چرکے بہت دئے ہیں وفاؤں کے رنگ میں اپنوں پہ اب کبھی نہ بھروسہ کریں گے ہم رسوائیوں کے خوف سے آنسو بھی پی گئے یہ کس نے کہہ دیا تمہیں رسوا کریں گے ...

مزید پڑھیے

مشورہ

اتھلے پانی میں گہر مت ڈھونڈو رائیگاں جائے گی محنت ساری اتھلے پانی کی طرف مت دیکھو سنگ ریزوں کے سوا کیا ہوگا یوں کھڑے دور سے کیا تکتے ہو بحر کی تہہ میں نہاں ہیں موتی در مقصود ہیں گہرائی میں ہو جو غواص تو تہ تک پہنچو یا تو غرقاب ہی ہو جاؤ گے ورنہ لے آؤ گے چن کر موتی

مزید پڑھیے
صفحہ 1754 سے 6203